متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
حرام و حلال
1
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیانِ شرع اس مسئلہ کے بارے میں کہ مقدس اوراق میں ضعیف قرآن کریم اور احادیث مقدسہ اور دیگر مقدس اوراق اور کتب کو ایک مشین کے ذریعے کاٹ کر ریزہ ریزہ کر کے گودہ بناتے ہیں اور پھر کاغذ یا گتّا بنا کر بیچتے ہیں۔آپ رہنمائی فرما ئیں کہ ایسا کرنا کیسا ہے؟کیا گتّا و چپل کے ڈبے ، گارمنٹس کے ڈبے وغیرہ میں استعمال ہوسکتا ہے، رہنمائی فرما ئیں ۔
21 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
(۱) قرآن مقدس کے اوراق کو پارہ پارہ کرنا جائز نہیں اور نہ ہی انھیں جلانا جائز ، اوراق تھوڑے ہوں تو تعویذ بنا کر بچوں میں تقسیم کر دیا جائے ، زیادہ ہوں تو پاک جگہ پر مسلم میت کی طرح دفن کیا جائے۔
اتقان میں ہے :
(فرع) اذا احتيج الى تعطيل بعض اوراق المصحف البلاء ونحوه فلا يجوز تمزيقها لما فيه من تقطيع الحروف وتفرقة الكلم، وفي ذلك ازراء بالمكتوب، كذا قاله الحليمي. (الاتقان في علوم القرآن، ج:۲، ص: ۲۲۱ ، فصل فی آداب كتابته)
واللہ تعالیٰ اعلم
(۲) مصحف شریف کے سوا دوسرے اور اق و کتب کا حکم کچھ ہلکا ہے، چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے :
قواعد بغدادی و ابجد اور سب کتب غیر منتفع بہا ماوراے مصحف کریم کو جلا دینا بعد محو اسماے باری عزاسمہ اور اسماے رسل و ملائکہ صلی اللہ تعالیٰ علیہم وسلم اجمعین کے جائز ہے كما في الدر المختار: الكتب التي لا ينتفع بها محى عنها اسم الله وملئكته ورسله ويحرق الباقى. (فتاوی رضویہ، ج: ۹، ص: ۲۹، کتاب الخطر والا باحتر، رضا اکیڈمی)
جن اوراق اور مضامین کا حاجت کی وجہ سے احراق جائز ہے ان اوراق و مضامین کی بوجہ حاجت مشین کے ذریعے تمزیق بھی جائز ہونی چاہیے کہ احراق اور تمزیق دونوں کا حکم ایک ہے بس یہ لحاظ رہے کہ اللہ عز وجل، انبیاے کرام ومرسلین عظام اور فرشتوں کے اسما الگ کر لیے گئے ہوں، جنھیں تعویذ بنا سکتے ہیں، یا مصحف شریف کے ساتھ دفن کر سکتے ہیں ۔ ہمیں كتب علما کے ذریعے جو معلومات فراہم ہو سکیں وہ یہی ہیں ۔ واللہ تعالی اعلم