متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
قربانی
1
سوال : آپ سے سوال یہ ہے کہ میں نے بہار شریعت میں ایک مسئلہ پڑھا جو سمجھ نہیں آیا وہ یہ ہے کہ اگر فقیر نے قربانی کا جانور خریدا اور وہ گم ہوگیا یا چوری ہوگیا پھر فقیر دوسرا قربانی کے لئے جانور لے آیا اور اب وہ پہلا والا جانور بھی مل گیا تو فقیر پر واجب ہےکہ وہ ان دونوں کی قربانی کریگا اور اگر یہی معاملہ غنی کے ساتھ ہوا تو اسے اختیار ہے ان میں سے کوئی ایک ذبح کردے یا دونوں کردے ؛ یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ امیر کو اختیار ہے اور فقیر کواختیار نہیں حالانکہ فقیر اگر ایک کو فروخت کردے اور اس سے اپنی دوسری ضرورت پوری کرنا چاہے تو کرسکتا ہے جبکہ غنی کو اس کی ضرورت نہیں ۔ بہار شریعت کی عبارت یہ ہے : قربانی کا جانور گم ہوگا یا چوری ہوگات اور اوس کی جگہ دوسرا جانور خرید لار اب وہ مل گار تو غنی کو اختاغر ہے کہ دونوں مں جس ایک کو چاہے قربانی کرے اور فقرج پر واجب ہے کہ دونوں کی قرباناوں کرے۔
19 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : بہار شریعت کا یہ مسئلہ بالکل درست ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ غنی پر تو قربانی پہلے سے واجب تھی ، اس پر جانور کی خریداری کی وجہ سے قربانی واجب نہیں ہوئی جبکہ فقیر پر قربانی کا وجوب جانور خریدنے کی وجہ سے ہوا ہے یعنی جیسے ہی فقیر نے اس جانور کو خریدا تو اس پر اسی جانور کی قربانی واجب ہے ، اسی وجہ یہ کہا گیا کہ جب اس کا یہ جانور چوری ہوگیا یا گم ہوگیا اور اب اس نے دوبارہ قربانی کی نیت سے جانور خریدا تو اس خریداری کی وجہ سے اس پر اس جانور کی قربانی بھی واجب ہوگئی ، اب جب پہلا جانور مل گیا تواس جانور کی بھی خریداری کی وجہ سے قربانی واجب ہوئی تھی اور اب اس دوسرے جانور کی بھی خریداری کی وجہ سے قربانی واجب ہوئی تو دونوں کی واجب رہے گی اور غنی کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہے اس پر قربانی کرنا پہلے ہی واجب تھا خریداری کی وجہ سے نہیں ہوا ، اسی وجہ سے اسے اختیار دیا گیا ۔
وفي «فتاوى أهل سمرقند» : الفقير إذا اشترى أضحية، فسرقت، فاشترى أخرى مكانها، ثم وجد الأولى، فعليه أن يضحي بهما، فرق بينه وبينما إذا كان غنياً، والفرق: أن الوجوب على الفقر بالشراء، والشراء يتعدد، فيتعدد الوجوب، والوجوب على الغني بإيجاب الشرع، والشرع لم يوجب الأضحية إلا واحدة. ترجمہ : فتاوی سمرقندی میں ہے کہ فقیر نے جب قربانی کے لئے جانور خریدا پھر اس کا جانور چوری ہوگیا اس کے بعد فقیر دوسرا جانور لے آیا اور پہلا اس کو (دوسراخریدنےکے بعد)مل گیا پس اس پر دونوں جانوروں کی قربانی لازم ہوگی ۔ اس صورت میں فقیر اور غنی کا مسئلہ جدا جدا ہے ۔ اور فرق یہ ہے کہ فقیر پر وجوب خریدنے کی وجہ سے ہوا ہے اور خریدنا متعدد بار ہوا تو وجوب بھی متعدد ہی ہوگا اور غنی پر واجب ہونا شریعت کی جانب سے تھا اور شرع میں ایک ہی قربانی کا وجوب ہے ۔