متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
قرآن و حدیث
1
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارےمیں کہ :” اطلبوا العلم من المهد إلى اللحد“یعنی ماں کی گود سے قبر تک علم حاصل کرو ۔کیا یہ حدیث ہے یا کسی بزرگ کا قول ہے؟ بعض لوگ اسے بطورِ حدیث شیئر کر رہے ہوتے ہیں۔ شرعی رہنمائی فرما دیں۔
24 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
سوال میں ذکر کردہ الفاظ معتمد کتبِ حدیث میں تلاش کے باوجود نہیں مل سکے۔ لہذا اس قول کو حدیث نہیں کہا جا سکتا، البتہ اس مضمون پر مشتمل مختلف اقوال بزرگوں سے منقول ہیں۔ جب تک کنفرم نہ ہو جائے، کسی بھی بات کو بطورِ حدیثِ پاک آگے شیئر نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ غیر ثابت شدہ بات حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی طرف قصداً منسوب کرنا حرام ہے، حدیث ِ مبارک میں اس پر سخت وعید ارشاد فرمائی گئی ہے۔
تفسیر نیشاپوری میں ہے:"” قيل فی تحديد مدة طلب العلم، إنه من المهد إلى اللحد“"یعنی:طلبِ علم کی مدت کی حد کے بارےمیں کہا گیا کہ مہد سے لے کر لحد تک ہے۔(تفسير النيسابوری، جلد4،صفحہ 237، دار الكتب العلميه بيروت)
مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:”صوفیاء فرماتے ہیں: "اطلبوا العلم من المهد إلى اللحد“" یعنی گہوارہ سے قبر تک علم سیکھو ۔ (مراٰۃ المناجیح ، جلد1، صفحہ 203، مطبوعہ لاھور)
مَن گھڑت بات حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف قصداً منسوب کرنے کی حدیث ِ مبارک میں سخت وعید ارشاد فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے: نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"’’من کذب علی متعمدا فلیتبوأ مقعدہ من النار‘"‘ترجمہ : جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا،وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔
(صحیح البخاری، جلد 1، صفحہ 33، مطبوعہ مصر)