سوالنحو1 جواب
جواب دہندہ
اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ
اس معنی میں احادیث بہت ساری ہیں اور اخرت کے احوال میں بھی کثیر ہیں تو معنی کے اعتبار سے متواتر ہے اگرچہ الفاظ کے کے اعتبار سے حد تواتر کو نا پہنچی
اس کا مطلب یہ ہے کہ حدیث متواتر وہ حدیث ہوتی ہے جس کو روایت کرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو کہ ان سب کو جھوٹا کہنا بھی نا ممکن ہو
اب اس کی دو صورتیں ہیں کہ ایک تو وہ حدیث متواتر ہوتی ہے جس کے الفاظ ہی اتنے بندوں نے بیان کیئے ہوں
اور دوسری حدیث ہوتی ہے متواتر المعنی یعنی جس کے الفاظ تو اتنے لوگوں نے نا بیان کیئے ہوں البتہ اس معنی کی احادیث بہت ہوں
جیسے احادیث آخرت کہ مختلف الفاظ ہیں لیکن سب کو یکجا کریں تو ایک بات واضح ہوتی ہے کہ آخرت کے وقوع کی خبر ہر حدیث میں ہے تو یہ متواتر المعنی ہوئی