سوالنحو1 جواب
جواب دہندہ

خَطِيئَةٌ کا وزن: فَعِیلۃ
مادہ: خ-ط-أ (خَطِئَ / خَطَأَ: غلطی/گناہ کرنا)
خ ۔ ف، ط ۔ ع، ء ۔ ل، اور درمیان کی ي زائد ہے۔
اصل: خَطِيئَةٌ ہی ہے، یہ صفت کے بجائے اسم ہے (گناہ/لغزش)۔
یہاں ۃ تانیث کے لیے ہے، کیونکہ "خَطِيئَةٌ" مؤنث لفظ ہے (ضمیر اور صفت مؤنث لائی جاتی ہے، جیسے: خَطِيئَةٌ كَبِيرَةٌ)۔
لیکن یہ تانیثِ لفظی ہے، تانیثِ حقیقی نہیں، کیونکہ اس کا مدلول (گناہ) کوئی جاندار مؤنث نہیں۔ اس میں "ۃ" مذکر سے مؤنث بنانے کے لیے نہیں آئی (جیسے مُسْلِمٌ ۔ مُسْلِمَةٌ)، بلکہ لفظ اپنی اصل بناوٹ میں اسی ۃ کے ساتھ آیا ہے۔
جمع: خَطَايَا (جمعِ تکسیر، اصل: خَطَائِئُ، تعلیل کے بعد خَطَايَا)۔