سوالنحو1 جواب
جواب دہندہ

مَلَائِكَةٌ کی صرفی تحقیق:
1. نوعِ کلمہ: اسمِ جمع (جمعِ تکسیر)، واحد: مَلَكٌ
2. اصل مادہ میں اختلاف:
قولِ اول (مشہور): مادہ م-ل-ك ہے، اور یہ "مَأْلَكٌ" سے ہے جو "اَلْأُلُوكَةُ" (پیغام/رسالت) سے ماخوذ ہے۔ پھر ہمزہ کو تخفیفاً حذف کر کے لام کی حرکت میم کو دے دی گئی تو "مَلَكٌ" بنا۔ یعنی اصل أ-ل-ك ہے۔
قولِ دوم: مادہ م-ل-ك ہے (مَلَكَ: مالک ہونا/قابو رکھنا)۔
قولِ سوم: مادہ ل-أ-ك (لَأَكَ: پیغام پہنچانا) سے ہے۔
راجح قول پہلا ہے، اور معنی "پیغام رساں" ہے۔