متعلقہ سوالات
صرف
1
سورہ لقمان میں تَکُ مجزوم، نون کیوں گرا اور تَکُنْ میں کیوں رہا
11 نومبر، 2025
جواب دہندہ
Q
تَکُ اصل میں تَکُوْنُ تھا، اِنْ شرطیہ کی وجہ سے مجزوم ہوا تو تَکُنْ بنا (واو اجتماع ساکنین سے گری)
فعل کَانَ کا مضارع جب سکون کے ساتھ مجزوم ہو، اس کے بعد ساکن حرف یا ضمیر متصل نہ ہو، تو اس کی نون (لام کلمہ) کو حذف کرنا جائز ہے، واجب نہیں
اسی لیے اِنْ تَکُ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ میں نون گرائی گئی اور فَتَکُنْ فِیْ صَخْرَۃٍ میں باقی رکھی گئی، دونوں درست ہیں
مادہ ک و ن ہے