سوال1 جواب

میں نماز کے لئے مسجد پہنچا ،تو امام صاحب رکوع میں تھے،میں نے جلدی سے تکبیر کہی اور بغیر ہاتھ باندھے رکوع میں چلا گیا،نماز کے بعد برابر میں کھڑے نے کہا کہ آپ کو تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ کر رکوع میں جانا چاہیئے تھا۔کیا اس کا کہناٹھیک ہے؟

مفتی محمد شعیب عباسی1 جون، 2024

جواب دہندہ

م
مفتی محمد شعیب عباسی

اسلامک ڈیسک معاون

Karachi

·

اس شخص نےجو مسئلہ بیان کیا وہ مکمل نہیں،اصل مسئلہ یہ ہےکہ،جماعت میں شامل ہونے والا شخص اگر جانتا ہو کہ امام صاحب اتنا وقت لگاتے ہیں کہ ،تکبیرکے بعد ثنا مکمل پڑھ کر رکوع میں شامل ہو جائے گا،تو اس کے لئےسنت ہےکہ تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھے اور ثنا پڑھ کرررکوع میں چلاجائےاوراگر گمان ہو کہ ثنا پڑھنے کی صورت میں امام صاحب رکوع سے اٹھ جائیں گے ،تو تکیبر تحریمہ کہہ کر ہاتھ باندھے بغیر،فوراً دوسری تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے۔البتہ اآپ نے جو طریقہ اختیار کیا ہے،اس سے نماز پر کوئی اثر نہ ہوگا،نماز درست ہوگئی۔