متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
نکاح و طلاق کے مساٸل
1
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس بارے میں کہ سالی کی بیٹی سے نکاح کر سکتے ہیں یا نہیں، نکاح کی کیا صورت ہوگی؟
21 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
اپنی بیوی کی موجودگی (نکاح و باحیات) میں اس (بیوی) کی بھانجی سے نکاح نہیں کرسکتےکیونکہ اس صورت میں خالہ اور بھانجی کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنا لازم آئے گا جو شریعت مطہرہ میں ناجائز ہے۔البتہ اگر بیوی کا انتقال ہوگیا یا بیوی کو طلاق دیا اور عدت مکمل ہوگئی تو اب اس (بیوی) کی بھانجی سے نکاح کرسکتے ہیں۔
صحیح بخاری میں ہے:
”عن أبي هريرة رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يجمع بين المرأة وعمتها، ولا بين المرأة وخالتها“
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت(یعنی بیوی )اور اس کی پھوپھی کو جمع نہ کرو(یعنی دونوں کو ایک ساتھ نکاح میں نہ رکھو)اورنہ ہی عورت اور اس کی خالہ(یعنی بیوی اور اس کی بھانجی) کو جمع کرو۔ (صحيح البخاري (7 / 12) كتاب النكاح، باب لا تنكح المرأة علي عمتها، دار طوق النجاة)
سرکار اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ اس طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
”ساڑھو (سانڈھو) کی لڑکی اگر سالی کے بطن سے نہیں تو اس سے نکاح مطلقاً جائزہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو، اور اگر سالی سے ہے یعنی اپنی زوجہ کی بھانجی، تو جب تک زوجہ اس کے نکاح میں ہے اس کی بھانجی سے نکاح حرام ہے، ہاں عورت کو طلاق دے دے اور عدت گزرجائے یا عورت مرجائے اس کی بھانجی سے نکاح جائز ہوگا۔“(فتاویٰ رضویہ ،جلد ١١، صفحہ ٢٧٧ رضا فاؤنڈیشن )