سوالنحو1 جواب

مبتدا اور خبر کا بیان ؟

M Ammar13 اگست، 2024

جواب دہندہ

اریب احمد خان
اریب احمد خان

اسلامک ڈیسک معاون

Karachi

·

جس جملے کا پہلا جزء اسم ہوا سے جملہ اسمیہ کہتے ہیں: الله كَرِيمٌ. قواعد وفوائد: 1 جملہ اسمیہ کے پہلے جزء کو مبتدا یا مسند الیہ (۴) کہتے ہیں اور دوسرے جزء کو مبتدا کی خبر یا مسند کہتے ہیں: اللهُ غَنِيٌّ. 2 مبتدا معرفہ یا نکرہ مخصوصہ ہوتا ہے اور خبر عمو ما نکرہ ہوتی ہے : زَيْدٌ شَاعِرٌ ، طِفُلْ صَغِيرٌ جَالِسٌ. 3 خبر اگر معرف باللام ہو تو کبھی مبتدا اور خبر کے درمیان مبتدا کے مطابق ایک ضمیر بھی آتی ہے: اللهُ هُوَ الرَّزَّاق. 4. عموما پہلے مبتدا آتا ہے پھر خبر آتی ہے: خَالِدٌ عَالِم، لیکن کبھی خبر مبتدا سے پہلے بھی آجاتی ہے: قَاعِدٌ بكر. 5. فاعل اور نائب فاعل کی طرح مبتدا اور خبر بھی ہمیشہ مرفوع ہوتے ہیں۔ خبر کبھی مفرد، کبھی جملہ اور کبھی جار مجرور ہوتی ہے، خبر اگر مفرد ہو تو مذکر مؤنث، واحد مثنی اور مجموع ہونے میں اُس کا مبتدا کے مطابق ہونا ضروری ہے: بحر عالم، هِدٌ عَالِمَةٌ، الرَّجُلانِ عَالِمَانِ الْإِمْرَأَتَانِ عَالِمَتَانِ. 7. خبر اگر جملہ ہو تو عموما اس میں مبتدا کے مطابق ایک ضمیر ہوتی ہے: زید جَاءَ هِنَدٌ ذَهَبَتْ، زَيْدٌ هُوَ ذَكِيٌّ، هِنْدٌ هِيَ ذَكِيَّةٌ.اور 8۔ خیر کر جار مجرور ہوتو وہ اسے فعل یا شب فعل محذوف کے متعلق ہوگی جو مذکر مؤنث ، واحد مثنی اور مجموع ہونے میں مبتدا کے مطابق ہو: زيدٌ فِي الدَّارِ . ( یہاں جار مجرور ثبت یا ثابت کے متعلق ہوں گے ) 9۔ مبتدا اگر غیر عاقل کی یا مونث عاقل کی جمع مکسر ہو تو خبر واحد مونث یا جمع مؤنث آتی ہے: الْجِبَالُ شَامِخَةٌ يَا شَامِخَاتٌ، النِّسَاءُ عَاقِلَةٌ يَا عَاقِلَاتٌ. 10 مبتدا اگر مذکر عاقل کی جمع مکسر ہو تو خبر واحد مونث یا جمع مذکر آتی ہے : الرِّجَالُ عَالِمَةٌ يَاعْلَمَاءُ