سوالصرف1 جواب
جواب دہندہ

فَعُلَ (تعجب): اس کے بعد فاعل آ سکتا ہے، اسمِ ظاہر ہو یا ضمیر، اور وہ مرفوع ہوتا ہے۔ اس کے بعد تمییز ہو تو منصوب۔
مثال: حَسُنَ زَيْدٌ أَدَبًا (زَيْدٌ فاعل مرفوع، أَدَبًا تمییز منصوب)۔
بغیر اسم و ضمیر کے: جی ہاں، فاعل ضمیر مستتر ہو تو ظاہری اسم کے بغیر بھی جملہ مکمل ہے: كَبُرَ (وہ کتنا بڑا ہے)۔
باقی دو اوزان:
مَا أَفْعَلَهُ: مَا أَحْسَنَ زَيْدًا! (زید مفعول بہ منصوب)۔
أَفْعِلْ بِهِ: أَحْسِنْ بِزَيْدٍ! (باء زائدہ، زید محلاً مرفوع فاعل)۔
نوٹ: بعض نحوی فَعُلَ کو تعجب کا تیسرا وزن شمار کرتے ہیں،