متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
میت اور جنازے کے احکام
1
سوال: میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر اذان دینا کیسا؟
16 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب :اذان ذکر الہی ہے اور ذکر الہی سے میت کو قبر میں فائدہ ہوتا ہے جس کا واضح ثبوت حدیث رسول میں موجود ہے ؛ لہذا میت کو دفنانے کے بعد قبر کے پاس اذان کہنا نہ صرف جائز بلکہ مستحب اور عند الشرع محمود و مستحسن عمل ہے ؛ اس سے رحمت ِ الہی کا نزول ہوتا اور شیطان لعین دور ہوتا ہے نیز میت کے لئے سوالات قبر میں آسانی ہوتی ہے اور قبر کی تنگی دور ہوتی ہے ۔
امام حکیم ترمذی ابو عبداللہ محمد بن علی الحسن بن بشر المؤذن اپنی کتاب نوادرالاصول میں لکھتے ہیں: عن عمرو بن مرۃ ، قال : کانوایستحبون اذا وضع المیت فی اللحد ان یقولو ا: اللھم اعذہ من الشیطٰن الرجیمترجمہ : سیدنا عمرو بن مرۃ سے روایت ہے فرمایا: جب میت کو قبر میں رکھ دیا جاتا تو وہ پسند کرتے تھے کے وہ یہ کہے: " اے اللہ اس میت کی شیطان مردود سے حفاظت فرما "
( نوادرالاصول فی معرفۃ احادیث الرسول ، جلد 06، صفحہ 26، مطبوعہ بیروت)
اسی روایت کےتحت سیدنا سفیان ثوری علیہ الرحمہ کی روایت ہے :قال :اذا سئل المیت من ربّک ؟ تراءی لہ الشیطان فی صورۃ ، فیشیر الی نفسہ ؛ ای : انا ربکترجمہ : سیدنا سفیان ثوری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جب میت سے سوال کیا جاتا ہے "من ربک" یعنی تیرا رب کون ہے " تو شیطان اس کے پاس ایک صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور اپنی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی(کہہ دے) میں تیرا رب ہوں ۔
( نوادرالاصول فی معرفۃ احادیث الرسول ، جلد 06، صفحہ 26، مطبوعہ بیروت)
مسلم شریف کی روایت میں ہے : عن جابر رضی اللہ عنہ قال : سمعتُ النبیَّ صلی اللہ علیہ وسلم یقول :"ان الشیطان اذا سمع النداء بالصلاۃ ذھب حتی یکون مکان الروحاءترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سےروایت ہے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : بے شک شیطان جب نماز کے لئے اذان کہی جاتی ہے شیطاب بھاگ جاتا ہے یہاں تک کے مقام روحاء۔( مدینے سے 36 میل دور کی ایک جگہ کا نام ہے ) تک پہنچ جاتا ہے۔(صحیح مسلم ؛ جلد 01، صفحہ 290،باب فضل ۔۔مطبوعہ بیروت)
ایک روایت میں ہے : عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ علیہ وسلم اذااذن المؤذن ادبر الشیطان ُولہ حصاصترجمہ : سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاجب مؤذن اذان دیتا ہے تو شیطانبھاگ جاتا ہے اور اس کی ہو نِکل جاتی ہے۔
(صحیح مسلم ؛ جلد 01، صفحہ 291،باب فضل الاذان وھربالشیطان۔۔مطبوعہ بیروت)
مذکورہ روایت کو دیکھیں تو میت کو دفنانے کے بعد قبر پر اذان دینے کا جواز ہر ذی شعور کے لئے واضح ہوجاتا ہے کے اس وقت میت کو شیطان بہکانے کی کوشش کرتا ہے لہذا میت کی شیطان لعین سے حفاظت کے لئے تدبیر کرنا اور میت کے لئے دعا کرنا صحابہ کرام کا محبوب عمل نیز شیطان کی اذان سے گھبراہٹ اور اس سے دور بھاگنا احادیث صریح و صحیح میں مذکور ہوا ؛اب میت کی اس سے بڑھ کر بھلائی کیا ہوگی کہ اذان دے کر شیطان کو بھگایا جائے اور اس کے لئے دعا کی جائے تاکہ وہ سوال کے درست جواب دینے میں کامیاب ہوجائے ۔