متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
قربانی
1
سوال : کیا قربانی کے جانور کا نام رکھ سکتے ہیں ؟
19 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : قربانی کے جانور کا نام رکھا جاسکتا ہے بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف جانوروں اور مختلف اشیاء کے نام رکھنا ثابت بھی ہے ۔
امام محمد بن یوسف الصالحی الشامی علیہ الرحمہوالرشاد میں نقل فرماتے ہیں :قال: كانت منائح رسول الله صلى الله عليه وسلم من الغنم عشرا.الأولى: عجوة.الثانية: زمزم.الثالثة: سقيا.الرابعة: بركة. الخامسة: ورسة.السادسة: إطلال.السابعة: إطراف.الثامنة: قمرة.التاسعة: غوثة أو غوثيّةوعنز تسمى اليمن.ترجمہ: ابن سعد سے روایت ہے کہ رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی دس دودھ دینے والیاں بکریاں تھی (ان کے مختلف نام تھے ) :(1)عجوہ(2)زمزم(3)سُقیا(4)بَرَکۃ(5)ورسۃ (6)اطلال (7)اطراف(8)قمرہ(9)غوثیۃ(10) یُمن
(سبل الہدیٰ والرشاد ، جلد 7، صفحہ 412، مطبوعہ بیروت)
اس روایت سے یہ بات ظاہر ہوئی کے جانوروں کے نام رکھنا جائز ہے اور سیرت رسول سے اس کا واضح ثبوت بھی ملتا ہے ۔