متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
عقائد
1
سوال07: تقدیر میں جو لکھ دیا گیا ہے وہ ہو کر ہی رہے گا تو دروودو سلام ،وظائف و دعا اور صدقات وغیرہ سے تقدیرکیسے بدل سکتی ہے؛ رہنمائی فرمادیجئے ؟
15 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : حدیث پاک میں ہے : الدعا ء یرد القضاءترجمہ: دعا تقدیر کو بدل دیتی ہے ۔ (اس سے مراد وہی تقدیر ہے جو تقدیر معلق ہے ، فرشتوں کے صحائف میں تقدیر کا بدلنا اسی پر موقوف ہوتا ہے کہ اسے فلاں کی دعا مل گئی ؛ یا اس نے یہ چیز پڑھی تو اس کی برکت سے اسے شفا ء مل جائیگی ۔
اس لئے مسلمان کو وظائف اور درود و سلام وغیرہ یہ سب پڑھنا چاہیے۔لیکن یہ بات یاد رہے سب سے بڑا وظیفہ نماز ہے ، پھر ہر وظیفہ اس کے تابع ہے ۔ یعنی وظائف و عملیا ت وغیرہ ضرور کریں مگر اس میں مگن ہوکر فرائض سے غافل ہوجانا اور ضروری ذمہ داریوں سے غافل ہونا تو یہ رویہ درست نہیں ، نمازوں کی ادائیگی لازمی ہے اس کے ساتھ ساتھ ان وظائف کا پڑھنا ہو تو اس کی برکتیں ضرور ملتی ہیں ۔
قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالی ارشاد فرماتا ہے :یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ وَ عِنْدَهٗ اُمُّ الْكِتٰبِترجمہ: اللہ جو چاہتا ہے مٹادیتا ہے اور برقرار رکھتا ہے اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس ہے۔
(پارہ 13، سورۃ الرعد، آیت نمبر39)
حضور اقدصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:اکثر من الدعاء فإنّ الدعاء یردّ القضاء المبرم ترجمہ: کثرت سے دعا مانگا کرو کہ دعا قضائے مُبْرَم کو تبدیل کر دیتی ہے۔( یہاں قضائے مبرم سے مراد معلق بشبیہ المبرم ہے مطلقاً مبرم نہیں )(کنز العمال، کتاب الأذکار، ، الحدیث : 3117 جلد 1، صفحہ 28)
علامہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : القضاء علی ضربین : مبرم و معلق فالاول:لا یتغیر والثانی : یمکن تغیرہترجمہ: تقدیر کی دو قسمیں ہیں ایک مبرم اور دوسری معلق ۔ پہلی قسم میں تبدیلی ممکن نہیں اور دوسری قسم میں تبدیلی ممکن ہے ۔( المعتقد المنتقد ، صفحہ 132، مکتبۃ دارالفقیہ)
اعمال صالحہ کی وجہ سے تقدیر کی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے رئیس المتکلمین مولانا نقی علی خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :" بعض اسباب سے عمر میں کمی زیادتی ہوتی ہے اور وہ بھی لوح محفوظ میں لکھی ہے ۔ پس قضا میں تغیر قضا کے مطابق روا ہے مثلاً : مقدر ہے کہ زید کی عمر ساٹھ برس کی ہوگی اور جو حج کریگا اسی برس زندہ رہے گا "۔
( احسن الوعاء لآداب الدعا، صفحہ 244، مکتبۃ المدینہ)