متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
دلچسپ مسائل
1
سوال : مفتی ساھب ہم نے سنا ہے کہ ساتوں زمینیں ایک مچھلی کی پشت پر ہیں ، کیا اس کی کوئی حقیقت ہے ؟ قرآن و حدیث میں اس طرح کا کوئی ذکر موجود ہے ؟
24 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : ساتوں زمیںنیں ملی ہوئی ہیں اور ان تمام کا ایک مچھلی کی پشت پر ہونے کا ذکر روایت میں کیا گیا ہے ۔ امام اہلسنت نے بھی اس روایت کو اپنے فتاوی میں ذکر کیا ہے ۔
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :’’ عبدالرزاق و فریابی وسعید بن منصور اپنی اپنی سنن اور عبدبن حمید وابن جریر و ابن المنذر و ابن مردودیہ و ابن ابی حاتم اپنی تفاسیر اور ابو الشیخ کتاب العظمہ اور حاکم بافادہ تصحیح صحیح مستدرک اور بیہقی کتاب الاسماء اور خطیب تاریخ بغداد اور ضیائے مقدسی صحیح مختارہ میں عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی ": ان اول شیئ خلق ﷲ القلم فقال لہ اکتب، فقال یارب ومااکتب؟ قال اکتب القدر فجری من ذلک الیوم ماھو کائن الی ان تقوم الساعۃ ثم طوی الکتاب وارتفع القلم وکان عرشہ علی الماء فارتفع بخار الماء ففتقت منہ السمٰوٰت ثم خلق النون فبسطت الارض علیہ والارض علی ظھر النون فاضطرب النون فمادت الارض فاثبتت بالجبال"۔ فرمایا، اللہ عزوجل نے ان مخلوقات میں سب سے پہلے قلم پیدا کیا اور اس سے قیامت تک کے تمام مقادیر لکھوائے اور عرش ِ الٰہی پانی پر تھاپانی کے بخارات اٹھے ان سے آسمان جدا جدا بنائے گئے پھر مولیٰ عزوجل نے مچھلی پیدا کی اس پر زمین بچھائی، زمین پشت ِ ماہی پر ہے، مچھلی تڑپی ، زمین جھونکے لینے لگی۔ اس پر پہاڑ جما کر بوجھل کردی گئی۔‘‘
(فتاوی رضویہ،جلد27،صفحہ95،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)