سوالصرف1 جواب
جواب دہندہ
سب سے پہلے بات کہ ناصر منصور وغیرہ اسماء جب بطور علم ہوں گے تو صرفی تحقیق میں جامد ہوں گے یا مشتق ؟
یہ سوال پہلا بنتا ہے اگر اسکا جواب تلاش کر لیا جائے تو امید ہے مکمل بات ہی سمجھ آ جائے گی
در اصل صرفی تحقیق کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی کلمہ کو اس کے صیغہ اور ہیئت سے جاننا مثلا ضرب کیا ہے حروف اصلیہ کیا ہیں وغیرہ جو چیزیں ہوتی ہیں ان سب سے بحث ہوتی ہے
تو لفظ ناصر یا منصور کی جب صرفی تحقیق ہوگی تو یہ اسماء مشتقہ ہوں گے کہ ینصر سے بنے ہیں اب چاہے اسم فاعل کے معنی میں استعمال ہوں یا علم کے طور پر کیوں کہ علم طور پر بھی اگر استعمال ہوں تو ان کا اشتقاق ختم نہیں ہوگا بلکہ اشتقاق باقی رہے گا صرف اشتقاق والا معنی نہیں آئے گا
اب اس پر مزید بحث ہوتی ہے کہ یہ تو مشتق والے معنی میں ہے ہی نہیں
تو اس کا جواب سادہ سا ہے کہ آپ نے لفظ کو اشتقاقی پہلے سے دیکھنا ہوتا ہے جب مشتق ہوا تو ظاہر ہے اسی وقت اس کا معنی اسم فاعل والا تھا تبھی تو اس معنی کی مناسبت سے کسی کا نام بنا ہے ورنہ تو اس کا مطلب ہی کچھ نہیں ہوگا
اس کے بہت سے دلائل دیئے جا سکتے ہیں بہر حال جب یہ بات پتہ چل گئی کہ مشتق ہے تو الف کو زائد شمار نہیں کریں گے
یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ اس کلمہ کو مجرد کہنا ہمارے ہاں عرف ہے ورنہ الف حروف زوائد میں سے ہی ہے اور جس میں بھی ہوگا وہ حرف زائد ہوگا اور کلمہ مزید فیہ ہوگا