سوالصرف1 جواب
جواب دہندہ
فارسی کی ایک کہاوت ہے جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ
نحو کے لئے بادشاہ کا دماغ اور صرف کے لئے کتے کی زبان ہونی چاہئے
اس کا مطلب یہ ہے کہ نحو پڑھنے کے لئے دماغ حاضر رہے اور چیزیں سمجھ آنی چاہیئیں
اس کے بر عکس صرف کے لئے دماغ کی کم اور زبان کی زیادہ حاجت ہوتی ہے
گردانیں یاد کرنے کے لئے
مختلف طریقے ہو سکتے ہیں
اور یہ دماغی قوت کے لحاظ سے ہیں
ذہین طالب علم دو چار بار پڑھنے سے یاد کر لیتا ہے اور کند ذہن بار بار پڑھنے سے یاد کر پاتا ہے
گردان یاد کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ بار بار پڑھی جائے یہاں تک کہ زبان پر پانی کی طرح رواں ہو جائے
ایک گردان بھی اگر ایسے یاد ہوگئی تو پھر مسئلہ نہیں ہوگا