سوالنحو1 جواب
جواب دہندہ
محترم المقام
اس سوال کا جواب دو قاعدوں پر مشتمل ہے
اول : جب مؤنث لفظی فاعل ظاہر ہو تو فعل مذکر و مؤنث دونوں طرح لا سکتے ہیں
دوم : اور اگر فاعل ظاہر نا ہو بلکہ ضمیر ہو جو مؤنث سماعی کی طرف لوٹ رہی ہو تو پھر فعل کو مؤنث لانا واجب ہے
آپ کی پیش کردہ مثال کا تجزیہ
اسجدوا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے اس کا فاعل واؤ ضمیر ہے نا کہ ھن جیسا کہ آپ نے فرمایا
اب دوسرے قاعدے کے مطابق یہاں فعل مؤنث ہونا چاہئے تھا لیکن مذکر کیوں ہے ؟
تو یاد رہے کہ دوسرے قاعدے کی شرط ہے کہ "ضمیر راجع ہو مؤنث سماعی کی طرف" جو کہ یہاں راجع نہیں ہے کیوں کہ ضمیر حاضر و متکلم راجع نہیں ہوتیں بلکہ صرف ضمیر غائب ہی راجع ہوتی ہے
تو یہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ فاعل ظاہر کے حکم میں ہے