متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
وقف کے مسائل
1
مسجد کا پیسہ عید گاہ میں لگانا کیسا ہے؟ مسجد کے لیے دو لاکھ اکٹھا ہیں اور مسجد میں کوئی کام نہیں ہے تو کیا مسجد کا پیسہ عید گاہ میں ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے؟ یعنی عید گاہ میں لگایا جاسکتا ہے کہ نہیں ؟
21 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
مسجد کا پیسہ عید گاہ میں لگانا جائز نہیں ہے نہ تو قرض کے طور پر اور نہ ہی ہبہ و تملیک کے طور پر ۔شامی وغیرہ میں یہ جزئیہ موجود ہے:
لا یجوز نقله ولا نقل مالہ الی مسجد آخر .
مسجد کا سامان اوراس کا مال دوسری مسجد میں منتقل کرنا جائز نہیں، تو عید گاہ میں منتقل کرنا بدرجۂ اولیٰ نا جائز ہوگا ۔
عالمگیری وغیرہ میں یہ جزئیہ موجود ہے، کہ مسجد کی چٹائی عید گاہ کو عاریت کے طور پر دینا جائز نہیں ہے۔ عاریت کا مطلب کہ عید گاہ میں لے کر گئے ، بچھائے، نماز پڑھی پھر مسجد کو واپس کر دیا ۔یہ جائز نہیں ہے۔ تو مسجد کا دولا کھ روپیہ عید گاہ کو دے دینا یہ بدرجۂ اولیٰ ناجائز و گناہ ہے ۔ اس سے بچا جائے۔ واللہ تعالٰی اعلم