عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 3 جوابات شدہ سوالات

سوال : مفتی صاحب مجھے اس بات کا جواب چاہیئے کہ آج کل ہمارے یہاں تکافل کمپنیاں کھلتی جارہی ہیں ، اور بہت سے علماء اسے انشورنس کا متبادل کہہ رہے ہیں ، یہ تکافل ہوتا کیا ہے ؟

جواب : تکافل عربی زبان کا لفظ ہے ، اور یہ کفالہ سے ماخوذ ہے۔ کفالہ کے معنی ہیں کسی کی کفالت کرنا یا اس کا ضامن بننا اور تکافل کے لغوی معنی ہیں ایک دوسرے کی کفالت کرنا۔ اصطلاح میں تکافل سے مراد امداد باہمی اور آنے والے خطرات سے نبرد آزما ہونے کا ایسا طریقہ کار ہے جس کے تحت افراد معاشرہ وقف اور تبرع (احسان) کی بنیاد پر ایک وقف فنڈ قائم کرتے ہیں ، پھر ان میں سے کسی فرد یا افراد کا مالی نقصان ہوجائے ، تو مل جل کر اس کی تلافی کرتے ہیں یعنی سا نقصان کا بوجھ کسی ایک پر نہیں پڑتا بلکہ سب اس میں شریک ہوجاتے ہیں ۔ یہ ایک معروف فقہی تصور ہے اور اسی کی بنیاد پر اسلامی تکافل کمپنیاں وجود میں آئی ہیں ۔ اور تکافل کو روایتی بیہ (INSURANCE) کے متبادل طور پر متعارف کرایا گیا ہے ۔ (سرمایہ کاری کے شرعی احکام، از مفتی سید سابر حسین)

جدید مسائل1 جواب
22 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ میں بینک کا کریڈٹ کارڈ استعمال کر رہاہوں۔ اگر میں چالیس دن کے اندر اس کی ادائیگی کر دیتا ہوں تو سود بھی نہیں دینا پڑتا تو کیا یہ کارڈ میں استعمال کر سکتاہوں؟ یہ سود کے زمرے میں تو نہیں آتا؟

کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بینک یہ سہولت دیتا ہے کہ آپ ادھار میں اشیاء کی خریداری کر سکتے ہیں اور دکان دار کو بینک فوری ادائیگی کرے گا لیکن کارڈ ہولڈر بینک کو جو بھی انتہائی مدت مقرر ہے ،تیس دن یا چالیس دن اس وقت سے پہلے پہلے ادائیگی کرے گا اور مقررہ انتہائی وقت سے پہلے ادائیگی کرنے پر تو کوئی سود لازم نہیں ہوگا لیکن تاخیر سے ادائیگی کرنے پر یومیہ کے حساب سے سود لگنا شروع ہو جائے گا۔ یہ سب باتیں کریڈٹ کارڈ بنواتے وقت فریقین طے کرتے ہیں جب ہی کارڈ جاری ہوتا ہے ۔ پوچھی گئی صورت میں سودی معاہدہ تو آپ کر چکے ہیں کیونکہ کریڈٹ کارڈ بنواتے وقت آپ بینک سے یہ معاہدہ کرچکے ہیں کہ اگر ادائیگی میں تاخیر ہوئی تو میں سود ادا کروں گا لہٰذا سود دینے پر رضا مندی تو ثابت ہوچکی ہے اور یہ بھی گناہ ہے۔ مزید یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض اوقات لوگ وقت پر کسی وجہ سے ادائیگی نہیں کر پاتے تو پھر بینک سود ڈالنا شروع کر دیتا ہے یہ دوسرا گناہ ہوگا۔ پہلا گناہ تو اس وقت ہوا جب آپ نے کریڈٹ کارڈ بنواتے وقت فارم پردستخط کیے کہ اگر آپ لیٹ ہوں گے تو سود دینا پڑے گا۔ دوسرا گناہ اس وقت ہوگا جب آپ سود کی ادائیگی کریں گے اور بعض اوقات ایسی نوبت آ بھی جاتی ہے۔ اگر بالفرض یہ نوبت نہ بھی آئے تب بھی کریڈٹ کارڈ بنوانا ہی ناجائز ہے کہ اس میں سودی معاہدہ لازمی طور پر کرنا پڑتا ہے۔ اس کی بجائے ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنا چاہیے کیونکہ اس میں آپ بینک سے قرضہ نہیں لے رہے ہوتے بلکہ دکان دار کو بینک کے ذریعے اپنے ہی پیسے کی فوری ادائیگی کر رہے ہوتے ہیں اورڈیبٹ کارڈ میں آپ کو کسی قسم کا سودی معاہدہ نہیں کرنا پڑتا ہے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

جدید مسائل1 جواب
19 اکتوبر، 2024

سوال: مفتی صاحب سے میرا سوال یہ ہے کہ ایک پرائیوٹ بینک نے "اختیار اکاونٹ " کے نام سے ایک اکاونٹ متعارف کروایا ہے ، یہ کرنٹ اکاونٹ کی طرح ہی ہے ، اس میں کوئی اضافی رقم نہیں ملتی البتہ مختلف قسم کے منافع بینک دے رہا ہے ، جیسے انشورنس کی سہولت ، 5000 رقم رکھنے پر سروس چارجز معاف ہونگے ، 25000 ہزار رکھنے پر DEBIT CARD کی فیس نہیں لی جائے گی ، اتنی ہی اماونٹ رکھنے پر CHEQUE BOOK فری ہوگی۔ کیا یہ اکاونت ہم کھلواسکتے ہیں ؟

جواب: پرائیوٹ بینک کی جانب سے متعارف کروایا گیا یہ اکاونٹ سودی اکاونٹ ہی ہے کیونکہ اس اکاونٹ میں رکھی گئی رقم شرعی اعتبار سے قرض کا حکم رکھتی ہے ، اور اس پر بینک مختلف قسم کے مشروط منافع سہولیات کے نام پر دے رہا ہے جو کہ در حقیقت سہولیات نہیں ، خالص سود ہیں ۔ اور جو مشروط منافع ، قرض پر دئیے جاتے ہیں حدیث پاک میں اسے صراحۃ "سود" کہا گیا ہے ۔ حدیث پاک ہے : "کل قرض جرّ منفعۃ فھو ربو" اور وہ (مشروط)نفع جو قرض پر حاصل کیا جائے وہ سود ہے ۔ (کنزالعمال ، جلد 06، مطبوعہ بیروت)

جدید مسائل1 جواب
18 اکتوبر، 2024