سوالنحو1 جواب
جواب دہندہ

در اصل اسم کلمہ کی ایک قسم ہے۔۔۔ جس کی تعریف ہے کہ ایسا کلمہ جو اپنا معنی خود بتائے اور اس میں کوئی زمانہ موجود نہ ہو۔
اب اس اسم کی علم صرف کے تحت دو قسمیں بنتی ہیں جن میں اشتقاق و عدم اشتقاق کا لحاظ ہوتا ہے۔۔۔
جو مصادر ہوتے ہیں وہ آتے ہیں اسم جامد کے تحت لیکن اس جامد میں ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ اس اسم میں خالص وصفی معنی پائے جاتے ہیں۔۔۔ تو ایسے اسم کو مصدر کہا جاتا ہے۔۔۔
تو اب سمجھیں کہ مصدر اسم تو ہوتا ہے لیکن کلمہ کی قسم کے تحت نہیں بلکہ خود اسم کی تقسیم کے تحت۔