سوالقرآن و حدیث 1 جواب

سورۃ بنی اسرائیل آیت 75 اِذًا لَّاَذَقۡنٰکَ ضِعۡفَ الۡحَیٰوۃِ وَضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ عَلَیۡنَا نَصِیۡرًا اسکا ترجمہ کیا ہوگا؟

محمد فہد رضا7 اگست، 2024

جواب دہندہ

م
مفتی محمد شعیب عباسی

اسلامک ڈیسک معاون

Karachi

·

ترجمہ : اور ایسا ہوتا (کہ تم ان کی طرف کچھ تھوڑا سا مائل ہو جاتے) تو ہم تم کو دنیوی زندگی میں دگنی سزا اور موت کے بعد دگنی سزا کا مزہ چکھاتے، پھر تم ہمارے مقابل اپنا کوئی مددگار نہ پاتے۔ اس آیت مبارکہ کی مختلف تفاسیر بیان کی گئیں ہیں، اور اس میں سب سے بہتر وہ ہے، جسے الجامع الاحکام القرآن میں بیان کی ہے، کہ یہاں اگرچہ خطاب اور نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے، لیکن مراد آپ کی امت ہے۔ یعنی امت کو یہ فرمایا جا رہا ہے، کہ مشرکین کے احکام کی طرف ہر گز مائل نہ ہوں، ورنہ تمھیں عذاب میں مبتلا کر دیا جائے گا۔
سورۃ بنی اسرائیل آیت 75 اِذًا… | صرف و نحو سوال جواب