متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
میت اور جنازے کے احکام
1
سوال : میت کے ناخن اگر بڑھے ہوئے ہو یا میت کے اضافی بال ہو تو کیا انہیں کاٹ سکتے ہیں ؟
16 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : شرعی حکم یہ ہے کہ ایسی کوئی تزیین و آرائش نہ کی جائے البتہ کوئی ایسا ناخن تھا جو ٹوٹنے کے قریب تھا تو اس صورت میں اسے نکال لینے میں کوئی حرج نہیں ؛ میت کی تزیین و آرائش یہی ہے کہ اسے غسل دیا جائے ،اچھا کفن دیا جائے ، خوشبو لگائی جائے وغیرہ ، اسی کے مطابق عمل کرنا چاہیئے ۔
میت کے ناخن اور بالوں کے حوالے سے علامہ علاء الدین حصکفی علیہ الرحمہ فر ماتے ہیں : ولایسرح شعرہ یکرہ تحریماً ولا یقص ظفرہ الامکسور ولا شعرہترجمہ : میت کے بالوں میں کنگھی نہیں کی جائیگی یہ مکروہ ِ تحریمی ہے اور نہ ہی اس کے ناخن کاٹے جائینگے سوائے اس ناخن کے جو پہلے ہی ٹوٹا ہو اور نہ ہی بال کاٹے جائینگے ۔
علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ "یکرہ تحریما ً"کے تحت فرماتے ہیں : ان التزیین بعد موتھا والامتشاط وقطع الشعر لایجوزترجمہ : مرنے کے بعد میت کی تزیین و آرائش کرنا ، اس کے بالوں میں کنگھی کرنا ، اور بال کاٹنا یہ جائز نہیں ہے ۔
( ردالمحتار علی الدرمختار، جلد 03، صفحہ 104، مطبوعہ لاہور)