عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 3,696 جوابات شدہ سوالات

من ملک ذا رحم محرم منہ عتق علیہ اعراب و ترجمہ و ترکیب

مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ ترجمہ: جو شخص اپنے کسی ذی رحم محرم (ایسے رشتہ دار جس سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو) کا مالک بن جائے، وہ اس پر آزاد ہو جاتا ہے۔ اعراب و ترکیب: مَنْ: اسمِ شرط، مبتدا، محلاً مرفوع۔ مَلَكَ: فعلِ ماضی معروف، فعلِ شرط، اور اس کا فاعل ضمیر مستتر هُوَ (جو مَنْ کی طرف لوٹتی ہے)۔ ماضی ہونے کی وجہ سے محلاً مجزوم ہے۔ ذَا: مفعول بہ، منصوب بالالف (اسمائے ستہ میں سے)، اور مضاف۔ رَحِمٍ: مضاف الیہ، مجرور۔ مَحْرَمٍ: رَحِمٍ کی صفت، مجرور۔ (یا ذَا رَحِمٍ کی صفت ہو تو منصوب مَحْرَمًا۔ مشہور روایت میں مَحْرَمٍ مجرور ہے، یعنی صفت برائے رحم۔) مِنْهُ: جار مجرور، مَحْرَمٍ سے متعلق (یا حال)۔ عَتَقَ: فعلِ ماضی معروف، جوابِ شرط، فاعل ضمیر مستتر هُوَ (جو ذا رحم کی طرف لوٹتی ہے)۔ عَلَيْهِ: جار مجرور، عَتَقَ سے متعلق۔

صرف1 جواب
2 جولائی، 2025

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ جناب! کیا فعل تعجب کے وزن فَعُلَ کے بعد بھی اسم یا ضمیر آسکتی ھے۔اور اعرابی حالت کیا ھو گی مثال سے بتا دیں دوسرا یہ کہ کیا اس فعل کو بغیر ضمیر و اسم کے استعمال بھی کر سکتے ھی باقی اوزان فعلین تعجب کے شکریہ

فَعُلَ (تعجب): اس کے بعد فاعل آ سکتا ہے، اسمِ ظاہر ہو یا ضمیر، اور وہ مرفوع ہوتا ہے۔ اس کے بعد تمییز ہو تو منصوب۔ مثال: حَسُنَ زَيْدٌ أَدَبًا (زَيْدٌ فاعل مرفوع، أَدَبًا تمییز منصوب)۔ بغیر اسم و ضمیر کے: جی ہاں، فاعل ضمیر مستتر ہو تو ظاہری اسم کے بغیر بھی جملہ مکمل ہے: كَبُرَ (وہ کتنا بڑا ہے)۔ باقی دو اوزان: مَا أَفْعَلَهُ: مَا أَحْسَنَ زَيْدًا! (زید مفعول بہ منصوب)۔ أَفْعِلْ بِهِ: أَحْسِنْ بِزَيْدٍ! (باء زائدہ، زید محلاً مرفوع فاعل)۔ نوٹ: بعض نحوی فَعُلَ کو تعجب کا تیسرا وزن شمار کرتے ہیں،

صرف1 جواب
30 جون، 2025

مُوَیْدِدٌ کے معنی، مکبر اور اسم تصغیر کا استعمال

مُوَیْدِدٌ اسم تصغیر ہے، اس کا مکبر مَادٌّ (اسم فاعل، مَدَّ یَمُدُّ باب نصر سے، اصل مَادِدٌ) ہے فاعل کی تصغیر فُوَیْعِل کے وزن پر آتی ہے: الف واو سے بدلا اور یاء تصغیر درمیان میں آئی تو ادغام ختم ہو گیا: مُوَیْدِدٌ؛ بعض ادغام باقی رکھ کر مُوَیْدٌّ بھی کہتے ہیں (جیسے دَابَّۃ سے دُوَیْبَّۃ) معنی: تھوڑا کھینچنے یا پھیلانے والا تصغیر صرف چھوٹا پن بتانے کے لیے نہیں، تحقیر، تقلیل، قرب اور شفقت کے لیے بھی آتی ہے، جیسے یَا بُنَیَّ تصغیر اسم متمکن کی ہوتی ہے؛ فعل، حرف، اکثر اسماء مبنیہ، اور اللہ تعالیٰ و انبیاء کے ناموں جیسے قابل تعظیم اسماء کی تصغیر نہیں کی جاتی

صرف1 جواب
8 اکتوبر، 2025

أَفَتَسْتَسْقُونَنَّهَا کی صرفی تحقیق

أَ حرف استفہام، فَ عاطفہ تَسْتَسْقُوْنَ صیغہ جمع مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی باب استفعال (اِسْتَسْقٰی یَسْتَسْقِیْ اِسْتِسْقَاءً)، حروف اصلیہ س ق ی اگر نون تاکید ثقیلہ مراد ہو تو جمع مذکر میں واوِ ضمیر نون تاکید سے پہلے گرتی ہے، صحیح شکل: أَفَتَسْتَسْقُنَّهَا هَا ضمیر مفعول بہ معنی: کیا پھر تم اس سے بارش/پانی طلب کرو گے؟

صرف1 جواب
21 جولائی، 2025

اِجَابَۃ کی صرفی تحقیق مع تعلیل

اِجَابَۃٌ مصدر ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی باب افعال (اَجَابَ یُجِیْبُ اِجَابَۃً)، حروف اصلیہ ج و ب اصل میں اِجْوَابٌ تھا، واو کی حرکت ماقبل جیم کو دی اور واو کو الف سے بدلا تو دو الف جمع ہوئے، ایک الف گرا دیا گرے ہوئے حرف کے عوض آخر میں تاء لائی: اِجَابَۃٌ (جیسے اِقَامَۃ، اِسْتِقَامَۃ) معنی: جواب دینا، قبول کرنا

صرف1 جواب
30 ستمبر، 2025

التأز سے مضارع جمع مؤنث حاضر

التأز سے فعل ماضی جمع مؤنث حاضر کا صحیح صیغہ تَأَزْتُنَّ ہے (جیسا کہ منظور شدہ جواب میں ہے) فعل مضارع جمع مؤنث حاضر: تَأْزَزْنَ (فک ادغام کے ساتھ؛ مضاعف میں جمع مؤنث میں ادغام نہیں ہوتا) صارفٹ ویئر میں تَأَزْتُنْ قبول نہ ہونے کی وجہ غالباً اعراب یا ہمزہ کی غلط شکل ہے؛ تَأَزْتُنَّ لکھیں اگر مادہ اور باب الگ مراد ہو تو اعراب کے ساتھ پورا مادہ لکھ کر بھیجیں

صرف1 جواب
2 فروری، 2026

لَمْ اَکُ کی تعلیل

اَکُ اصل میں اَکُوْنُ تھا، صیغہ واحد متکلم فعل مضارع ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر ینصر (کَانَ یَکُوْنُ) لَمْ جازمہ داخل ہوا تو نون ساکن ہوا، واو اور نون دو ساکن جمع ہوئے تو واو گر گئی: لَمْ اَکُنْ پھر کثرت استعمال کی وجہ سے نون کو تخفیفاً حذف کرنا جائز ہے: لَمْ اَکُ، جیسے وَلَمْ اَکُ بَغِیًّا یہ حذف اس وقت جائز ہے جب کان کا مضارع مجزوم بالسکون ہو اور اس کے بعد ساکن یا ضمیر متصل نہ ہو

صرف1 جواب
30 ستمبر، 2025

تَتَنَزَّلُ میں دو تاء کیوں ہیں

تَتَنَزَّلُ صیغہ واحد مؤنث غائب فعل مضارع معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب تفعل (تَنَزَّلَ یَتَنَزَّلُ)، حروف اصلیہ ن ز ل پہلی تاء علامت مضارع ہے اور دوسری تاء باب تفعل کی ہے باب تفعل اور تفاعل کے مضارع میں دو تاء جمع ہوں تو ایک کو حذف کرنا جائز ہے، اس لیے حم السجدہ میں تَتَنَزَّلُ اصل کے مطابق آیا اور سورۃ القدر میں تَنَزَّلُ ایک تاء حذف کر کے

صرف1 جواب
3 اکتوبر، 2025

عِرْفَان کی گردان (صرف صغیر)

عَرَفَ یَعْرِفُ عِرْفَانًا وَّمَعْرِفَۃً فَھُوَ عَارِفٌ وَعُرِفَ یُعْرَفُ عِرْفَانًا فَذَاکَ مَعْرُوْفٌ الامر منہ اِعْرِفْ، والنہی عنہ لَا تَعْرِفْ الظرف منہ مَعْرِفٌ، والآلۃ منہ مِعْرَفٌ مِعْرَفَۃٌ مِعْرَافٌ افعل التفضیل منہ اَعْرَفُ، والمؤنث منہ عُرْفٰی ثلاثی مجرد صحیح باب ضرب یضرب، حروف اصلیہ ع ر ف

صرف1 جواب
3 اکتوبر، 2025

ثَقَلَیْن کی صرفی تحقیق

اَلثَّقَلَیْنِ صیغہ تثنیہ (حالت نصب یا جر) ثَقَلٌ کی، اسم جامد ثلاثی مجرد صحیح، حروف اصلیہ ث ق ل؛ حالت رفع میں اَلثَّقَلَانِ معنی: جن اور انسان، جیسے سَنَفْرُغُ لَکُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِ ثَقَل کے لغوی معنی بوجھ یا قیمتی چیز ہیں، حدیث ثقلین میں یہی معنی (دو قیمتی چیزیں) ہے

صرف1 جواب
3 اکتوبر، 2025

یُضْلِلْ کی صرفی تحقیق

یُضْلِلْ صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مجزوم معروف ثلاثی مزید فیہ مضاعف ثلاثی باب افعال (اَضَلَّ یُضِلُّ اِضْلَالًا)، حروف اصلیہ ض ل ل اصل میں یُضِلُّ تھا، شرط (مَنْ) کی وجہ سے مجزوم ہوا تو آخر ساکن ہوا اور فک ادغام کیا: یُضْلِلْ، جیسے وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ معنی: گمراہ کرے

صرف1 جواب
4 اکتوبر، 2025

خٰطِئِیْنَ کی صرفی تحقیق

خٰطِئِیْنَ صیغہ جمع مذکر سالم اسم فاعل (حالت نصب یا جر) ثلاثی مجرد مہموز اللام باب سمع یسمع (خَطِئَ یَخْطَأُ)، حروف اصلیہ خ ط ء واحد خَاطِئٌ، حالت رفع میں خَاطِئُوْنَ معنی: خطاکار، جان بوجھ کر غلطی کرنے والے، جیسے اِنَّا کُنَّا خٰطِئِیْنَ

صرف1 جواب
4 اکتوبر، 2025

ضَرَبْتُ والا قانون (توالی اربع حرکات)

ضَرَبْتُ والا قانون توالی اربع حرکات کا قانون ہے: ایک کلمہ (یا کلمے کی طرح متصل) میں چار حرکتیں پے در پے جمع نہیں ہوتیں ضَرَبَ کے ساتھ ضمیر مرفوع متحرک تاء لگی تو ضَرَبَتُ میں چار حرکتیں پے در پے ہو جاتیں، اس لیے باء (لام کلمہ) کو ساکن کر دیا: ضَرَبْتُ اسی طرح ضَرَبْنَ، ضَرَبْنَا، ضَرَبْتُمَا وغیرہ

صرف1 جواب
6 اکتوبر، 2025

ضاربن کونسا صیغہ ہے

اگر ضَارِبٌ (تنوین کو نون لکھا گیا) مراد ہے تو صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح باب ضرب یضرب، حروف اصلیہ ض ر ب اگر ضَارَبْنَ ہے تو صیغہ جمع مؤنث غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب مفاعلہ (ضَارَبَ یُضَارِبُ) اعراب لگا کر لکھیں تو صیغہ متعین ہو جائے گا

صرف1 جواب
7 اکتوبر، 2025

الاستغاثۃ کی صرفی تحقیق

اَلْاِسْتِغَاثَۃُ مصدر ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی باب استفعال (اِسْتَغَاثَ یَسْتَغِیْثُ اِسْتِغَاثَۃً)، حروف اصلیہ غ و ث اصل میں اِسْتِغْوَاثٌ تھا، واو کی حرکت ماقبل غین کو دی اور واو کو الف سے بدلا تو دو الف جمع ہوئے، ایک الف گرا دیا گرے ہوئے حرف کے عوض آخر میں تاء لائی: اِسْتِغَاثَۃٌ (جیسے اِسْتِقَامَۃ) معنی: فریاد کرنا، مدد طلب کرنا

صرف1 جواب
7 اکتوبر، 2025

لفیف مقرون میں اسم فاعل کی تعلیل

لفیف مقرون کے اسم فاعل میں عین کلمہ (واو) میں تعلیل نہیں ہوتی، صرف لام کلمہ (یاء) میں ناقص والی تعلیل ہوتی ہے مثال: طَوٰی یَطْوِیْ سے طَاوٍ اصل میں طَاوِیٌ تھا، یاء پر ضمہ ثقیل تھا اسے گرا دیا، یاء اور تنوین دو ساکن جمع ہوئے تو یاء گر گئی: طَاوٍ حالت نصب میں طَاوِیًا (فتحہ ہلکا ہونے کی وجہ سے باقی رہتا ہے)، معرف باللام میں اَلطَّاوِیْ اسی طرح رَوٰی سے رَاوٍ، شَوٰی سے شَاوٍ

صرف1 جواب
9 اکتوبر، 2025

یَزِرُوْنَ کا صیغہ اور باب

یَزِرُوْنَ صیغہ جمع مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد مثال واوی باب ضرب یضرب (وَزَرَ یَزِرُ وِزْرًا)، حروف اصلیہ و ز ر اصل میں یَوْزِرُوْنَ تھا، واو علامت مضارع مفتوحہ اور کسرہ کے درمیان واقع ہوئی تو گر گئی: یَزِرُوْنَ معنی: وہ (گناہ کا) بوجھ اٹھاتے ہیں، جیسے اَلَا سَاءَ مَا یَزِرُوْنَ

صرف1 جواب
9 اکتوبر، 2025

لَمْ یَسْوَدِدْ کی صرفی تحقیق

لَمْ یَسْوَدِدْ صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع منفی (نفی جحد بلم) معروف ثلاثی مزید فیہ باب افعلال (اِسْوَدَّ یَسْوَدُّ اِسْوِدَادًا)، حروف اصلیہ س و د اصل میں یَسْوَدُّ تھا، لَمْ جازمہ داخل ہوا تو آخر ساکن ہوا مضاعف مجزوم میں فک ادغام جائز ہے، اس لیے لَمْ یَسْوَدِدْ بھی درست ہے اور ادغام کے ساتھ لَمْ یَسْوَدَّ یا لَمْ یَسْوَدِّ بھی معنی: وہ سیاہ نہیں ہوا

صرف1 جواب
13 اکتوبر، 2025

مُلٰقُوْا کی صرفی تحقیق اور تعلیل

مُلٰقُوْا صیغہ جمع مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی باب مفاعلہ (لَاقٰی یُلَاقِیْ مُلَاقَاۃً)، حروف اصلیہ ل ق ی اصل میں مُلَاقِیُوْنَ تھا، اضافت کی وجہ سے نون جمع گر گیا: مُلَاقِیُوْا (جیسے مُلٰقُوْا رَبِّھِمْ) یاء پر ضمہ ثقیل تھا، ماقبل کی حرکت ہٹا کر یاء کا ضمہ قاف کو دیا یاء اور واو دو ساکن جمع ہوئے تو یاء گر گئی: مُلَاقُوْا

صرف1 جواب
25 اکتوبر، 2025

وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ میں اَعْلَمُ کا صیغہ

آیت میں لفظ وَاَعْلَمُ ہے (واعلموا نہیں): و عاطفہ، اَعْلَمُ صیغہ واحد متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب سمع یسمع (عَلِمَ یَعْلَمُ)، حروف اصلیہ ع ل م معنی: اور میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے تَعْلَمُوْنَ صیغہ جمع مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف اسی باب سے اگر اِعْلَمُوْا مراد ہو تو وہ جمع مذکر حاضر فعل امر معروف ہے

صرف1 جواب
5 نومبر، 2025

جَلَّ جَلَالُہٗ کون سا صیغہ ہے

جَلَّ صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد مضاعف ثلاثی باب ضرب یضرب (جَلَّ یَجِلُّ جَلَالًا)، حروف اصلیہ ج ل ل اصل میں جَلَلَ تھا، دو ہم جنس حروف متحرک جمع ہوئے تو پہلے کو ساکن کر کے دوسرے میں ادغام کیا: جَلَّ جَلَالُ مصدر ثلاثی مجرد مضاعف، مضاف؛ ہٗ ضمیر مضاف الیہ ترکیب: جلّ فعل، جلال مضاف ہ مضاف الیہ ملکر فاعل، فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ (ثنائیہ) جو اللہ کے نام کے بعد جملہ معترضہ کے طور پر آتا ہے معنی: اس کی شان بلند ہے

صرف1 جواب
15 اکتوبر، 2026

فعل اور فعال کس کہتے ہے

فعل: وہ کلمہ ہے جو اپنے معنی کے لحاظ سے کسی زمانے (ماضی، حال یا مستقبل) میں کام کے ہونے یا کرنے پر دلالت کرے، جیسے ضَرَبَ (اس نے مارا)، يَضْرِبُ (وہ مارتا ہے)۔ فعّال: صیغۂ مبالغہ کا وزن ہے (فَعَّال)، یعنی کسی کام کو بہت زیادہ کرنے والا، جیسے ضَرَّاب (بہت مارنے والا)، غَفَّار (بہت بخشنے والا)۔

صرف1 جواب
4 نومبر، 2025

الرُّعَافِ الدَّائِمِ، اَقْرَائِھَا، تَدَعُ، تَوَضَّئ، الْوَطْءَ کی صرفی تحقیق

الرُّعَاف: مصدر ثلاثی مجرد صحیح باب فتح یفتح (رَعَفَ یَرْعَفُ)، حروف اصلیہ ر ع ف، معنی ناک سے خون آنا الدَّائِم: اسم فاعل ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر (دَامَ یَدُوْمُ)، حروف د و م اَقْرَائِھَا: اَقْرَاء جمع قُرْء (حیض یا طہر)، ثلاثی مجرد مہموز اللام، ھا مضاف الیہ تَدَعُ: واحد مذکر غائب مضارع معروف ثلاثی مجرد مثال واوی باب فتح (وَدَعَ یَدَعُ)، اصل یَوْدَعُ، واو گر گئی تَوَضَّئْ / تَوَضَّأْ: امر واحد مذکر حاضر باب تفعل لفیف مفروق (وَضَأَ)، حروف و ض ا الْوَطْء: مصدر ثلاثی مجرد مہموز اللام باب فتح (وَطِئَ یَطَأُ)، حروف و ط ا

صرف1 جواب
3 جنوری، 2026

اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ وغیرہ کی صرفی تحقیق

کُوِّرَتْ: واحد مؤنث غائب ماضی مجہول ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی باب تفعیل (کَوَّرَ)، حروف ک و ر عُطِّلَتْ: واحد مؤنث غائب ماضی مجہول باب تفعیل (عَطَّلَ)، حروف ع ط ل کُشِطَتْ: واحد مؤنث غائب ماضی مجہول ثلاثی مجرد صحیح (کَشَطَ)، حروف ک ش ط لُفَّتْ، ذُہِبَ، تُرِکَتْ، فُتِحَتْ، بُسِطَتْ، نُزِعَتْ: سب ماضی مجہول صیغے ہیں

صرف1 جواب
31 دسمبر، 2025

نَمْ کس باب سے اور تعلیل

نَمْ صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب سمع یسمع (نَامَ یَنَامُ، اصل نَوِمَ یَنْوَمُ)، حروف اصلیہ ن و م اصل میں اِنْوَمْ تھا، واو کی حرکت نون کو دی تو واو اور میم دو ساکن جمع ہوئے، واو گر گئی، ہمزہ وصل کی ضرورت نہ رہی: نَمْ نوٹ: سابقہ بعض جوابات میں اسے باب نصر (اُنْوُمْ سے نُمْ) لکھا گیا ہے، لغت کے مطابق نام ینام باب سمع ہے

صرف1 جواب
23 نومبر، 2025

اَلْاَعْلٰی اور طَاھِر کی صرفی تحقیق

اَلْاَعْلٰی صیغہ واحد مذکر اسم تفضیل ثلاثی مجرد ناقص واوی (عَلَا یَعْلُوْ باب نصر)، حروف اصلیہ ع ل و اصل اَعْلَوُ تھا، واو چوتھی جگہ ہو کر یاء سے بدلی، پھر یاء متحرک ماقبل مفتوح الف سے بدلی: اَعْلٰی طَاھِرٌ صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح باب نصر ینصر (طَھَرَ یَطْھُرُ)، حروف اصلیہ ط ھ ر

صرف1 جواب
6 نومبر، 2025

تَرَیْنَ کی تعلیل

تَرَیْنَ صیغہ واحد مؤنث حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد مہموز العین ناقص یائی باب فتح یفتح (رَاٰی یَرٰی)، حروف اصلیہ ر ء ی اصل میں تَرْاَیِیْنَ تھا، ہمزہ کی حرکت راء کو دے کر ہمزہ حذف کیا: تَرَیِیْنَ پہلی یاء (لام کلمہ) متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدلا: تَرَایْنَ الف اور یاء دو ساکن جمع ہوئے تو الف گر گیا: تَرَیْنَ

صرف1 جواب
7 نومبر، 2025

سورہ لقمان میں تَکُ مجزوم، نون کیوں گرا اور تَکُنْ میں کیوں رہا

تَکُ اصل میں تَکُوْنُ تھا، اِنْ شرطیہ کی وجہ سے مجزوم ہوا تو تَکُنْ بنا (واو اجتماع ساکنین سے گری) فعل کَانَ کا مضارع جب سکون کے ساتھ مجزوم ہو، اس کے بعد ساکن حرف یا ضمیر متصل نہ ہو، تو اس کی نون (لام کلمہ) کو حذف کرنا جائز ہے، واجب نہیں اسی لیے اِنْ تَکُ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ میں نون گرائی گئی اور فَتَکُنْ فِیْ صَخْرَۃٍ میں باقی رکھی گئی، دونوں درست ہیں مادہ ک و ن ہے

صرف1 جواب
11 نومبر، 2025

مَیْتَۃ اصل اور تصرف کا قاعدہ

مَیْتَۃٌ مؤنث ہے مَیْت کا، ثلاثی مجرد اجوف واوی (مَاتَ یَمُوْتُ)، حروف اصلیہ م و ت اصل میں مَیْوِتٌ (بر وزن فَیْعِل) تھا، واو اور یاء جمع ہوئیں اور پہلی ساکن تھی تو واو کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کیا: مَیِّتٌ پھر تخفیف کے لیے دوسری یاء حذف کی: مَیْتٌ، اور مؤنث مَیْتَۃٌ

صرف1 جواب
13 نومبر، 2025

تَدْعُوْنَ میں تعلیل

تَدْعُوْنَ صیغہ جمع مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص واوی باب نصر ینصر (دَعَا یَدْعُوْ)، حروف اصلیہ د ع و اصل میں تَدْعُوُوْنَ تھا، واو مضموم ماقبل مضموم ہونے کی وجہ سے ضمہ گرایا، دو واو ساکن جمع ہوئیں تو پہلی واو (لام کلمہ) گر گئی: تَدْعُوْنَ

صرف1 جواب
22 نومبر، 2025

دَسَّسَ سے دَسّٰی کیسے ہوا

دَسّٰی صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ باب تفعیل اصل میں دَسَّسَ تھا، ایک کلمہ میں تین ہم جنس حروف جمع ہوئے تو تخفیف کے لیے آخری سین کو یاء سے بدلا: دَسَّیَ قاعدہ: یاء متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدل دیتے ہیں، تو دَسّٰی ہو گیا مثال: وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىھَا

صرف1 جواب
8 دسمبر، 2025

لَا تَتَّخِذْ میں کونسا قانون

لَا تَتَّخِذْ صیغہ واحد مذکر حاضر فعل نہی معروف ثلاثی مزید فیہ باب افتعال (اِتَّخَذَ یَتَّخِذُ) اکثر کے نزدیک اَخَذَ (مہموز الفاء) سے ہے: اصل اِئْتَخَذَ، ہمزہ کو یاء سے بدلا (اِیْتَخَذَ)، پھر یاء کو تاء سے بدل کر تاء افتعال میں ادغام کیا: اِتَّخَذَ (یہ خلاف قیاس ہے) بعض کے نزدیک تَخِذَ سے ہے، اس صورت میں تعلیل صرف ادغام کی ہے لا نہی کی وجہ سے آخر میں جزم ہے

صرف1 جواب
15 دسمبر، 2025

لَاُصَلِّبَنَّکُمْ صیغہ مع باب

لَاُصَلِّبَنَّکُمْ میں لام جواب قسم ہے اُصَلِّبَنَّ صیغہ واحد متکلم فعل مضارع مثبت معروف بانون تاکید ثقیلہ ثلاثی مزید فیہ صحیح باب تفعیل (صَلَّبَ یُصَلِّبُ تَصْلِیْبًا)، حروف اصلیہ ص ل ب کُمْ ضمیر مفعول بہ معنی: میں تمہیں ضرور سولی پر چڑھاؤں گا

صرف1 جواب
17 دسمبر، 2025

اَنَابَ یُنِیْبُ ثلاثی مجرد سے

اَنَابَ یُنِیْبُ ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی باب افعال ہے، اس کا ثلاثی مجرد نَابَ یَنُوْبُ (باب نصر ینصر) ہے حروف اصلیہ ن و ب اَنَابَ اصل میں اَنْوَبَ تھا، واو کی حرکت نون کو دی، واو ساکن ماقبل مفتوح کو الف سے بدلا: اَنَابَ یُنِیْبُ اصل میں یُنْوِبُ تھا، واو کی حرکت نون کو دی، واو ساکن ماقبل مکسور کو یاء سے بدلا: یُنِیْبُ

صرف1 جواب
22 دسمبر، 2025

یُصَلُّوْنَ کس باب سے ہے

یُصَلُّوْنَ صیغہ جمع مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی باب تفعیل (صَلّٰی یُصَلِّیْ)، حروف اصلیہ ص ل و اصل میں یُصَلِّیُوْنَ تھا، یاء کا ضمہ ثقیل ہونے کی وجہ سے گرا، یاء اور واو ساکن جمع ہوئیں تو یاء گر گئی، لام کا کسرہ واو کی مناسبت سے ضمہ میں بدلا: یُصَلُّوْنَ اگر یَصِلُوْنَ مراد ہو تو ثلاثی مجرد مثال واوی باب ضرب (وَصَلَ یَصِلُ)، اصل یَوْصِلُوْنَ

صرف1 جواب
30 دسمبر، 2025

اِتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہٖ میں تُقَاتِہٖ کا باب اور سولہ اقسام

تُقَاةٌ اسم مصدر ثلاثی مزید فیہ لفیف مقرون باب افتعال (اِتَّقٰی یَتَّقِیْ)، حروف اصلیہ و ق ی اصل میں وُقَیَۃٌ تھا، یاء متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدلا تو وُقَاۃٌ، پھر واو کو خلاف قیاس تاء سے بدلا تو تُقَاۃٌ سولہ اقسام میں مفرد منصرف صحیح ہے (آخر میں حرف علت نہیں)

صرف1 جواب
10 جنوری، 2026

جمع مکسر کے اوزان کون کون سے ہیں؟

جمعِ مکسّر کے اوزان دو قسم کے ہیں: 1. جمعِ قلت (تین سے دس تک)، چار اوزان: أَفْعُل: أَنْفُس، أَكْلُب أَفْعَال: أَقْلَام، أَبْوَاب أَفْعِلَة: أَطْعِمَة، أَسْلِحَة فِعْلَة: فِتْيَة، صِبْيَة 2. جمعِ کثرت (دس سے اوپر)، مشہور اوزان: فُعُول: قُلُوب، بُيُوت فِعَال: رِجَال، جِبَال فُعَّل: رُكَّع، سُجَّد فُعَلَاء: عُلَمَاء، شُعَرَاء أَفْعِلَاء: أَصْدِقَاء، أَغْنِيَاء فَعَالِل (منتہی الجموع): جَعَافِر، دَرَاهِم

صرف1 جواب
9 نومبر، 2025

جواب قسم کی صورتیں۔

جوابِ قسم کی صورتیں: 1. جملہ اسمیہ ہو (مثبت): إِنَّ اور لام کے ساتھ۔ مثال: وَاللَّهِ إِنَّ زَيْدًا لَقَائِمٌ، وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ۔ 2. جملہ فعلیہ ماضی (مثبت): لام اور قَدْ کے ساتھ۔ مثال: وَاللَّهِ لَقَدْ قَامَ زَيْدٌ، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا... قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا۔ 3. جملہ فعلیہ مضارع (مثبت): لام اور نونِ تاکید کے ساتھ۔ مثال: وَاللَّهِ لَأَفْعَلَنَّ، وَتَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ۔ 4. منفی صورت: مَا، لَا، إِنْ کے ساتھ۔ مثال: وَاللَّهِ مَا قَامَ زَيْدٌ، وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ، وَاللَّهِ إِنْ زَيْدٌ قَائِمٌ۔ 5. جوابِ قسم محذوف ہو: جب قسم کے بعد شرط ہو اور شرط کا جواب پہلے آ چکا ہو یا قسم کا جواب شرط کے جواب سے مستغنی ہو۔

صرف1 جواب
25 دسمبر، 2025

تصغیر بنانے کا طریقہ

تصغیر کے تین اوزان ہیں: 1. فُعَيْل: ثلاثی (تین حرفی) اسم کے لیے۔ طریقہ: پہلے حرف پر ضمہ، دوسرے پر فتحہ، پھر یاء ساکنہ تصغیر لائیں، آخری حرف جیسا ہو۔ مثال: رَجُل۔ رُجَيْل، كَلْب ۔ كُلَيْب۔ 2. فُعَيْعِل: چار حرفی اسم کے لیے۔ طریقہ: پہلے پر ضمہ، دوسرے پر فتحہ، یاء ساکنہ، اور چوتھے سے پہلے والے حرف پر کسرہ مثال: جَعْفَر ۔ جُعَيْفِر، دِرْهَم ۔ دُرَيْهِم۔ 3. فُعَيْعِيل: پانچ حرفی اسم کے لیے، جس کا چوتھا حرف مدّہ (الف، واو، یاء) ہو۔ طریقہ: فُعَيْعِل کی طرح بنائیں، اور مدّہ کو یاء سے بدل دیں۔ مثال: مِفْتَاح ۔ مُفَيْتِيح، قِنْدِيل ۔ قُنَيْدِيل۔

صرف1 جواب
28 دسمبر، 2025

صرفی اجراء اور صرفی دائرہ کار کی وضاحت فرما دیں

صرفی اجراء: کسی کلمے کے صیغے کی صرفی حالت بیان کرنا، یعنی صیغے کا نام، بحث (صحیح، مضاعف، اجوف وغیرہ)، باب، مادہ، جنس و عدد، وزن اور تعلیل بتانا۔ مثال: قَالَ ۔ ماضی معروف، اجوف واوی، مادہ ق-و-ل، وزن فَعَلَ، اصل قَوَلَ۔ صرفی دائرہ کار: علمِ صرف کی حدود، یعنی صرف اسمِ متمکن اور فعلِ متصرف کی بناوٹ، اوزان اور تعلیل سے بحث کرتا ہے۔ حروف، مبنی اسماء، جامد افعال (نِعْمَ، بِئْسَ) اور آخر کلمہ کا اعراب اس سے باہر ہیں۔

صرف1 جواب
30 دسمبر، 2025

ترخیم میں منادہ میں مضاف کے نہ ھونے کی شرط کیوں لگائی اس کی وضاحت تفصیل کے ساتھ کر دیجئے

بات: ترخیم تخفیف کے لیے ہے، اور تخفیف اس جگہ مناسب ہوتی ہے جہاں لفظ مفرد، مستقل اور کثیرالاستعمال ہو۔ مضاف میں یہ بات نہیں، اس لیے منادیٰ مضاف کی ترخیم نہیں ہوتی۔ وجوہات: 1. مضاف اور مضاف الیہ ایک کلمے کی طرح ہیں۔ مضاف الیہ مضاف کا تکملہ ہے، اور مضاف کا آخر اصل میں مضاف الیہ سے پہلے ہوتا ہے، آخرِ کلام نہیں۔ ترخیم آخر کلمہ گرانے کا نام ہے۔ اگر مضاف کا آخری حرف گرائیں (جیسے یا عبدَ اللہ ← یا عبدَ) تو نہ لفظ کا آخر گرا، نہ ترخیم کا مقصد حاصل ہوا۔ اور اگر مضاف الیہ کا آخر گرائیں (یا عبدَ اللّٰہ ۔ یا عبدَ اللّٰہ) تو مضاف الیہ کا مجرور ہونا اور اس کا معنی بگڑ جاتا ہے۔

صرف1 جواب
12 جنوری، 2026

خطایا کونسا صیغہ ہے

خَطَایَا صیغہ جمع مکسر (منتہی الجموع) خَطِیْئَۃٌ کی، ثلاثی مجرد مہموز اللام، حروف اصلیہ خ ط ء اصل میں خَطَایِئُ بر وزن فَعَائِل تھا، یاء زائدہ الف کے بعد ہمزہ سے بدلی تو خَطَائِئُ دوسرا ہمزہ یاء سے بدلا تو خَطَائِیُ، کسرہ کو فتحہ سے بدلا تو خَطَائَیُ، یاء متحرک ماقبل مفتوح الف سے بدلی تو خَطَائَا ہمزہ دو الفوں کے درمیان یاء سے بدلا تو خَطَایَا معرب کی اقسام میں غیر منصرف ہے

صرف1 جواب
13 جنوری، 2026

الطّامّ کا باب، حروف اصلیہ اور مصدر

حروف اصلیہ ط م م باب نصر ینصر (طَمَّ یَطُمُّ)، ضرب یضرب (یَطِمُّ) بھی منقول ہے مصدر طَمٌّ اور طُمُوْمٌ، معنی: ڈھانپ لینا، غالب آ جانا الطّامّ صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد مضاعف، اصل طَامِمٌ تھا، ادغام کیا تو طَامٌّ؛ اسی سے الطَّامَّۃُ الْکُبْرٰی

صرف1 جواب
21 جنوری، 2026

ضیاء کی صرفی تعلیل

ضِیَاءٌ مصدر ثلاثی مجرد اجوف واوی مہموز اللام (ضَاءَ یَضُوْءُ)، حروف اصلیہ ض و ء اصل میں ضِوَاءٌ تھا، واو ماقبل مکسور مصدر میں (جس کے فعل میں تعلیل ہوئی) یاء سے بدل دی جیسے قِیَامٌ اور صِیَامٌ، تو ضِیَاءٌ ہو گیا ضیاء ضَوْءٌ کی جمع بھی آتی ہے

صرف1 جواب
25 جنوری، 2026

وَدَأَ یَوْدَأُ اور وَسِخَ یَوْسَخُ میں یَعِدُ والا قاعدہ کیوں جاری نہیں ہوا

یَعِدُ والا قاعدہ یہ ہے کہ مضارع میں واو جب یاء مفتوحہ اور کسرہ کے درمیان آئے تو گر جاتی ہے: یَوْعِدُ سے یَعِدُ یَوْدَأُ اور یَوْسَخُ میں عین کلمہ پر فتحہ ہے کسرہ نہیں، اس لیے شرط نہیں پائی گئی اور واو باقی رہی یَضَعُ، یَھَبُ میں اصل کسرہ تھا (یَوْضِعُ)، واو گرنے کے بعد حرف حلقی کی وجہ سے فتحہ آیا؛ جبکہ یہاں اصل ہی میں فتحہ ہے

صرف1 جواب
25 جنوری، 2026

دُعًی کون سا صیغہ ہے، تعلیل

دُعًی صیغہ جمع مؤنث اسم تفضیل ثلاثی مجرد ناقص واوی باب نصر ینصر (دُعْیَا کی جمع) اصل میں دُعَوٌ تھا، واو متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدلا تو دُعَانْ (تنوین نون کی صورت میں) الف اور تنوین میں اجتماع ساکنین کی وجہ سے الف گرا دیا تو دُعًا، رسم الخط میں یاء کی صورت میں لکھا گیا: دُعًی

صرف1 جواب
25 جنوری، 2026

زعفران کی صرفی و نحوی تحقیق

صرفی: اسم جامد رباعی مزید فیہ صحیح، حروف اصلیہ ز ع ف ر، آخر میں الف نون زائد نحوی: لفظ موضوع مفرد اسم نکرہ مذکر واحد معرب مفرد منصرف صحیح، اعراب بالحرکت اسم جنس ہونے کی وجہ سے منصرف ہے، اگر کسی کا نام (علم) ہو تو علمیت اور الف نون زائدتان کی وجہ سے غیر منصرف

صرف1 جواب
5 فروری، 2026

لَا بُدَّ میں بُدّ کی صرفی تحقیق

بُدٌّ اسم ثلاثی مجرد مضاعف ثلاثی، حروف اصلیہ ب د د اصل میں بُدْدٌ تھا، دو ہم جنس حروف جمع ہوئے پہلا ساکن تو ادغام کیا: بُدٌّ معنی: چارہ، فرار، جدائی (بَدَّ یَبُدُّ باب نصر: الگ کرنا) لَا بُدَّ میں لا نفی جنس ہے، بُدَّ اس کا اسم مبنی علی الفتح، خبر محذوف (مِنْہُ)

صرف1 جواب
6 فروری، 2026

اذا کے بعد والے فعل مضارع کا اعراب کیا ہوگا؟

اِذَا کے بعد فعلِ مضارع عام طور پر مرفوع ہوتا ہے۔ وجہ: اِذَا ظرفِ زمان متضمن معنی شرط ہے، اور یہ جازم نہیں ہے، یعنی مضارع کو جزم نہیں دیتا۔ اس لیے مضارع اپنی اصل حالت (رفع) پر رہتا ہے۔ مثال: إِذَا يَأْتِي الصَّيْفُ نَسْبَحُ۔

صرف1 جواب
2 فروری، 2026

وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ (سورۃ النور: 32) اس میں لفظ الایامی کی مکمل صرفی تحقیق بھیجیں مکمل تعلیلات کے ساتھ،جہاں جہاں تعلیل ہوئی ہو وہاں وہاں تعلیل کریں۔۔جزاکم اللہ خیرا۔

الْأَيَامَى ۔ صرفی تحقیق 1. لفظ کی نوعیت: أَيَامَى جمعِ مکسّر ہے، واحد أَيِّم (بے شوہر عورت، یا بے بیوی مرد)۔ مادہ ا-ی-م (أ-ي-م)، وزن فَعَالَى۔ جمعِ منتہی الجموع نہیں، بلکہ اسی قاعدے سے ہے جس سے یَتَامَى (جمع یَتِيم) اور أَيَامَى آتے ہیں۔ 2. واحد کی اصل اور تعلیل: أَيِّم کی اصل أَيْيِم (وزن فَيْعِل) ہے، یعنی عین کلمہ یاء اور اس سے پہلے یاء ساکنہ (زائد)۔ دو یاء جمع ہوئیں، پہلی ساکن، تو ادغام ہوا ← أَيِّم۔ (دوسرا قول: وزن فَيْعِل کی جگہ فَعِيل سے اصل أَيِيم، اور تخفیفاً ادغام۔ پہلا قول مشہور ہے۔) 3. جمع کی تشکیل: أَيِّم کی جمع فَعَائِل کے وزن پر أَيَائِم بنتی۔ اصل: أَيَائِم ← أَيَايِم (ہمزہ زائدہ کا یاء سے بدلنا)۔

صرف1 جواب
26 فروری، 2026

ثلاثى بي همزه وصل کے کتنے باب ہیں

ثلاثی مزید فیہ میں ہمزۂ وصل والے ابواب چھ ہیں: افتعال: اِجْتِمَاع انفعال: اِنْقِطَاع استفعال: اِسْتِخْرَاج افعلال: اِحْمِرَار افعیعال: اِعْشِیشَاب افعوعال: اِغْدِیدَان (بعض کتب میں افعوّال اور افعالّ بھی شمار ہوتے ہیں، اس لیے اختلاف ہے۔) ثلاثی مجرد: اس کا کوئی باب ہمزۂ وصل والا نہیں، صرف امرِ حاضر میں ہمزہ آتا ہے: اُنْصُرْ (مضموم)، اِضْرِبْ / اِعْلَمْ (مکسور)۔ نوٹ: پچھلے جواب میں میں نے پانچ لکھے تھے اور افعیعال و افعوعال کو ایک شمار کیا تھا؛ زیادہ درست یہ ہے کہ دونوں الگ باب ہیں۔

صرف1 جواب
2 مارچ، 2026

کیا اسم کا الف مفتوح ہوتا ہے رہنمائی فرمائیں

اسم کے شروع کا ہمزہ وصل مکسور ہوتا ہے، مفتوح نہیں۔ اگر سوال "اِسْم" کے الف کے بارے میں ہے تو یہی قاعدہ ہے۔ تفصیل:اِسْم کا الف ہمزۂ وصل ہے، اور ابتدا میں اس پر کسرہ آتا ہے: اِسْمٌ، بِسْمِ اللَّهِ (درمیان میں وصل کی وجہ سے الف گر جاتا ہے)۔ اسی طرح ان اسماء کے شروع میں بھی ہمزۂ وصل ہے، اور ابتدا میں مکسور ہے: ابْن، ابْنَة، امْرُؤ، امْرَأَة، اثْنَان، اثْنَتَان، اسْت، ابْنُم۔ (امرؤ میں بعض کے نزدیک ضمّہ بھی آتا ہے، اتباعاً۔)

صرف1 جواب
7 مارچ، 2026

جب ضمیر مبنی ہوتا ہے تو (ہ) ضمیر پر جب حرف جر ہوتا ہے تو اس پہ کسرہ کیو ،اس کا اعراب کیو بدلتا ہے

ضمیر مبنی ہے، اس کا اعراب نہیں بدلتا؛ جو تبدیلی ہوتی ہے وہ مناسبتِ لفظی (اتباع) کی وجہ سے ہے۔ قاعدہ: ضمیرِ غائب ہ / ہُ کی اصل ضمّہ ہے: لَهُ، كِتَابُهُ، عَلَيْهُ۔ لیکن جب اس سے پہلے کسرہ یا یاءِ ساکنہ ہو تو ہاء کا ضمّہ کسرہ میں بدل جاتا ہے: بِهِ، فِيهِ، عَلَيْهِ، إِلَيْهِ، غُلَامِهِ۔

صرف1 جواب
8 مارچ، 2026

بنیان منصرف ہے یا غیر منصرف؟

بُنْیَان منصرف ہے۔ دلیل: غیر منصرف ہونے کے لیے دو سببوں کا ہونا ضروری ہے (یا ایک سببِ قائم مقامِ دو)۔ بُنْیَان میں صرف الف نون زائدتان ہیں، اور یہ علت تب مانع صرف بنتی ہے جب اس کے ساتھ علمیت یا وصفیت بھی ہو۔ بُنْیَان نہ علم ہے نہ صفت، بلکہ عام اسمِ جنس ہے (بمعنی عمارت)، اس لیے اس پر تنوین آئے گی۔

صرف1 جواب
19 ستمبر، 2026

جاء اور ایمة والا قاعدہ بتا دیں کہ یہ اصل میں کیا تھا اور کیسے بنا

جاء: اصل جَیَئَ؛ یاء متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدلا تو جاء ائمۃ/أَئِمَّۃ: اصل أَأْمِمَۃ (جمع إمام بر وزن أَفْعِلَۃ) پہلے ہمزہ بعد ہمزہ ساکن کو الف/یاء سے بدلا؛ دو میم کا ادغام تو أَئِمَّۃ ائمة: أءمِمَۃ سے ادغام جاء و ایمة الگ مادے؛ مشترک صرف ہمزہ/علت کے قواعد

صرف1 جواب
25 اگست، 2026

اشکوا واحد متکلم کا صیغہ ہے پھر آخر میں الف کیوں آ رہا ہے

أَشْکُو واحد متکلم مضارع ہے؛ آخری واؤ لام کلمہ ہے اس کے بعد جو الف لکھا جاتا ہے وہ الفِ فاصلہ/زائدہ ہے (خطی قاعدہ) واو جمع اور واؤ عطف میں فرق یا رسم کی وضاحت کے لیے؛ صرفی تبدیلی نہیں قرآن/رسم میں واحد کے بعد بھی آ سکتا ہے

صرف1 جواب
12 مارچ، 2026