عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 4 جوابات شدہ سوالات

مفتی صاحب سے میرا یہ سوال ہے کہ میں نے سنا ہے کہ اوابین کی چھ رکعت کے لیے مغرب کی دو سنتوں کو بھی شمار کیا جاتا ہے؟

جواب : مغرب کی تین رکعت فرض پڑھنے کے بعد چھ رکعت ایک ہی نیّت سے پڑھئے، ہر دو رکعت پر قعدہ کیجئے اور اس میں التحیات ، درودِابراھیم اور دعا پڑھئے، پہلی ، تیسری اور پانچویں رکعت کی ابتداء میں ثنا ، تعوذ و تسمیہ ( یعنی اعوذ اور بسم اللہ) بھی پڑھئے۔ چھٹی رکعت کے قعدے کے بعد سلام پھیر دیجئے۔ پہلی دو رکعتیں سُنَّتِ مُؤَکَّدہ ہوئیں اور باقی چار نوافِل۔یہ ہے اوّابین ( یعنی توبہ کرنے والوں ) کی نماز۔(الوظیفۃ الکریمۃ ص۲۴ مُلَخَّصاً ) چاہیں تو دو دو رکعت کر کے بھی پڑھ سکتے ہیں ۔بہارِشریعت حصّہ 4 صَفْحَہ 15اور16پر ہے: بعد مغرب چھ رَکعتیں مُستحب ہیں ان کو صلوٰۃُ الاوّابین کہتے ہیں ، خواہ ایک سلام سے سب پڑھے یا دو سے یا تین سے اور تین سلام سے یعنی ہر دو رَکعت پر سلام پھیرنا افضل ہے۔ (دُرِّمُختَار، رَدُّالْمُحتَارج۲، ص۵۴۷)

نماز1 جواب
29 اکتوبر، 2024

سوال : مفتی ساحب یہ ارشاد فرمادیں میں نے ایک مسجد میں امامت شروع کی ہے ، کیا امام کو امامت کے لئے نیت کے الفاظ کہنا ضروری ہے ، اگر ہے تو میں کن الفاظ کے ساتھ امامت کی نیت کروں ؟

جواب : نیت دل کے ارادے کا نام ہے ، آپ صرف دل میں اتنی نیت کرلیں کہ " میں فلاں نماز کی امامت کی نیت کرتا ہوں " دل میں اتنی نیت ہو تو کافی ہے ، آپ کو زبان سے کہنے کی ضرورت نہیں ہے البتہ زبان سے نیت کرلینا افضل ہے ۔ صاحب بہار شریعت مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : امام کو نیت امامت مقتدی کی نماز صحیح ہونے کے لیے ضروری نہیں، یہاں تک کہ اگر امام نے قصد کر لیا کہ میں فلاں کا امام نہیں ہوں اور اس نے اس کی اقتدا کی نماز پڑھ لی، امام کی نیت نہ کرنے کے باوجود وہ شخص جماعت میں شامل ہو جائے گا اور ثواب جماعت حاصل ہو جائے گا۔(بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 495، مکتبۃ المدینہ، کراچی) واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

نماز1 جواب
24 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے مین کہ جنابت کی حالت میں اذان دینا کیسا ہے؟

الجواب بعون الملك الوهاب اللهم هداية الحق والصواب پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ حالت جنابت میں دی گئی اذان مکروہ تحریمی ہوتی ہےکیونکہ وہ اس بات کا داعی بن جاتا ہے جس کا وہ جواب نہیں دیتا اور اس اذان کا لوٹانا مستحب ہے۔ فتاوی شامی میں ہے : ”( ويكره أذان جنب) لأنه يصير داعيا إلى ما لا يجيب إليه، وإقامته أولى بالكراهة۔۔۔۔۔وظاهر أن الكراهة تحريمية بحر.(ويعاد أذان جنب) ندبا۔۔۔۔ملخصاً“ ترجمہ:جنب کی حالت میں اذان دینا مکروہ ہے۔کیونکہ وہ اس بات کا داعی بن جاتا ہے جس کا وہ جواب نہیں دیتا۔ اور اس کی اقامت بدرجہ اولی مکروہ ہے۔۔۔۔اور ظاہر یہ ہے کہ یہ کراہت تحریمی ہے------حالتِ جنب میں اذان کو دہرانا مستحب ہے۔(ردالمحتار،جلد1،صفحہ392، الحلبي) بہار شریعت میں ہے: ”خنثی و فاسق اگرچہ عالم ہی ہو اور نشہ والے اور پاگل اور نا سمجھ بچے اور جنب کی اذان مکروہ ہے،ان سب کی اذان کا اعادہ کیا جائے ۔“(بہار شریعت، اذان کا بیان، حصہ3، صفحہ 470، مطبوعہ مكتبة المدينه کراچی ) والله ورسوله اعلم عزوجل و صلي الله تعالى عليه وآله وسلم كتبـــــــــــــــــــــــــــه ممبر فقہ کورس 25ربیع الاول 1446 ھ /30ستمبر 2024 ء نظرثانی : مفتی محمد انس رضا قادری ───◈☆◈ ───

نماز1 جواب
18 اکتوبر، 2024

یہ ارشاد فرمادیں کہ والدین اگر آواز دیں اور ہم نماز پڑھ رہے ہو ، تو کیا نماز توڑ سکتے ہیں؟

ماں باپ،دادا دادی وغیرہ کےصرف بُلانے سے نماز توڑنا جائز نہیں،البتہ اگر ان کا پُکارنا کسی بڑی مصیبت کے ليے ہو تو توڑ دے، یہ حکم فرض کا ہے اور اگر نفل نماز ہے اور ان کو معلوم ہے کہ نماز پڑھتا ہے تو ان کے معمولی پُکارنے سے نماز نہ توڑے اور اس کا نماز پڑھنا انہیں معلوم نہ ہو اور پُکارا تو توڑدے اورجواب دے،اگرچہ معمولی طور سے بلائیں۔(بہار شریعت ج١ص٦٣٨ملخصاً)(بعد میں اس نمازِ نفل کو دوبارہ ادا کرنا واجِب ہے) واللہ تعالی اعلم بالصواب

نماز1 جواب
27 ستمبر، 2024