سوال : میرا مفتی صاحب سے سوال ہے کہ کیا بندہ بغیر وضو کے دم کر سکتا ہے؟
جواب : بغیر وضو کے دم کرنا جاٸز ہے البتہ باوضو ہوکر ہی دم کیا جاۓ کہ یہ زیادہ بہترہے۔دم کا اثر بھی امید ہے بڑھ جاۓ گا ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب۔
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 6 جوابات شدہ سوالات
جواب : بغیر وضو کے دم کرنا جاٸز ہے البتہ باوضو ہوکر ہی دم کیا جاۓ کہ یہ زیادہ بہترہے۔دم کا اثر بھی امید ہے بڑھ جاۓ گا ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب۔
جواب : آپ کے دوست نے جو بریانی کا پیکٹ آپ کے پاس رکھوایا وہ امانت کے طور پر تھا ، اور آپ نے امانت میں خیانت کی ، سب سے پہلے تو آپ اس عمل سے توبہ کریں کہ یہ گناہ کاکام تھا نیز اب اپنے دوست سے بھی اس کی معافی مانگیں ، اگر وہ دوست آپ کو معاف کردے اور واپسی کامطالبہ نہ کرے ،تب تو ٹھیک ہے۔ اور اگر وہ کہتا ہے کہ اسے اسی طرح کا بریانی کاپیکٹ خرید کر دیں تو آپ پر لازم ہوگاکہ آپ اسے اسی طرح کا بریانی کا پیکٹ خرید کر واپس کریں۔ اور مشورہ یہی ہے وہ مطالبہ کرے یا نہ کرے آپ بہرحال اسے واپس کریں تاکہ آپس میں محبت و مودت کا رشتہ قاٸم رہے اور آٸندہ اپنے اس عمل سے باز رہیں۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب
مروج انداز میں جو گھر کے ایک کونے میں چراغ چلائے جاتے ہیں ،ان سے مقصود روشنی نہیں ہوتی ، اس انداز سے گھروں میں بزرگوں کے نام پر چراغ جلانا ناجائز و اسراف ہے ۔لہذا چراغ نہ جلائیں ،بلکہ بزرگوں کے ایصال ثواب کے لیے نوافل یا صدقہ وغیرہ کا اہتمام کیا جائے ،تاکہ آپ کو بھی ثواب ملے۔ واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
"چھپکلی کو مارنا بالکل جائز ہے بالکہ اس کو مارنا اجر وثواب کا باعث ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ چھپلکی کو پہلے وار میں مارنے پر سو نیکیاں ہیں دوسرے وار میں مارنے پر اس سے کم اور تیسرے وار میں مارنے پر اس سے کم نیکیاں ہیں۔"
جی ہاں ! یہ حدیث مبارکہ موجود ہے اور شارحینِ حدیث نے اس کی شرح میں فرمایا ہے کہ سخی چونکہ مہمانوں کو فراخ دلی اور خوش دلی سے کھلاتا پلاتا ہے ،اس کا کھانا دوا ہے ، جبکہ بخیل مہمانوں کو کھلاتا بھی ہے تو تنگ دل ہوکر کھلاتا ہے اس لئے اس کا کھانا بیماری ہے۔
وہ اشعار جن میں اللہ تعالی کی حمد ،اس کے حبیب کریم ﷺ کی تعریف،صحابہ و اولیاء اللہ کی شان بیان کی گئی ہو یا وہ اشعار جس سے ملک کی محبت پیدا ہو یا کسی اچھے کام کی ترغیب دی گئی ہو،ان کے کہنے اور سننے میں کوئی حرج نہیں۔ اس کے برعکس ایسے اشعار جس میں دینی شعائر میں سے کسی بھی چیز کا مزاق بنایا گیا ہو،ان کا لکھنا،جانتے ہوئے پڑھنا یا سن کر اس پر راضی رہنا ،یہ سب کفر ہے۔نیز اگر اشعار میں کفریات تو نہیں،لیکن کسی بے حیائی یا بے فائدہ کام کی ترغیب دی گئی ہویا کسی خاص خاتون کی حسن کا ذکر ہو یا انہیں سن کر شہوت بڑھتی ہو ،تو ایسے اشعار کا کہنا و سننا جائز نہیں اور قرآن و حدیث میں انہی اشعار و شعراء کی مذمت بیان کی گئی ہے۔