متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
سود کے مسائل
1
کیا فرماتے ہیں علماے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میرے ذہن میں شیئر مارکیٹ کے تعلق سے ایک شبہ ہے کہ جو کمپنی کے مالکان ہیں جیسے بینکوں سے سودی معاملات جائز ہیں جن کمپنی کے مالکان غیر مسلم ہیں تو ان بینکوں سے سود جائز ہے ۔ اسی طرح جو کمپنی ہے ٹاٹا وغیرہ ان کمپنیوں کے مالکان عام طور سے غیر مسلم ہوتے ہیں تو جب ان کمپنیوں کے مالکان غیر مسلم ہیں تو ان کے ساتھ شیئر کرنا، ان کے شیئر خریدنا اور نفع لینا غیر مسلم سے تو یہ بھی جائز ہونا چاہیے، ہماری عقل وہاں تک نہیں پہنچ رہی ہے تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ مسلم اور کافر کے درمیان ربا اور سود ہے نہیں تو پھر شیئر مارکیٹ میں یہ ناجائز سود کو معیار بنا کر کے قرار دیا گیا ہے اس کی وضاحت فرما دیں۔ کرم ہو گیا۔
21 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
بینک میں جو لوگ روپئے جمع کرتے ہیں وہ بینک کے مالک نہیں ہوتے وہ بینک کے کھاتے دار ہوتے ہیں۔ بینک کا مالک کوئی اور ہوتا ہے تو کھاتے دار کا حکم الگ ہے ۔ شیئردار کا حکم الگ ہے ۔ کھاتے دار بینک کا مالک نہیں ہوتا اور شیئر دارمالک ہوتا ہے، یہ ہے دونوں میں فرق ۔شیئردار جب کمپنی کا مالک ہے تو جہاں ہزاروں اس میں غیر مسلم ہیں وہاں ہزاروں یا کم از کم سیکڑوں مسلم بھی ہیں اور یہ سب کی سب اپنے ترجیح حصص والوں کو سود دیتے ہیں اور پریفرینس شیئر والے مسلم بھی ہو سکتے ہیں تو اس کا حاصل ہوا کہ مسلم نے مسلم کو سود دیا اور مسلم مسلم کو سود دے یہ جائز نہیں ہے بلکہ حرام ہے ۔ لیکن بینک والے مسئلہ میں ایسا کبھی لازم نہیں آتا ہے کہ مسلم نے مسلم کو سود دیا کیوں کہ یہاں مالک نہیں ہے یہ تو صرف کھاتے دار ہے ۔ یہ دائن ہے اور بینک مدیون ہے اور شیئر والے مسئلہ میں دائن اور مدیون کی بات نہیں ہے۔ مگر ایکوٹی شیئر والے سب کی سب کمپنی کے اصل مالکان ہیں جن میں مسلم بھی ہیں اور غیر مسلم بھی۔ اب پریفرنس شیئر جو لوگ لیں گے جو اپنی حقیقت کے لحاظ سے سود اور قرض کا معاملہ ہے ان میں بھی مسلم و غیر مسلم ہوں گے تو پھر وہی لازم آئے گا کہ مسلم نے مسلم کو سو د دیا۔ مسلم نے مسلم سے سود لیا تو مسلمان کا مسلمان سے سود دینا لینا حرام و گناہ ہے تو یہ فرق ہے کھاتے داروں میں اور شیئر داروں میں۔
واللہ تعالٰی اعلم