اتقوا (بضم القاف) صیغہ جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ لفیف مفروق از باب افتعال
حروف اصلیہ و ق ی
اصل میں صیغہ تھا اوتقیوا واو افتعال کے فاء کلمہ میں اسے تاء سے بدل کر تاء کا تاء میں ادغام کیا تو اتقیوا ہوگیا
پھر رموا والا قاعدہ لگایا تو اتقوا ہوگیا