متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
قربانی
1
سوال : کیا ایسی کوئی حدیث میں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی طرف سے قربانی کی ؟
19 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : جی ہاں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری امت کی طرف سے قربانی فرمائی ہے البتہ یہاں یہ مسئلہ شرعی یاد رہے کہ جب واجب قربانی کی جائے گی تو تو بکرا ، بکری ، دنبہ اور بھیڑ وغیرہ میں فرد واحد کی طرف سے اور گائےو اونٹ میں زیادہ سے زیادہ سات افراد کی طرف سے قربانی ہوسکتی ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا پوری امت کی طرف سے قربانی کرنا یہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے یا اس اس دعا سے مراد یہ ہے کہ "یااللہ پاک میری امت کو بھی اس قربانی کا ثواب عطا فرما" دوسری صورت میں اس پر ہر شخص عمل کرسکتا ہے کہ قربانی شرئط کے مطابق ہو اور اس کا ثواب پوری امت کو کردیا جائے جیساکہ پیار آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ۔
مشکوٰۃ المصابیح کی روایت ہے :وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ وَيَبْرَكُ فِي سَوَادٍ وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ فَأُتِيَ بِهٖ لِيُضَحِّيَ بِهٖ قَالَ: “يَا عَائِشَةُ هَلُمِّي الْمُدْيَةَ” ثُمَّ قَالَ: “اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ” فَفَعَلَتْ ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهٗ ثُمَّ ذَبَحَهٗ ثُمَّ قَالَ: “بِسْمِ اللهِ اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ” . ثُمَّ ضَحّٰى بِهٖ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ ترجمہ : روایت ہےحضرت عائشہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے سینگ والے بکرے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلے،سیاہی میں بیٹھے،سیاہی میں دیکھے آپ کی خدمت میں حاضر کیا گیا تاکہ اس کی قربانی کریں فرمایا عائشہ چھری لاؤ پھر فرمایا اسے پتھر پر تیز کرلو،میں نے کرلیا پھر آپ نے چھری پکڑی اور بکرا پکڑکرلٹایا پھر اسے ذبح کیا پھر فرمایابِسْمِ اللهِ الٰہی اسے محمدصلی الله علیہ وسلم و آل محمدصلی الله علیہ وسلم و امت محمدصلی الله علیہ وسلم کی طرف سے قبول فرماپھر اس کی قربانی کی۔
(مشکوۃ المصابیح ، کتاب الاضحیۃ ، حدیث 1454)