متعلقہ سوالات
نحو
1
کون سے افعال کو دو مفعول کی ضرورت ہوتی ہے
5 اکتوبر، 2025Zakir Ahmed Zakir Ahmed
جواب دہندہ
Q
افعال قلوب: ظَنَّ، حَسِبَ، خَالَ، زَعَمَ، عَلِمَ، رَأٰی، وَجَدَ؛ ان کے دونوں مفعول اصل میں مبتدا اور خبر ہوتے ہیں، جیسے عَلِمْتُ زَیْدًا فَاضِلًا
افعال تحویل (صَیَّرَ، جَعَلَ، اِتَّخَذَ) بھی اسی طرح دو مفعول لیتے ہیں، جیسے جَعَلْتُ الطِّیْنَ خَزَفًا
باب اَعْطٰی: اَعْطٰی، کَسَا، مَنَحَ، سَأَلَ؛ ان کے دونوں مفعول مبتدا خبر نہیں ہوتے، جیسے اَعْطَیْتُ زَیْدًا دِرْھَمًا
اور اَعْلَمَ، اَرٰی، اَنْبَأَ وغیرہ تین مفعول لیتے ہیں