سوالنحو1 جواب

ان دونوں اسباق استفہام اور شرط کا اعراب کتاب میں اس طرح لکھ ہے کہ (اگر اسم استفہام یا اسم شرط کے بعد ایسا فعل ہو جو آن پر عمل کر رہا ہو تو یہ دونوں محلا منصوبے ہوں گے اور اگر ان سے پہلے حرف جر یا مضاف ہو تو یہ محلا مجرور ہو گے اگر یہ دونوں صورتیں نی پائی جائے تو یہ محلا مرفوع ہو گئے) اب اس میں بات یہ سمجھ نہیں آئی کہ کون سا فعل عمل کرتا ہے اور ہمیں کیسے پتا چلاے گا کہ یہاں فعل عمل کر رہا ہے یہ مکمل تفصیل سمجھا دے بڑی مہربانی ہوگی

Muhammad ZulqarnainMuhammad Zulqarnain2 نومبر، 2024

جواب دہندہ

شہزاد عابد
شہزاد عابد

اسلامک ڈیسک معاون

راجن پور،روجھان

اسم استفہام کے بعد دو صورتیں ہیں فعل ہوگا یا اسم فعل ہو تو دو صورتیں ہوں گی متعدی ہوگا یا لازم متعدی ہو تو دو صورتیں ہیں متعدی کا اگر مفعول بہ نا ہو تو اسم استفہام منصوب ہوگا مفعول بہ ہونے کی وجہ سے اور اگر لازم یا متعدی جس کا مفعول بہ آ رہا ہو تو اس صورت میں مرفوع ہوگا مبتدا ہونے کی وجہ سے اگر اسم استفہام کے بعد اسم آ رہا ہو تو اس کی پہچان کا طریقہ یہ ہے کہ اس کا جواب دیکھیں اسم استفہام کی جگہ جو اسم آ رہا ہوگا اس کا جو اعراب ہوگا وہی اعراب اسم استفہام کا ہوگا جیسے من انت ؟ کا جواب آئے گا أنا زید تو اس صورت میں انت کی جگہ جواب میں انا ضمیر آ گئی اور من کی جگہ زید نے لے لی تو زید جواب والے جملے میں خبر بن رہا ہے تو سمجھیں کہ سوال والے والے جملے میں من بھی خبر مقدم بنے گا ایک طریقہ یہ تھا ورنہ آپ مبتدا اسم استفہام کو بنا سکتے ہیں یہ قواعد ان اسماء استفہام کے ہوں گے جو ظروف نا ہوں جو ظروف ہوں گے وہ مفعول فیہ بنتے ہیں اگر فعل ہو تو فعل کا ورنہ محذوف نکالیں گے بلکل یہی قواعد اسماء شرط کے بھی ہوں گے