سوالنحو1 جواب

مفعول معه وه اسم ہے کہ واؤ بمعنی مع کے بعد آیا ہو اور فعل کے فاعل کیساتھ فعل کے وقوع میں شامل ہو ،یا فعل کے مفعول کیساتھ فعل کے صدور میں شامل ہو زمان اور مکان کے اتحاد کے ساتھ ، میری کتاب میں مثال لکھا ہے جاء زیدٌ و الکتابَ یہاں پر کتاب فاعل کیساتھ فعل کے وقوع میں شریک نہیں ہے اور دونوں کا اعراب بھی مختلف ہے پلیز آپ سمجھا دے کہ یہ مثال اس تعریف پر فٹ آجاۓ یا پھر اگر میرے تعریف میں کوئی غلطی ہو تو اسے درست کردے

وجیھا15 نومبر، 2025

جواب دہندہ

شہزاد عابد
شہزاد عابد

اسلامک ڈیسک معاون

راجن پور،روجھان

·

مفعول معہ میں معیت کا معنی ہوتا ہے یعنی مفعول فاعل سے فعل کے صدور کے وقت فاعل کے ساتھ تھا اور اس فعل میں بھی شریک تھا تو مذکورہ مثال میں زید کتاب کے ساتھ آیا تو یہاں انے کا فعل زید سے صادر ہوا ہے مگر کتاب بھی اسی کے ساتھ آئی ہے تو کتاب بھی صدور فعل میں فاعل کے ساتھ تھی