سوالنحو1 جواب

میں یہ سوال ایک بار پھرکر رہا ہو کہ قرآن کی اس آیت میں "و اذقلنا لالملاءکة اسجدوا لآدم فسجدوا الا ابلیس" اس آیت میں فسجدوا جمع مزکر کا صیغہ ہے اور ان کا فاعل ھن ضمیر ہے جو ملاءکة کی طرف راجع ہے حالانکہ ملاءکة بظاھر لفظوں میں مؤنث کے حکم میں ہے تو پھر فسجدوا مزکر کا صیغہ کیوں استعمال ہوا ہے اور فاعل بھی ظاھر نہیں ضمیر ہے

Abdull SalamAbdull Salam14 مئی، 2025

جواب دہندہ

شہزاد عابد
شہزاد عابد

اسلامک ڈیسک معاون

راجن پور،روجھان

·

محترم المقام اس سوال کا جواب دو قاعدوں پر مشتمل ہے اول : جب مؤنث لفظی فاعل ظاہر ہو تو فعل مذکر و مؤنث دونوں طرح لا سکتے ہیں دوم : اور اگر فاعل ظاہر نا ہو بلکہ ضمیر ہو جو مؤنث سماعی کی طرف لوٹ رہی ہو تو پھر فعل کو مؤنث لانا واجب ہے آپ کی پیش کردہ مثال کا تجزیہ اسجدوا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے اس کا فاعل واؤ ضمیر ہے نا کہ ھن جیسا کہ آپ نے فرمایا اب دوسرے قاعدے کے مطابق یہاں فعل مؤنث ہونا چاہئے تھا لیکن مذکر کیوں ہے ؟ تو یاد رہے کہ دوسرے قاعدے کی شرط ہے کہ "ضمیر راجع ہو مؤنث سماعی کی طرف" جو کہ یہاں راجع نہیں ہے کیوں کہ ضمیر حاضر و متکلم راجع نہیں ہوتیں بلکہ صرف ضمیر غائب ہی راجع ہوتی ہے تو یہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ فاعل ظاہر کے حکم میں ہے