متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
نکاح و طلاق کے مساٸل
1
سوال : مجھے یہ معلوم کرنا تھا کہ میرے نکاح کو تین سال ہوچکے ہیں ، نکاح کے بعد ،میرے شوہر دبئی چلے گئے، ابھی رخصتی نہیں ہوئی ہے اور نہ خلوت صحیحہ ہوئی ہے، کچھ ٹائم پہلے ہمارے گھر والوں کی کسی بات پر لڑائی ہوئی اور میری میرے شوہر سے بھی کال پر بحث ہوئی، اس نے مجھے وائس کی اور تین بار یہ کہا نام لے کر کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ لیکن اب وہ نادم ہے اور میں بھی کہ میں نے جھگڑا کیوں کیا۔ کیا اب ہمارا رجوع ہوسکتا ہے ؟
21 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : جو واٸس آپ نے بھیجی اگر یہ آپ کے شوہر کی ہی ہے اور بقول آپ کے ابھی رخصتی بھی نہیں ہوٸی اور نہ ہی خلوت صحیحہ ہوٸی ہے ، آپ کے شوہر نے تین بار طلاق الگ الگ جملوں میں دی ہے ، پہلے طلاق والے جملے سے ہی آپ ان کے نکاح سے باہر ہوگٸی۔ یہ طلاق باٸن ہے اور باقی دو جملے طلاق کہ یہ لغو ہوگٸے۔ طلاق دینے والے پر آدھا مہر دینا جو نکاح کے وقت مقرر ہوا تھا، وہ واجب ہوا اور اس صورت میں عدت واجب نہیں۔
نیز آپ اگر چاہیں اپنی رضا سے دوبارہ اسی شوہر سے نکاح نٸے مہر کے ساتھ شرعی گواہوں کی موجود گی میں کرسکتی ہیں۔ اس صورت میں حلالہ کا حکم نہیں ہے ۔ اور یہ بات یاد رہے یہ ایک طلاق واقع ہوچکی ، آپاگر ان سے دوبارہ نکاح کرلیتی ہیں پھر آٸندہ جب بھی وہ طلاق دینگے تو ان کے پاس صرف دو طلاق کا اختیار باقی ہوگا۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب۔
مشورہ : ایک بار کوشش کریں۔ آپ جس شہر میں ہیں اگر اس شہر میں اہلسنت کا کوٸی دارلافتاء ہے تو وہاں جاکر ایک مفتی صاحب سے ملاقات کرکے اس مسٸلے کی تشفی کرلیں۔ حرام و حلال کا مسٸلہ درست اور مستند جگہوں کی طرف ہی رجوع