Logo
کیا فرماتے ہیں علماے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میرے ذہن میں شیئر مارکیٹ کے تعلق سے ایک شبہ ہے کہ جو کمپنی کے مالکان ہیں جیسے بینکوں سے سودی معاملات جائز ہیں جن کمپنی کے مالکان غیر مسلم ہیں تو ان بینکوں سے سود جائز ہے ۔ اسی طرح جو کمپنی ہے ٹاٹا وغیرہ ان کمپنیوں کے مالکان عام طور سے غیر مسلم ہوتے ہیں تو جب ان کمپنیوں کے مالکان غیر مسلم ہیں تو ان کے ساتھ شیئر کرنا، ان کے شیئر خریدنا اور نفع لینا غیر مسلم سے تو یہ بھی جائز ہونا چاہیے، ہماری عقل وہاں تک نہیں پہنچ رہی ہے تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ مسلم اور کافر کے درمیان ربا اور سود ہے نہیں تو پھر شیئر مارکیٹ میں یہ ناجائز سود کو معیار بنا کر کے قرار دیا گیا ہے اس کی وضاحت فرما دیں۔ کرم ہو گیا۔