متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
فزیکل کاروبار کے مساٸل
1
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اِحْتِکار کا حکم کیا ہے اور اِحْتِکار کس کو کہتے ہیں؟
12 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
اِحْتِکار سخت ممنوع،ناجائز و گناہ ہے، اس کی مذمّت پر کئی احادیث وارد ہیں۔
حضرتِ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:” جس نے مسلمانوں پر غلّہ روک دیا ،اللہ تعالیٰ اُسے جُذام (کوڑھ) اور اِفْلاس میں مبتلا فرمائے گا۔‘‘(مشکوٰۃالمصابیح،ج1،ص535،حدیث:2895)
اِحْتِکار کا لغوی معنیٰ ہے گِرانی کے انتظار میں کسی بھی چیز کا ذخیرہ کرلینا۔ جبکہ شریعت کی اصطلاح میں وہ چیز جو انسانوں یا جانوروں کی بنیادی خوراک ہے اسے اس نیت سے روک کر رکھنا کہ جب اس کی قیمت زیادہ ہوگی تب بیچیں گے بشرطیکہ نہ بیچنے سے لوگوں کوضرر ہو اور وہ چیز شہر یا شہر کے قریب سے خریدی ہو، یہ اِحْتِکار کہلاتا ہے۔ لہٰذا اگر اس کے نہ بیچنے سے لوگوں کو ضرر نہیں ہوتا، یا وہ چیز اس کی اپنی زمین کی ہے یا وہ دور سے خرید کر لایا ہے تو ان صورتوں میں روک کر رکھنا اِحْتِکار میں داخل نہیں۔
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن لکھتے ہیں: ’’غلّہ کو اس نظر سے روکنا کہ گِرانی کے وقت بیچیں گے بشرطیکہ اسی جگہ یا اس کے قریب سے خریدا اور اس کا نہ بیچنا لوگوں کو مُضِر ہو مکروہ و ممنوع ہے، اور اگر غلّہ دُور سے خرید کر لائے اور بانتظارِ گرانی نہ بیچےیا نہ بیچنا اس کا خلق کو مُضِر نہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں۔‘‘(فتاویٰ رضویہ،ج17،ص189)