سوالنحو1 جواب
جواب دہندہ

قَامَ وَقَعَدَا أَخَوَاكَ یہ تنازعِ فعلین کی مثال ہے۔
ترکیب:قَامَ: فعلِ ماضی، پہلا عامل۔وَ: حرفِ عطف۔قَعَدَا: فعلِ ماضی، دوسرا عامل، اس کے آخر میں الف تثنیہ کی ضمیر (فاعل) ہے۔
أَخَوَاكَ: فاعل (معمول متنازع فیہ)، مرفوع بالألف (اسمائے ستہ)، مضاف، اور كَ ضمیر مضاف الیہ۔
نحوی توجیہ: دونوں فعل أَخَوَاكَ کو فاعل بنانا چاہتے ہیں، اور اسم ایک ہی ہے۔ اس کی دو توجیہیں ہیں:
1. بصریوں کے نزدیک: عمل دوسرے فعل (قَعَدَا) کا ہے، اس لیے أَخَوَاكَ قَعَدَا کا فاعل ہے۔ پہلے فعل قَامَ میں فاعل ضمیر مستتر ہو گی، لیکن یہاں اضمار قبل الذکر سے بچنے کے لیے پہلے فعل کا فاعل حذف مانا جاتا ہے، یا ضمیر لائی جاتی ہے: قَامَا وَقَعَدَ أَخَوَاكَ (بصری ترجیح)۔ اسی لیے جملہ قَامَ وَقَعَدَا أَخَوَاكَ بصری قاعدے سے نہیں، کوفی قاعدے سے ہے۔
2. کوفیوں کے نزدیک: عمل پہلے فعل (قَامَ) کا ہے، اس لیے أَخَوَاكَ قَامَ کا فاعل ہے، اور دوسرے فعل قَعَدَا میں فاعل ضمیر الف ہے جو أَخَوَاكَ کی طرف لوٹتی ہے۔ مثالِ جملہ اسی کے مطابق ہے: قَامَ کا فاعل أَخَوَاكَ، اور قَعَدَا میں الف ضمیر فاعل۔