عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 12 جوابات شدہ سوالات

مفتی صاحب جو direction ہیں وہ تو صرف چار ہیں۔ مشرق،مغرب،شمال،جنوب۔لیکن میں نے قرآن میں دیکھا کہ مشرق اور مغرب کے لفظ عربی گرامر کے حساب سے واحد، تثنیہ اور جمع بھی لاۓ گٸے ہیں، اس کی کیا حکمت ہے؟

جواب : آپ درست کہہ رہے ہیں قرآن کریم میں مشرق اور مغرب کے الفاظ مختلف صیغوں واحد، تثنیہ اور جمع کے ساتھ آٸیں ہیں۔ جہاں واحد کےصیغے استعمال ہوۓ وہاں صرف جہت (direction) مراد ہے ۔ اور جہاں تثنیہ کے صیغے ہیں وہاں مراد موسم کے اعتبار سے مشرق و مغرب مراد ہیں۔ یعنی سردی کے مشرق اور مغرب اور گرمی کے مشرق و مغرب۔ اسی طرح جہاں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے وہاں سورج کے طلوع و غروب کے مقامات مراد ہیں۔ سورج سال میں مشرق کے مختلف مقامات سے طلوع ہوتا اور مغرب کے مختلف مقامات میں غروب ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب

قرآن و حدیث 1 جواب
25 اکتوبر، 2024

قرآن پاک کو بغیر زبان ہلائے آنکھوں سے دیکھ کر دل میں پڑھا جائے تو کیا یہ ٹھیک ہے؟

قرآن پاک کو دیکھنا ،اس کو چھونا بھی عبادت ہے اور یوں دیکھ کر دل میں پڑھا جائے تو اس صورت میں دیکھنےکا اورچھوناپایاجائے توچھونے کاثواب ملے گا لیکن قرآن پاک پڑھنے کا ثواب اسی وقت ملے گا جب درست تلفظ کے ساتھ اتنی آواز سے پڑھا جائے کہ سننے سے مانع کوئی چیزمثلابہرہ پن یاشوروغیرہ نہ ہوتواپنے کان سن لیں۔

قرآن و حدیث 1 جواب
24 اکتوبر، 2024

سورۂ یس میں وقف ِغفران آتا ہے، اس سے کیا مراد ہے؟

وقفِ غفران کے متعلق جامع الوقف میں ہے:"یہ بھی قرآن مجیدکے حاشیہ پرمرسوم ہے،ایسی جگہ وقف کرنے سے معنی کی وضاحت اور سننے والے پر بشاشت پیدا ہوتی ہے ، اسی لیے اس کو وقف غفران کہتے ہیں ، یہاں وصل سے وقف بہتر ہے ۔ " اس کے حاشیہ نافع الوقف میں ہے : "(یہ وقف )بعض اوقات ایسی جگہوں پر واقع ہیں کہ اگر اس پر وقف کر کے دعا کی جائے،تو قبول ہوتی ہے ،اس لیے ایسے وقف کو وقفِ غفران کہتے ہیں،وقفِ غفران ایک وقفِ سماعی ہے جو معنوی اعتبار سے ایسے محل پر واقع ہوتا ہے کہ اگر واقف اور سامع وہاں پر دعا مانگے تو قبول ہوجاتی ہے۔"(نافع الوقف از قاری مختار احمد رضوی صاحب، صفحہ 43 ، 44 ، مطبوعہ دار العلوم مخدومیہ ، اوشیورہ برج جو گیشوری ، ویسٹ ممبی)

قرآن و حدیث 1 جواب
24 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارےمیں کہ :” اطلبوا العلم من المهد إلى اللحد“یعنی ماں کی گود سے قبر تک علم حاصل کرو ۔کیا یہ حدیث ہے یا کسی بزرگ کا قول ہے؟ بعض لوگ اسے بطورِ حدیث شیئر کر رہے ہوتے ہیں۔ شرعی رہنمائی فرما دیں۔

سوال میں ذکر کردہ الفاظ معتمد کتبِ حدیث میں تلاش کے باوجود نہیں مل سکے۔ لہذا اس قول کو حدیث نہیں کہا جا سکتا، البتہ اس مضمون پر مشتمل مختلف اقوال بزرگوں سے منقول ہیں۔ جب تک کنفرم نہ ہو جائے، کسی بھی بات کو بطورِ حدیثِ پاک آگے شیئر نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ غیر ثابت شدہ بات حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی طرف قصداً منسوب کرنا حرام ہے، حدیث ِ مبارک میں اس پر سخت وعید ارشاد فرمائی گئی ہے۔ تفسیر نیشاپوری میں ہے:"” قيل فی تحديد مدة طلب العلم، إنه من المهد إلى اللحد“"یعنی:طلبِ علم کی مدت کی حد کے بارےمیں کہا گیا کہ مہد سے لے کر لحد تک ہے۔(تفسير النيسابوری، جلد4،صفحہ 237، دار الكتب العلميه بيروت) مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:”صوفیاء فرماتے ہیں: "اطلبوا العلم من المهد إلى اللحد“" یعنی گہوارہ سے قبر تک علم سیکھو ۔ (مراٰۃ المناجیح ، جلد1، صفحہ 203، مطبوعہ لاھور) مَن گھڑت بات حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف قصداً منسوب کرنے کی حدیث ِ مبارک میں سخت وعید ارشاد فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے: نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"’’من کذب علی متعمدا فلیتبوأ مقعدہ من النار‘"‘ترجمہ : جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا،وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ (صحیح البخاری، جلد 1، صفحہ 33، مطبوعہ مصر)

قرآن و حدیث 1 جواب
24 اکتوبر، 2024

پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا" میری امت شرک نہیں کرے گی" لیکن امت میں مشرکین و مرتدین بھی ہیں تو اس حدیث مبارک کی کیا وضاحت ہوگی ؟

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان" واللہ ما اخاف علیکم ان تشرکوا بعدی"(خدا کی قسم میں تم پر یہ خوف نہیں کرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے)اس کی وضاحت کرتے ہوئے محدثین کرام فرماتے ہیں کہ: اس سے مراد یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ساری امت ایک دم مشرک ہو جائے، ایسا قیامت تک نہیں ہوسکتا ۔ہاں کچھ بستیوں والے یا کچھ افراد مشرک و مرتد ہوجائیں گے۔ دیکھیے!اس امت کے کچھ گروہ کی بد عقیدگیاں حدِ کفر و ارتداد تک پہنچ چکی ہیں،اورحدیث پاک کے مطابق قبیلہ دوس کی عورتیں شرک میں مبتلاہوں گی (نعوذباللہ من ذلک) تو حدیث مبارک کا یہ معنی نہیں کہ اس امت میں کوئی مرتد ہو ہی نہیں سکتا۔ علامہ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں فرماتے ہیں: "”قوله ( ما أخاف عليكم أن تشركوا ) أى على مجموعكم ، لأن ذلك قد وقع من البعض اعاذنا اللہ تعالى“" ترجمہ: حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد " مجھے تم پر شرک کا خوف نہیں" یعنی تمہارے مجموعے پر کیونکہ بعض سے شرک واقع ہوا ہےاللہ پاک اس سے ہمیں پناہ دے۔(فتح الباری شرح صحیح البخاری، ج 3 ،ص 251، تحت الحدیث 1344، الناشر: دار المعرفة - بيروت،) شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفی اعظمی علیہ الرحمۃ مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ" "وانی والله مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِی" " یعنی خدا کی قسم میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ مجھے اپنے بعد تمہارے مشرک ہو جانے کا کوئی خوف نہیں ہے، حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس حدیث میں غیب کی خبر دے رہے ہیں کہ میری امت قیامت تک مشرک نہیں ہوگی اور اس امت میں شرک نہیں پھیلے گا۔اگر چہ بعض حدیثوں میں آیا ہے کہ اس وقت تک قیامت نہیں قائم ہوگی جب تک کہ قبیلہ دوس کی عورتیں بتوں کا طواف نہ کریں گی۔ ان دونوں حدیثوں میں تطبیق اس طرح دی جائے گی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے ارشاد کا یہ مطلب ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ساری امت ایک دم مشرک ہو جائے ایسا تو قیامت تک نہیں ہو گا، لیکن کہیں کہیں کچھ بستیوں والے یا کچھ افراد شرک میں مبتلا ہو جا ئیں ایسا ہو سکتا ہے، چنانچہ قبیلہ دوس کی عورتوں میں شرک پھیل جائے گا جیسا کہ بعض حدیثوں میں آیا ہے۔(منتخب حدیثیں ،ص 206،207، حدیث 31، مکتبۃ المدینہ)

قرآن و حدیث 1 جواب
24 اکتوبر، 2024

ثواب کی نیت سے صرف تین مساجد کی طرف سفر کرنا جائز ہے ،اس مفہوم والی حدیث کی وضاحت فرمائیں ،نیز کیا اس حدیث کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر اولیاء کے مزارات پر زیارت کی نیت سے سفر کرنا حرام ہے ؟

سائل نے جس حدیث پاک کی طرف اشارہ کیا وہ حدیث صحاح ستہ اور اس کے علاوہ کئی کتب احادیث میں موجود ہے۔اس حدیث پاک میں سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مطلقاً ہر طرح کے سفر سے منع نہیں فرمایا بلکہ ایک مخصوص قسم کے سفر سے منع کیا ہے اور اس مخصوص سفر سے مراد یہ ہے کہ نماز پڑھنے کے لئے ایک مسجد کو چھوڑ کر دوسری مسجد کی طرف فقط یہ سمجھ کرجانا کہ دوسری مسجد میں ثواب زیادہ ملے گا، یہ ممنوع ہے ،وجہ اس کی یہ ہے کہ تین مساجد کے علاوہ بقیہ مساجد میں نمازوں کا ثواب فی نفسہ برابر ہے لہٰذا وہاں ثواب کی زیادتی کی نیت سے سفر کرنا محض لغو و فضول ہوگا۔حدیث کے اس معنی کی تائید مسند احمد والی روایت سے ہوتی ہے کہ اس میں اس چیز کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ سفر سے مراد دوسری مسجد کی طرف نماز پڑھنے کے لئے کیا جانے والا سفر ہے۔ نیز حدیث پاک سے اگر مذکورہ بالا مخصوص سفر مراد نہ لیا جائے بلکہ مطلقاً ہر طرح کا سفر مراد لیاجائے توپھر سفرِ جہاد،سفرِ حج، سفر بغرض طلبِ علم دین، سفرِتجارت، سفر بغرض صلہ رحمی وغیرہ بھی ناجائز ہو جائیں حالانکہ ان امور کے لئے سفر کرنا نہ صرف جائز بلکہ کبھی واجب اور کبھی فرض بھی ہوتا ہے جو کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور ہر مسلمان کو معلوم ہے۔اوراگر ان سب قسم کے سفروں کو ناجائز مان لیا جائے تو دین و دنیا کا نظام درہم برہم ہو جائیگا۔ جب عقلی و نقلی اعتبار سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہاں کسی مسجد کی طرف بغرض نماز کیا جانے والا سفر ہی مراد ہے تو پھر اس حدیث کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے روضہ مبارکہ کی زیارت کے لئے سفر کرنے کو یا اولیاء و صالحین کے مزارات پر حاضری دینے کے لئے سفر کرنے کو ناجائز کہنا، سراسر جہالت و باطل ہے جیسا کہ محدثین کرام وشارحینِ حدیث نے اس بات کو بالکل واضح طور پربیان کیا ہے۔

قرآن و حدیث 1 جواب
24 اکتوبر، 2024

ایک حدیث پاک ہے کہ ایک با عمل حافظ 10 افراد کی بخشش کر پائے گا، یہ حدیث کہاں سے ثابت ہے؟حوالہ دے دیجیے۔

اس مضمون کی حدیث پاک جامع ترمذی،سنن ابن ماجہ،شعب الایمان،کنز العمال،مسندِاحمدبن حنبل،المعجم الاوسط للطبرانی ، مشکوۃ المصابیح،وغیرہا کتبِ احادیث میں موجودہے"”واللفظ للترمذی:عن علي بن أبي طالب،قال:قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم:من ‌قرأ ‌القرآن واستظهره، فأحل حلاله وحرم حرامه أدخله اللہ به الجنة وشفعه في عشرة من أهل بيته كلهم قد وجبت له النار"“ترجمہ:حضرت مولی علی کَرَّمَ اللہُ وَجْھَہٗ الْکَرِیْم سے روایت ہے،آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :جو شخص قرآن پڑھے ،پھر اسے یاد رکھے،اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام جانے،اﷲ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گااور اس کے گھر والوں میں سے ایسے دس افرادکے حق میں اس کی شفاعت قبول فرمائے گا جن میں سے ہر ایک پر (اس کے گناہوں کے سبب )دوزخ واجب ہوچکی ہوگی ۔(سنن الترمذی، رقم الحدیث 2905،ج 5 ، ص 171، مطبوعہ مصر) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

قرآن و حدیث 1 جواب
24 اکتوبر، 2024

سورۃ بنی اسرائیل آیت 75 اِذًا لَّاَذَقۡنٰکَ ضِعۡفَ الۡحَیٰوۃِ وَضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ عَلَیۡنَا نَصِیۡرًا اسکا ترجمہ کیا ہوگا؟

ترجمہ : اور ایسا ہوتا (کہ تم ان کی طرف کچھ تھوڑا سا مائل ہو جاتے) تو ہم تم کو دنیوی زندگی میں دگنی سزا اور موت کے بعد دگنی سزا کا مزہ چکھاتے، پھر تم ہمارے مقابل اپنا کوئی مددگار نہ پاتے۔ اس آیت مبارکہ کی مختلف تفاسیر بیان کی گئیں ہیں، اور اس میں سب سے بہتر وہ ہے، جسے الجامع الاحکام القرآن میں بیان کی ہے، کہ یہاں اگرچہ خطاب اور نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے، لیکن مراد آپ کی امت ہے۔ یعنی امت کو یہ فرمایا جا رہا ہے، کہ مشرکین کے احکام کی طرف ہر گز مائل نہ ہوں، ورنہ تمھیں عذاب میں مبتلا کر دیا جائے گا۔

قرآن و حدیث 1 جواب
7 اگست، 2024

"ایک حدیث شریف ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے خد اکو دیکھا اس حدیث کا مطلب بیان فرمادیں ۔"

یہ حدیث مبارکہ مشکوۃ المصابیح جلد 2 صفحہ 1297پر موجودہے،مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ،یعنی جس نے مجھے دیکھا ،اس نے حق دیکھا ،اس حدیث میں حق کا لفظ ہے "خدا یا اللہ " کا نہیں۔ "لفظ حق کے شارحین حدیث نے دو معنی بیان فرمائے ہیں : (1)ایک تو یہ کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا یعنی حقیقت میں مجھے ہی دیکھا کہ شیطان میری شکل میں نہیں آسکتا۔ (2)دوسرا معنی یہ بیان کیا گیا کہ جس نےمجھے دیکھا اس نے حق تعالی کو دیکھا ،یعنی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ذات الہی کی تجلیات اور کمالات کا آئینہ ہیں ،خدا تعالی کی ذات کا مظہر اور اس کی قدرتوں کا شاہکار ہیں۔"

قرآن و حدیث 1 جواب
8 مئی، 2024

کیا ایسی کوئی حدیث ہے جس میں مومن کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ قرار دیا گیا ہو؟

جی بالکل یہ حدیث مبارکہ موجود ہے،سنن ترمذی جلد 4 ، صفحہ نمبر 640 ہے۔ کہ قبر جنت کےباغات میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ اس کے تحت شارحین نے فرمایا کہ قبر اہل ایمان کے لئے باغ ہے،اور کافر اور فاجروں کے لئے جہنم کا گڑھا ۔"

قرآن و حدیث 1 جواب
8 مئی، 2024

"میں نے ایک حدیث ِپاک پڑھی تھی جس کا مفہوم یہ ہے :”وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا جس کے پڑوسی بھوکے سوئیں اور وہ پیٹ بھر کر کھانا کھا کر سوئے“ کیا ایسی کوئی حدیث ہے؟"

جی یہ حدیث مبارکہ ہے۔ اسی لئے شریعت مطہرہ میں ایسے شخص کے ایمان کو ناقص قرار دیا گیا ہے جو خود پیٹ بھر کر سوجائے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔

قرآن و حدیث 1 جواب
8 مئی، 2024

قرآن کریم کی سورۂ نساء آیت نمبر 119 میں ہے :’’وَّ لَاُضِلَّنَّهُمْ وَ لَاُمَنِّیَنَّهُمْ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ ‘‘ترجمہ: اور میں ضرور انہیں گمراہ کروں گا اور انہیں امیدیں دلاؤں گا اور میں انہیں ضرور حکم دوں گا تو یہ ضرور جانوروں کے کان چیریں گے۔یہاں کان چیرنے سے کیا مراد ہے؟

کفار اپنے بعض جانوروں کو بتوں کے نام پر مخصوص کرتے تھے اور نشانی کے طور پر ان کے کان چیر دیتے تھے،چونکہ ان کا یہ عمل بتوں کے لئے تھا،اس لئے اسے شیطان کا عمل کہا گیا اور اس کی مذمت بیان کی گئی۔

قرآن و حدیث 1 جواب
8 مئی، 2024