سوالنحو1 جواب

اللوی کیا یہ جامد ہے یا ظرف ہے

Umme muawiyaUmme muawiya18 اکتوبر، 2026

جواب دہندہ

Kaif Aliraza
Kaif Aliraza

اسلامک ڈیسک معاون

کراچی

اللِّوَى (یا اللَّوَى) کے بارے میں دو باتیں ہیں: 1. لَوًى (بفتحتین) / لِوًى: ریت کے ٹیلے کا مڑا ہوا کنارہ، یعنی وہ جگہ جہاں ریت مڑ کر ختم ہوتی ہے۔ یہ اسمِ ذات (جامد) ہے، ظرف نہیں۔ جاہلی شاعری میں مشہور ہے (بِسِقْطِ اللِّوَى)۔ 2. لَوَى، يَلْوِي (فعل): مڑنا یا موڑنا، مادہ ل-و-ی (لفیف مقرون)۔ اس کا مصدر لَيّ ہے، اور لَوَى اس سے فعلِ ماضی ہے۔ خلاصہ: اگر عبارت میں اللِّوَى (ال کے ساتھ، اسم کی صورت میں) ہے تو یہ جامد اسم ہے، اسمِ ظرف نہیں۔ البتہ اگر شعر میں "ٹیلے کے موڑ پر" کے معنی میں آئے تو مضاف الیہ یا مجرور ہو کر مکان کا کام دیتا ہے، مگر صرفی لحاظ سے ظرف (مفعل کے وزن پر) نہیں۔
اللوی کیا یہ جامد ہے یا ظرف ہے | صرف و نحو سوال جواب