متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
1
ظہر کی دو رکعت نکل جائیں ،تو اس کا تو معلو م ہے کہ دو رکعت بالترتیب پڑھی جائیں گی،مجھے مغرب کی نماز کا بتا دیجیئے،کہ مغرب کی دو رکعت نکل جائیں ،تو کیسے ادا کی جائین گی اور ظہر کے بارے میں نے صحیح کہا ہے یا نہیں،اس کا بھی بتا دیں۔
3 جولائی، 2024مفتی محمد شعیب عباسی
جواب دہندہ
م
جس شخص کی ایک یا زائد رکعات نکل جائیں ،اسے مسبوق کہتے ہیں۔
ظہر کی نماز کے بارے میں تو یہی حکم ہے کہ،امام کے سلام پھیرنے کے بعد بقیہ دو رکعتیں اس طرح ادا کریں کہ دونوں میں سورہ فاتحہ و سورت پڑھی جائے،اور قعدہ اخیرہ کر کے، درود ابراہیمی اور دعائے ماثورہ پڑھ کر سلام پھیردیں ، نماز مکمل ہوگئی۔
جبکہ مغرب کی دو رکعات نکلنے کی صورت میں ،امام کے سلام پھیرنے کے بعدبقیہ نماز کے لئے کھڑے ہوں،سورہ فاتحہ و سورت ملاتے ہوئےایک رکعت مکمل کریں اور پھر قعدہ اولی کریں،اس میں تشہد پڑھ کر تیسری رکعت کے لئے کھڑے ہو جائیں،پھر تیسری رکعت میں بھی سورہ فاتحہ و سورت پڑھیں اورقعدہ اخیر ہ کر کے تشہد ،درود ابراہیمی و دعائے ماثورہ پڑھ کر سلام پھیر دیں۔