سوالصرف1 جواب

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ جناب! کیا فعل تعجب کے وزن فَعُلَ کے بعد بھی اسم یا ضمیر آسکتی ھے۔اور اعرابی حالت کیا ھو گی مثال سے بتا دیں دوسرا یہ کہ کیا اس فعل کو بغیر ضمیر و اسم کے استعمال بھی کر سکتے ھی باقی اوزان فعلین تعجب کے شکریہ

Arshad Ali/mughalArshad Ali/mughal30 جون، 2025

جواب دہندہ

Kaif Aliraza
Kaif Aliraza

اسلامک ڈیسک معاون

کراچی

·

فَعُلَ (تعجب): اس کے بعد فاعل آ سکتا ہے، اسمِ ظاہر ہو یا ضمیر، اور وہ مرفوع ہوتا ہے۔ اس کے بعد تمییز ہو تو منصوب۔ مثال: حَسُنَ زَيْدٌ أَدَبًا (زَيْدٌ فاعل مرفوع، أَدَبًا تمییز منصوب)۔ بغیر اسم و ضمیر کے: جی ہاں، فاعل ضمیر مستتر ہو تو ظاہری اسم کے بغیر بھی جملہ مکمل ہے: كَبُرَ (وہ کتنا بڑا ہے)۔ باقی دو اوزان: مَا أَفْعَلَهُ: مَا أَحْسَنَ زَيْدًا! (زید مفعول بہ منصوب)۔ أَفْعِلْ بِهِ: أَحْسِنْ بِزَيْدٍ! (باء زائدہ، زید محلاً مرفوع فاعل)۔ نوٹ: بعض نحوی فَعُلَ کو تعجب کا تیسرا وزن شمار کرتے ہیں،
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ… | صرف و نحو سوال جواب