متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
سود کے مسائل
1
کیا شیئر مارکیٹ کے جواز کا کوئی حکم ہے؟ یہ اسلئے معلوم کیا کہ بعض اہل علم کی رائے سے تشویش ہوئی ہے، انکے مطابق جواز کی صورت بھی ہے ۔
21 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
عدم جواز کی وجہ سود ہے اور شیئر بازار میں کاروبار سے ممانعت کی اصل بنیاد بھی یہی ہے ۔ ورنہ یہ تو سب جانتے ہیں کہ مال، حرام ہو مثلاً خنزیر یا خمر یا مردار ہو تو اس کا کاروبار مسلمان کے لیے حرام ہے اور مال حلال ہو مثلاً بکری، شربت یا مذبوح مرغ وغیرہ ہو تو اس کا کاروبار حلال ہے ، ساری دنیا میں مسلمانوں کا عمل اس پر ہے اور یہ سب کو معلوم بھی ہے ، یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔
شیئر کمپنی تین طرح کے معاملات کے پہیے پر گردش کرتی ہے:
•ایکوٹی شیئر • پریفرینس شیئر •قرض تمسکات
ان میں پریفرینس شیئر اور قرض تمسکات تو سودی ہی ہوتے ہیں کہ ان معاملات کی بنیاد میں سود داخل ہے ، اور ایکوٹی شیئر میں سود تو نہیں ہوتا، لیکن اس کے شیئر ہولڈرس جو کمپنی کے مالکان ہوتے ہیں وہ قرض تمسکات والوں اور پریفر نیس شیئر داروں کے سود اپنے ملازمین کے ذریعہ ادا کرتے ہیں اور یہ بلاشبہ حرام ہے، اس لیے ہم اس سے بچنے کا حکم دیتے ہیں ، اور جب تک سود سے یہ آلودگی پائی جائے گی حرمت کا حکم بر قرار رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کے نصوص میں اس کا ذکر واضح الفاظ میں ہے۔
ایسا نہیں کہ متاعِ خرید و فروخت کی وجہ سے اس سے بچنے کا حکم ہو، وہ تو سب جانتے ہیں کہ متاع حرام ہے تو معاملہ حرام ہے اور متاع حلال ہے تو معاملہ حلال ہے، مثلاً چاول، آٹا، دال، سبزی وغیرہ حلال اشیا کا کاروبار اصالۃً جائز ہے تو وہ جائز ہی ہے ، وہ کیوں حرام ہو گا اور کوئی بھی صاحب علم اسے کیوں حرام کہے گا، کیا جب کوئی محقق وقت بتائے گاتب دنیا اسے حلال سمجھے گی، مطلقاً ممنوع ہونے کی اصل وجہ وہ ہے جو او پر بیان ہوئی۔ اس میں میری نگاہ میں جواز کا کوئی گوشہ نہیں۔
اگر کوئی صاحب علم اس میں جواز کا کوئی گوشہ بتائیں، یا یہ واضح فرمائیں کہ کمپنی کا طریق کار بدل کر اسے سود کی آلودگی سے پاک کر دیا گیا ہے تو ضرور ایکوٹی شیئر کے جواز کا حکم ہو گا جب کہ متاع حلال ہو مگر ہمیں اب تک ان دونوں باتوں سے آگاہی نہیں ہو سکی، ممکن ہے کسی صاحب اطلاع کو معلوم ہو۔ واللہ تعالی اعلم۔