معنوی اسم منسوب کا صیغہ ہے اس کے آخر میں یاء نسبت ہے
اصل میں معنیٰ تھا
قاعدہ وہ اسم جس کے آخر میں الف ہو چاہے اس الف کی اصل واؤ ہو یا یاء تمام صورتوں میں اسے واؤ بدلنا واجب ہے
اس وجہ سے نسبت کرتے ہوئے جب اس کے آخر میں یاء نسبت لگائی تو آخر میں جو الف ( کھڑا زبر) تھا اسے واؤ سے بدل کر آخر میں یاء نسبت لگا دی