متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
قرآن و حدیث
1
پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا" میری امت شرک نہیں کرے گی" لیکن امت میں مشرکین و مرتدین بھی ہیں تو اس حدیث مبارک کی کیا وضاحت ہوگی ؟
24 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان" واللہ ما اخاف علیکم ان تشرکوا بعدی"(خدا کی قسم میں تم پر یہ خوف نہیں کرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے)اس کی وضاحت کرتے ہوئے محدثین کرام فرماتے ہیں کہ:
اس سے مراد یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ساری امت ایک دم مشرک ہو جائے، ایسا قیامت تک نہیں ہوسکتا ۔ہاں کچھ بستیوں والے یا کچھ افراد مشرک و مرتد ہوجائیں گے۔
دیکھیے!اس امت کے کچھ گروہ کی بد عقیدگیاں حدِ کفر و ارتداد تک پہنچ چکی ہیں،اورحدیث پاک کے مطابق قبیلہ دوس کی عورتیں شرک میں مبتلاہوں گی (نعوذباللہ من ذلک) تو حدیث مبارک کا یہ معنی نہیں کہ اس امت میں کوئی مرتد ہو ہی نہیں سکتا۔
علامہ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں فرماتے ہیں: "”قوله ( ما أخاف عليكم أن تشركوا ) أى على مجموعكم ، لأن ذلك قد وقع من البعض اعاذنا اللہ تعالى“" ترجمہ: حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد " مجھے تم پر شرک کا خوف نہیں" یعنی تمہارے مجموعے پر کیونکہ بعض سے شرک واقع ہوا ہےاللہ پاک اس سے ہمیں پناہ دے۔(فتح الباری شرح صحیح البخاری، ج 3 ،ص 251، تحت الحدیث 1344، الناشر: دار المعرفة - بيروت،)
شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفی اعظمی علیہ الرحمۃ مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ" "وانی والله مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِی" " یعنی خدا کی قسم میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ مجھے اپنے بعد تمہارے مشرک ہو جانے کا کوئی خوف نہیں ہے، حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس حدیث میں غیب کی خبر دے رہے ہیں کہ میری امت قیامت تک مشرک نہیں ہوگی اور اس امت میں شرک نہیں پھیلے گا۔اگر چہ بعض حدیثوں میں آیا ہے کہ اس وقت تک قیامت نہیں قائم ہوگی جب تک کہ قبیلہ دوس کی عورتیں بتوں کا طواف نہ کریں گی۔ ان دونوں حدیثوں میں تطبیق اس طرح دی جائے گی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے ارشاد کا یہ مطلب ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ساری امت ایک دم مشرک ہو جائے ایسا تو قیامت تک نہیں ہو گا، لیکن کہیں کہیں کچھ بستیوں والے یا کچھ افراد شرک میں مبتلا ہو جا ئیں ایسا ہو سکتا ہے، چنانچہ قبیلہ دوس کی عورتوں میں شرک پھیل جائے گا جیسا کہ بعض حدیثوں میں آیا ہے۔(منتخب حدیثیں ،ص 206،207، حدیث 31، مکتبۃ المدینہ)