متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
نماز
1
سوال : مفتی ساحب یہ ارشاد فرمادیں میں نے ایک مسجد میں امامت شروع کی ہے ، کیا امام کو امامت کے لئے نیت کے الفاظ کہنا ضروری ہے ، اگر ہے تو میں کن الفاظ کے ساتھ امامت کی نیت کروں ؟
24 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : نیت دل کے ارادے کا نام ہے ، آپ صرف دل میں اتنی نیت کرلیں کہ " میں فلاں نماز کی امامت کی نیت کرتا ہوں " دل میں اتنی نیت ہو تو کافی ہے ، آپ کو زبان سے کہنے کی ضرورت نہیں ہے البتہ زبان سے نیت کرلینا افضل ہے ۔
صاحب بہار شریعت مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : امام کو نیت امامت مقتدی کی نماز صحیح ہونے کے لیے ضروری نہیں، یہاں تک کہ اگر امام نے قصد کر لیا کہ میں فلاں کا امام نہیں ہوں اور اس نے اس کی اقتدا کی نماز پڑھ لی، امام کی نیت نہ کرنے کے باوجود وہ شخص جماعت میں شامل ہو جائے گا اور ثواب جماعت حاصل ہو جائے گا۔(بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 495، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم