متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
عقائد
1
سوال06: کیا انبیاءکرام علیھم السلام اعلان نبوت سے پہلے نبی نہیں ہوتے ؟
15 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب :انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام پیدائشی وصف نبوت سے متصف ہوتے ہیں ، اور جب حکم الٰہی ہوتا ہے تو وہ اپنی نبوت کا اظہار و اعلان کرتے ہیں، نبی سے نبوت کا زوال ماننا مثلاً : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق یہ کہنا کہ آپ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی اس سے پہلے نبی نہ تھے ، یہ نبی سے نبوت کا زائل ہونا تسلیم کرنا ہے جسے علمائے کرام نے کفر لکھا ہے ۔ قرآن مجید میں انبیائے کے پیدائشی نبی ہونے پر متعدد آیات کریمہ موجود ہیں ۔
چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗؕ-قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْؕ-قَالُوْۤا اَقْرَرْنَاؕ-قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ(۸۱)ترجمہ:اوریادکروجباللہنےنبیوںسےوعدہلیاکہمیںتمہیںکتاباورحکمتعطاکروںگاپھرتمہارےپاسوہعظمتوالارسولتشریفلائےگاجوتمہاریکتابوںکیتصدیقفرمانےوالاہوگاتوتمضرورضروراسپرایمانلانااورضرورضروراسکیمددکرنا۔ (اللہنے) فرمایا :(اےانبیاء!) کیاتمنے (اسحکمکا) اقرارکرلیااوراس (اقرار) پرمیرابھاریذمہلےلیا؟سبنےعرضکی،’’ہمنےاقرارکرلیا‘‘ (اللہنے) فرمایا، ’’ تو(اب) ایکدوسرےپر (بھی) گواہبنجاؤاورمیںخود (بھی) تمہارےساتھگواہوںمیںسےہوں ۔( سورۃ آل عمران، آیت نمبر 81 پارہ 03)
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: قَالَاِنِّیْعَبْدُاللّٰهِﳴاٰتٰىنِیَالْكِتٰبَوَجَعَلَنِیْنَبِیًّاترجمہ :بچے نے فرمایا: بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے ۔
(سورۃ المریم ،آیت نمبر 30 پارہ16)
پہلی آیت مبارکہ میں انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے جو وعدہ لیا گیا وہ اس دنیا میں آنے سے پہلے کا عہد ہے عالم ارواح میں یہ مجلس میثاق سجائی گئی اس آیت میں لفظ استعمال ہوئے "النبیین"کے،اسی طرح جو عہد لیا گیا اس میں "ثم جاءکم رسول"،یونہی دوسری آیت میں" وجَعَلَنِیْنَبِیًّا"حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے پیدا ہونے کے بعد اللہ کے حکم سے جھولے میں ہی کلام فرمایا ؛ یہ الفاظ خواد اعلان کررہے ہیں کے انبیائے کرام اپنی آمد سے قبل ہی صفت نبوت سے متصف تھے اور انبیائے کرام سے صفت نبوت کا زوال ماننا اور یہ کہنا کے پیدائشی نبی نہ تھے بعد میں نبوت ملی یہ کفر و گمراہی اور بے دینی کے سواء کچھ نہیں ۔
الشیخ محمد عبدالحق بن شاہ الھندی الحنفی علیہ الرحمہ سورہ مریم کی اس آیت کے حصے "جَعَلَنِیْنَبِیًّا" کے تحت لکھتے ہیں: روی عن الحسن انہ کان فی المھد نبیاً وکلامہ معجزتہترجمہ : امام حسن سے روایت ہے سیدنا عیسی علیہ الصلوٰۃ والسلام جھولے ( یعنی: بچپن)میں ہی وصف نبوت کے ساتھ متصف فرمادئے گئے تھے اور ان کام اس عمر میں کلا م کرنا یہ ان کا معجزہ تھا۔
(تفسیر نسفی جلد 05، ،سورہ المریم آیت نمبر 30، صفحہ 76)
اما م ترمذی اپنی جامع میں ایک حدیث پاک نقل فرماتے ہیں:عَن اَبِی ھُرَیرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنہُ قَالَ: قَالُوايَارَسُولَاللَّهِصَلَّىاللهُعَلَيْهِوَسَلَّمَمَتَىوَجَبَتْلَكَالنُّبُوَّةُ؟"قال: "وَآدَمُبَيْنَالرُّوحِوَالْجَسَدِ" ھذا حدیث حسن صحیحترجمہ : لوگوں نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے لیے نبوت کب واجب ہوئی تھی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" نبوت اس وقت واجب ہوئی جب آدم علیہ السلام روح اور جسد کے درمیان تھے۔امام ترمذی نے اس حدیث کوحسن صحیح قرار دیا ۔
(جامع ترمذی ، حدیث 3609مطبوعہ کراچی)
علامہ امام فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ نبی سے نبوت کے زوال کو ماننے والے کا حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : مَن جوَّزَ زَوَالَ النُّبُوَّۃِ مِن نَبِیّ ، فَاِنَّہ یُصِیرُ کَافِرًا، کذا فی "التمھید"ترجمہ : جو نبی سے نبوت کے زوالکو جائز مانے وہ کافر ہوجائیگا، اسی طرح تمھید میں ہے۔
(المعتقد المنتقد، صفحہ 212، مکتبۃ المدینہ)