متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
میت اور جنازے کے احکام
1
سوال: مشہور ہے کہ میت والے گھر میں چولہا نہیں جلنا چاہیئے ، میت والے گھر میں کھانا نہیں پکنا چاہیئے اس کی شرعی کیا حیثیت ہے ؟
16 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : ایسا حکم شرع میں کہی بھی نہیں دیا گیا ہاں یہ ضرور ہے کہ پڑوسیوں اور رشتے داروں کو کہا گیا ہے کہ وہ ان تک کھانا پہنچائیں کہ جن پر غم کی کیفیت ہے ، ان کی کھانے کی طرف توجہ نہیں ہے ، ان کو باصرار کھانا کھلائیں ۔ لوگوں نے اس سے یہ سمجھ لیا کہ میت کے گھر میں چولہا نہ جلے اس کے گھر کھانا نہ بنے ۔ یہ حکم بھی پڑوسیوں اور رشتہ داروں کو ایک دن کا ہے ، اس کے بعد حسب معمول میت کے گھر میں کھانا وغیرہ بنایا جائے ۔
جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ غزوہ موتہ میں شہید ہوگئے اور ان کے شہید ہونے کی خبر آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم ارشاد فرمایا: اصنعوا لاھل جعفر طعاماً ، فانہ قد جاء ھم ما یشغلھم ترجمہ ؛ جعفر کے گھر والوں کے لئے کھانا تیار کرو بے شک انہیں ایساچیز پہنچی ہے جس نے انہیں مشغول رکھا ہے۔
( جامع الترمذی ، جلد 01، حدیث نمبر 998، صفحہ 446 مکتبہ الطاف اینڈ سنز)
علامہ ابن عابدین شامی علیہ لارحمہ فرماتے ہیں : ویستحب لجیران اھل المیت والاقرباء الاباعد تھیئۃ طعام لھم یشبعھم یومھم ولیلتھمترجمہ :پڑوسیوں اور دور کے رشتے داروں کے لئے یہ مستحب ہے کہ میت کے گھر والوں کے لئے ایک دن اور ایک رات کا کھانا تیار کرکے انہیں (باصرار) کھلائیں ۔ ( ردالمحتار علی الدرمختار، جلد 03، صفحہ 104، مطبوعہ لاہور)
مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:متّط کے پڑوسایا دور کے رشتہ دار اگر متّم کے گھر والوں کے لےچ اُس دن اور رات کے لےع کھانا لائں4 تو بہتر ہے اور انھںا اصرار کرکے کھلائںا۔
( بہارشریعت، جلد 01، حصہ 04، صفحہ 853، مسئلہ نمبر 7، مکتبۃ المدینہ)