مفتی صاحب سے میرا یہ سوال ہے کہ میں نے سنا ہے کہ اوابین کی چھ رکعت کے لیے مغرب کی دو سنتوں کو بھی شمار کیا جاتا ہے؟
جواب : مغرب کی تین رکعت فرض پڑھنے کے بعد چھ رکعت ایک ہی نیّت سے پڑھئے، ہر دو رکعت پر قعدہ کیجئے اور اس میں التحیات ، درودِابراھیم اور دعا پڑھئے، پہلی ، تیسری اور پانچویں رکعت کی ابتداء میں ثنا ، تعوذ و تسمیہ ( یعنی اعوذ اور بسم اللہ) بھی پڑھئے۔ چھٹی رکعت کے قعدے کے بعد سلام پھیر دیجئے۔ پہلی دو رکعتیں سُنَّتِ مُؤَکَّدہ ہوئیں اور باقی چار نوافِل۔یہ ہے اوّابین ( یعنی توبہ کرنے والوں ) کی نماز۔(الوظیفۃ الکریمۃ ص۲۴ مُلَخَّصاً ) چاہیں تو دو دو رکعت کر کے بھی پڑھ سکتے ہیں ۔بہارِشریعت حصّہ 4 صَفْحَہ 15اور16پر ہے: بعد مغرب چھ رَکعتیں مُستحب ہیں ان کو صلوٰۃُ الاوّابین کہتے ہیں ، خواہ ایک سلام سے سب پڑھے یا دو سے یا تین سے اور تین سلام سے یعنی ہر دو رَکعت پر سلام پھیرنا افضل ہے۔ (دُرِّمُختَار، رَدُّالْمُحتَارج۲، ص۵۴۷)