زید کا اجرا کیجیے
لفظ موضوع مفرد اسم معرفہ مذکر واحد معرب مفرد منصرف صحیح اعراب لفظی اعراب بالحرکت
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 3,697 جوابات شدہ سوالات
لفظ موضوع مفرد اسم معرفہ مذکر واحد معرب مفرد منصرف صحیح اعراب لفظی اعراب بالحرکت
حرۃ شش اقسام میں ثلاثی مجرد ہفت اقسام میں مضاعف ہے
یہ بھی مصدر ہے اس کی گردان مرض یمرض باب ضرب سے آتی ہے جیسے قرآن کریم میں ہے و أذا مرضت گھس یشفین
ثلاثی مزید فیہ
أ استفہامیہ أکلت فعل اس میں ت ضمیر فاعل الخبز مفعول بہ فعل فاعل مفعول بہ ملکر جملہ فعلیہ انشائیہ یا حرف نداء قائم مقام ادعو اس میں انا ضمیر فاعل زید مفعول بہ فعل فاعل مفعول بہ ملکر جملہ فعلیہ انشائیہ
شش اقسام
ضمائر مبنی ہیں اور بناء میں اصل یہ ہے کہ وہ ساکن ہوں لیکن اکثر اوقات مبنی اسماء پر بھی حرکت آ جاتی ہے اس کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں جیسے اجتماع ساکنین وغیرہ یہاں علیھم میں ھاء پر کسرہ یاء کی مناسبت سے ہے اور جب یاء یا کسرہ نا ہو تو اس پر ضمہ آئے گا
ایسے قواعد کا علم جن کے ذریعے اسم فعل حرف کے آخر کے احوال کو جانا جائے اور ان کو آپس میں ملانے کا طریقہ معلوم ہو ۔۔
اس باب سے صفت مشبہ آتا ہے بروزن فعیل اسم فاعل کم ہی آتا ہے
باب سمع یسمع
جو حرکات ثلاثہ کو قبول کرے اسے معرب کہتے ہیں
واحد مؤنث غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی باب افعال
جس میں علامۃ تانیث پائی جائے اسے مؤنث کہتے ہیں
حسان میں درست قول یہ ہے کہ یہ منصرف ہے اور اس کے آخر میں نون اصلیہ ہے نا کہ زائدہ
أیْضاً ہمیشہ مفعول مطلق واقع ہوتا ہے أٰضَ بمعنی (عاد) فعل محذوف کا
مقیما صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب افعال مطمئنا صیغہ واحد مذکر اسم فاعل رباعی مزید فیہ مہموز اللام از باب افعِلَّال التفات مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افتعال تسلیمتین مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعیل مأموم صیغہ واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مجرد مہموز الفاء و مضاعف از باب نصر ینصر
تشدید کے بغیر یہ لفظ استعمال ہوتا ہے بمعنی وقت و موسم اسم جامد ثلاثی مزید فیہ مہموز الفاء و اجوف واوی
صیغہ اسم جامد ثلاثی مجرد ناقص واوی اس کے آخر میں واو تھی اس کو حذف کر کے اس کے عوض تاء مبسوطہ (ت) کا اضافہ کر دیا
دونوں صورتیں عموما رائج ہیں لیکن شرط و جزاء الگ الگ کہہ کر چھوڑنا زیادہ بہتر ہے جملہ شرطیہ جہاں کتب النحو میں استعمال ہوتا ہے وہاں اس کے دو معنی ہوتے ہیں شرط و جزاء دونوں سے ملکر جو بنا ہو اور شرط و جزاء میں سے شرط کو بھی جملہ شرطیہ کہتے ہیں تو اس وجہ سے بعض لوگ جملہ شرطیہ پڑھ کر یہ کہتے ہیں کہ شرط و جزاء ملکر جملہ شرطیہ بنتا ہے حالانکہ یہ موقف تکلف پر مبنی ہے اولا : تو جملے کی تعریف ہی صادق نہیں آتی ثانیا : جملہ شرطیہ بھی جملہ فعلیہ ہی ہوتا ہے جملہ قسمیہ میں بھی دو احتمال ہوتے ہیں قسم اور جواب قسم سے مرکب جملہ اور صرف وہ جملہ جس میں اداۃ قسم موجود ہو اس کو بھی جملہ قسمیہ کہہ دیتے ہیں اس پر بھی وہی اعتراض ہوں گے جو اوپر ہوئے مزید برآں کہ قسم اور جواب قسم ملا کر ترکیب کرنا رائج نہیں ہے جملہ تفسیریہ بھی جملۂ مُفَسِّرہ کو کہتے ہیں در اصل جملوں کی دو طرح تقسیم ہوتی ہے پہلی حقیقت کے اعتبار سے اس اعتبار سے دو جملے ہیں جملہ فعلیہ اور اسمیہ کیوں کہ جتنے بھی جملے ہیں وہ ان ہی دو میں سے کوئی ایک ہی ہوگا اور دوسری تقسیم جملہ کی صفات کے اعتبار سے کی جاتی ہے جیسے کہ جملہ اعتراضیہ ، مفسرہ، حالیہ وغیرہ تو یہ محل کے اعتبار سے جملے کو نام دیتے ہیں
زید کان کا اسم ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور الفاضل ھو کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے
صیغہ جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب افعال اصل میں یہ أقْوِموا تھا قاعدہ واو یا یاء متحرک ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دینا واجب ہے أقِوْموا ہوا پھر دُوسرا قاعدہ لگا کہ واو ساکن ماقبل مکسور کو یاء سے بدلنا واجب ہے پھر اقیموا ہوگیا۔۔۔
مضارع اور امر دونوں کا صیغہ ہو سکتا ہے اب استعمال اور موقع سے سمجھ آئے گا
ہماری اسی ایپ کے مضامین والے سیکشن کو جوائن کریں
ظبی کہتے ہیں ہرن کو
ان میں بھی التباس ہے کہ لام کلمہ پر کونسی حرکت پڑھیں گے اگر کو بھی حرکت پڑھیں گے اس میں التباس ہوگا جیسے نصب پڑھنے کی صورت میں واحد مذکر غائب یا واحد مذکر حاضر سے التباس اسی طرح ضمہ اور کسرہ میں بھی التباس ہوتا ہے
ہماری ایپ میں ایک اعراب کا سیکشن ہے اس پر مضامین لکھے ہوئے موجود ہیں ان کا مطالعہ کریں اور ان کے مطابق پریکٹس کریں
وہ اسم جس کی طرف فعل یا شبہ فعل کی اسناد کی جائے اسے فاعل کہتے ہیں
ثم حروف عطف میں سے ہے
جی ثلاثۃ معرب ہے اس کا اعراب بھی تبدیل ہوتا رہے گا
مَحال میم پر فتحہ پڑھیں گے اور یہ جامد ہے
قل فعل اس میں انت ضمیر فاعل اعوذ فعل اس میں انا ضمیر فاعل ب جار رب مضاف الناس مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہو باء جار کا مجرور جار مجرور ملکر ظرف لغو فعل فاعل ظرف لغو ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر مقولہ قل فعل اپنے فاعل اور مقولہ سے ملکر جملہ فعلیہ انشائیہ
مشکل صیغے مفی فیض احمد اویسی صاحب
ثلاثی مجرد کے مصادر عموما سماعی ہوتے ہیں تو ان کی پہچان لغت سے حاصل ہوتی ہے بقیہ ثلاثی مزید فیہ کے مصادر کے مخصوص وزن ہوتے ہیں تو اس وزن پر جو اسم ہوگا وہ اسی باب کا مصدر ہوگا جیسے باب استفعال اب یہاں استفعال باب کا نام بھی ہے اور اس کے مصدر کا وزن بھی ہے تو استفعال کے وزن پر جو اسماء ہوں گے وہ اسی کے مصادر ہوں گے جیسے استنصار استمرار استمعمال وغیرہ
اس بات کا پتہ چلانا عبارت پر ہوتا ہے کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ہے البتہ بعض اوقات موقع کی مناسبت سے نکال سکتے ہیں
فیہ جار مجرور ملکر ظرف مستقر ثابت کے متعلق اس میں ھو ضمیر فاعل اسم فاعل اپنے فاعل اور ظرف مستقر سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہو کر خبر مقدم تعظیم مصدر ل جار شان مضاف الطارق موصوف المفسر اسم مفعول اس میں ھو ضمیر نائب الفاعل ب جار ما موصولہ بعدہ مرکب اضافی ہو کر مفعول فیہ ثبت فعل کا اس میں ھو ضمیر فاعل فعل فاعل مفعول فیہ ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ موصول صلہ ملکر مجرور جار مجرور ملکر ظرف لغو اسم مفعول اپنے نائب الفاعل اور ظرف لغو سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہو کر صفت الطارق کی الطارق موصوف اپنی صفت سے ملکر شان کا مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہو کر لام جار کا مجرور جار مجرور ملکر ملکر تعظیم مصدر کے متعلق تعظیم مصدر اپنے متعلق سے ملکر مبتدا مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ
لولا حروف شرط میں سے ہے
اسم استفہام ایسا اسم جس کو استفہام یعنی کسی چیز کے بارے میں پوچھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہو
فرق دیکھنے کے لیے الفروق اللغویۃ لابی ھلال العسکری کی کتاب دیکھیں
اسی ایک لفظ کی ہم نے پانچ بار صرفی تحقیق کی ہے ملاحظہ فرمائیں نیچے سکرین شارٹ میں سرچ کرنے کے بعد صرف کا آپشن ضرور دیکھا کریں
تصغیر بنانے کا اصول یہ ہے کہ پہلے حرف کو ضمہ دیں دوسرے حرف کو فتحہ اور تیسری جگہ یاء کا اضافہ کریں اگر اس کے بعد ایک حرف تو اس پر اعراب والی حرکت آئے گی اور دو ہیں تو یاء کے بعد والے کو کسرہ دے دیں
صیغہ جمع مذکر حاضر فعل نہی حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب افعال
لفظ آسمان عجمی لا یدخل فی الصرف
فی حرف جر ہے الجلوس اسم ہے جو کہ اس کا مجرور ہے
اس کی صرفی تحقیق نہیں ہوگی عجمی لفظ ہے
عربی زبان میں الف لام مختلف معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے تو العالم میں الف لام بھی کسی نا کسی معنی کے لئے ہوگا جیسے جنس یا استغراق
یہاں لفظ قبل اور بعد دونوں مبنی ہیں اس وجہ سے محلا مجرور ہوں گے
ھذا مبتدا زید ذو الحال قائما حال ذو الحال حال ملکر خبر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ
غُیوب صیغہ جمع مکسر اسم جامد ثلاثی مزید فیہ اجوف یائی جب یہ بمعنی نظروں سے اوجھل چیز کے معنی میں ہو تو اس وقت صرفی تحقیق یہ ہوگی اور اس وقت ہی اس کی جمع اس وزن پر آئے گی تُوُفِّرَ صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت مجھول ثلاثی مزید فیہ مثال واوی از باب تفعل متلازمان صیغہ تثنیہ مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفاعل
فقط کہ عموما یوں ترکیب کی جاتی ہے کہ ف فصیحیہ یعنی اس سے پہلے جزاء بحسب عبارت کئذوف نکالیں گے اور قط اسم فعل بمعنی امر اس میں انت ضمیر فاعل اسم فعل اپنے فاعل سے ملکر جملہ اسمیہ انشائیہ ہوکر جزاء ہوگا
فعل کو فعل اس لیئے کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہوتا ہے کام کرنا اور فعل بھی اسی معنی پر دلالت کرتا ہے تو اس وجہ سے یہ نام رکھ دیا حرف کا مطلب ہوتا ہے کنارہ اور حرف نا مسند بنتا ہے نا مسند الیہ تو اس اعتبار سے فعل اور اسم سے کنارے میں ہوتا ہے
صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر
انا مبتدا ل جار کم مجرور جار مجرور ملجر ظرف لغو ناصح کے متعلق اس میں ھو ضمیر فاعل اسم فاعل اپنے فاعل اور ظرف لغو سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہو کر خبر اول امین خبر ثانی مبتدا اپنی دونوں خبروں سے ملکر جملہ اسمیہ خبریہ
اصل میں یہ صیغہ راقیٌ تھا تو اگر تنوین کی نون کو کھل کر لکھیں گے تو راقِیُن ہو جائے گا قاعدہ واؤ مضموم ما قبل مضموم یاء مضموم ما قبل مکسور کو ساکن کر دینا واجب ہے بشرطیکہ اس کے بعد واؤ مدہ نا ہو اس قاعدے کے تحت یاء مضموم ما قبل مکسور کو ساکن کیا تو راقِیْنْ ہو گیا تو یاء کو بوجہ اجتماع ساکنین حذف کیا تو راقِن کو گیا اب اس نون کو تنوین کی شکل میں لکھیں گے تو راقٍ ہوگا
اسم کا معنی ہوتا ہے بلند ہونا اور اسم بھی فعل اور حرف بایں معنی بلند ہوتا ہے کہ یہ مسند اور مسند الیہ دونوں بن سکتا ہے
شاید لفظ لفظ غلط لکھا ہوا ہے اور اگر درست ہے تو یہ نام سنا کبھی نہیں
نصر ینصر سے
ان کی پہچان کے لئے یہ بات ذہن میں رہے کہ محلی اعراب اسماء مبنیہ کا ہوتا ہے اکثر یہ اعراب اسماء ضمائر اسماء موصولہ اور اسماء اشارہ کا ہوتا ہے اس کے علاوہ بھی ہوتے ہیں زیادہ تر عبارتوں میں یہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں اعراب کی پہچان کے لیے یہ دیکھیں کہ ترکیب میں لفظ کیا بن رہا ہے جیسے ضمیر فاعل بن رہی ہے تو فاعل مرفوع ہوتا ہے لہذا ضمیر محلا مرفوع اسی طرح اگر ضمیر مفعول بن رہی ہے تو مفعول منصوب ہوتا ہے تو ضمیر محلا مجرور ہوتی ہے بقیہ سب کی ایسے پہچان ہوگی
صیغہ واحد مذکر صفت مشبہ ثلاثی مجرد صحیح از باب کرم یکرم/ نصر ینصر
صلات الافعال سے مراد جار مجرور جو فعل کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں ان جار مجرور کو صلات بھی کہتے ہیں
لفظ موضوع مفرد اسم نکرہ مؤنث معرب جمع مونث سالم اعراب لفظی اعراب بالحرکت
فروع لفظ موضوع مفرد اسم معرفہ مذکر جمع معرب جمع مکسر منصرف اعراب لفظی اعراب بالحرکت
یہ باب تفعیل سے ہے
کافیہ کی اردو شرح جو سب سے اچھی معیاری اور مستند ہے وہ تو بشیر الناجیہ ہے جو واقعی علم النحو میں زبردست کتاب ہے
یہ یاء نسبت کی ہے
الصافیہ آسان عربی شرح آسانی سے سمجھ آ سکتی ہے
(ق،و،ل)
واحد مذکر حاضر فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی باب افعال ۔
صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد مہموز اللام از باب فتح یفتح
أقم صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف از باب افعال اصل میں تُقِیمُ تھا امر بناتے وقت علامت مضارع کو حذف کر کے اس کی جگہ ہمزہ لگایا اور آخر کو ساکن کر دیا تو أَقِیْمْ ہو گیا اب دو ساکن جمع ہو گئے تو یاء کو بھی حذف کر دیا تو أقم ہو گیا
اسم تفضیل تین طریقوں پر استعمال ہوتا ہے من کے ساتھ الف لام کے ساتھ اور اضافت کے ساتھ اگر من کے ساتھ ہو تو اسم تفضیل ہمیشہ صیغہ واحد مذکر ہی رہے گا چاہے موصوف مبتدا وغیرہ مؤنث تثنیہ یا جمع ہی کیوں نا ہوں اس ایک صورت کے علاوہ اسم تفضیل اپنے ما قبل اس کے مطابق ہوگا مذکر کے لئے مذکر مؤنث کے لئے مؤنث واحد تثنیہ جمع کا بھی یہی معاملہ ہوگا
تقدیری اعراب کی دو وجہیں ہوتی ہیں تعذر اور استثقال یا تو محل اعراب یعنی جس حرف پر اعراب آنا ہے وہ حرف ہو جس پر اعراب پڑھا ہی نا جا سکتا ہو جیسے الف کہ اس پر کوئی حرکت نہیں پڑھی جا سکتی جیسے مثال ہے رأیت الفتٰی اب یہاں آخری حرف الف ہے تو الف پر کوئی بھی حرکت پڑھنا نا ممکن ہے اس وجہ سے جس کلمے کے آخر میں الف ہو اس پر اعراب تقدیری ہوگا دوسری وجہ ہوتی ہے استثقال کہ اعراب تو پڑھنا ممکن ہے پڑھا بھی جا سکتا ہے لیکن وہ پڑھنا مشکل ہوگا کہ بغیر تکلف کے اس کو اداء نہیں کر سکتے جیسے لفظ ہے القاضیِ تو اس میں لفظ القاضی کی یاء محل اعراب ہے تو اس پر کسرہ اور ضمہ پڑھنے اہل عرب کے لئے مشکل ہوتا ہے اس وجہ سے حالت جری اور رفعی میں اس کو ساکن رکھتے ہیں اور اعراب تقدیری ہوتا ہے ایک اور تیسری وجہ بھی ہے کہ محل اعراب اعراب آنے سے پہلے ہی کسی حرکت میں مشغول ہو یعنی اس پر پہلے سے کوئی حرکت ایسی آ چکی ہو جسے تبدیل نا کیا جا سکتا ہو جیسے مضاف الی یا المتکلم غلامی وغیرہ کہ غلام کی میم پر یاء کی طرف اضافت کے وقت ہی کسرہ آ گئی اب اس پر دیگر کوئی حرکت پڑھنا نا ممکن ہے
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب سمع یسمع / کرم یکرم
تینوں صیغہ کی ایک ہی صرفی تحقیق ہوگی بس باب کا فرق ہے صیغہ واحد مذکر صفت مشبہ ثلاثی مجرد صحیح شہید از باب سمع یسمع عزیز مضاعف از باب ضرب یضرب نصیر از باب نصر ینصر
اثنا اسم جامد ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی عشر اسم جامد ثلاثی مجرد صحیح
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب تفعل
اس کے معانی میں اختلاف ہے مچھر، کیچڑ، نبی کا نام وغیرہ معانی آتے ہیں
جملہ۔خبریہ میں سچا ہونا یا جھوٹا ہونا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ جملہ اپنی اصل کے اعتبار سے سچا یا جھوٹا ہونا دونوں چیزوں کا احتمال رکھتا ہے کبھی سچ ترجیح پا جاتا ہے اور کبھی جھوٹ اسی طرح کلمہ طیبہ میں اگرچہ یہ جملہ خبریہ ہے سچ اور جھوٹ کا احتمال رکھتا ہے لیکن اللہ تبارک تعالی کا کلام ہونے کی وجہ سے اب اس میں سچا ہونا ترجیح پا چکا ہے تو اس وجہ سے اب یہ جملہ خبریہ ہے جس میں سچ ترجیح پا چکا ہے
مفعول مطلق کی اقسام تو نہیں کہہ سکتے البتہ مفعول مطلق تین معانی کے لئے آتا ہے تاکیدی ، نوعی اور عددی
مصدر ثلاثی مزید فیہ مضاعف از باب تفعل
مصدر ثلاثی مجرد مہموز العین و ناقص یائی از باب فتح یفتح
نہیں ہو سکتا
تین حرکت کے ساتھ تین صیغے بن سکتے ہیں ضمہ کے صیغہ واحد متکلم کسرہ کے ساتھ صیغہ واحد مؤنث حاضر فتحہ کے ساتھ صیغہ واحد مذکر حاضر بقیہ صرفی تحقیق ایک ہی ہوگی فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب افتعال
اسم جامد ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی مادہ : ض ح و
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت مجہول ثلاثی مجرد مہموز الفاء از باب نصر ینصر
معنی : جس کو پسند کی جائے ، جس کی خواہش کی جائے مادہ : ش ہ و
مخالطۃ مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب مفاعلہ
مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افتعال
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افتعال
مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب استفعال
جن صیغوں کے آخر میں نون خفیفہ نہیں آتی ان کے آخر میں نون مضارع کو حذف کرنے کے بعد ایک ساکن حرف ہوتا ہے اور نون خفیفہ بھی ساکن ہوتی ہے تو یوں کسی ایک کو حذف کرنا پڑے گا جبکہ دونوں حرف اپنی جگہ ضروری ہیں اور اگر حذف کر بھی دیں تو پھر آخری حرف جو نون خفیفہ سے پہلے ہوگا اس پر کیا حرکت پڑھیں گے کوئی بھی حرکت پڑھیں التباس ہوگا اس وجہ سے وہ صیغہ نہیں بنتے جیسے یضربانِ تثنیہ کا صیغہ ہے اس سے اگر نون خفیفہ بنائیں گے تو پہلے نون اعرابی کو حذف کرنا پڑے گا اس کے بعد یضربانْ ہو جائے گا تو نون بھی ساکن الف بھی ساکن ہے اب ایک کو حذف بھی کر دیں تب بھی یہ مسئلہ ہے کہ الف کے بعد باء پر کونسی حرکت پڑھیں گے
علم صرف کو یاد کرنے اور مضبوط کرنے کا آسان طریقہ "ابو سفیان محمد راشد مدنی صادق آبادی" "03047482900" "علم صرف کا دائرہ کار" علم صرف کا دائرہ کار سمجھیے: اسما متمکنہ (جن میں تبدیلی ممکن ہے) افعال متصرفہ (جن کی گردان بن سکتی ہے) علم صرف میں تصریف سے مراد اعلال، ادغام، تخفیف وغیرہ کی تبدیلیاں ہیں۔ اصل افعال: ماضی، مضارع، امر، باقی توابع مثل نہی و تاکید بلم و بلن و موکد با نون۔ اسماء: اسمائے مشتقات۔ "علم صرف کو یاد کرنے اور اجراء کرنے کے مراحل" "ترکیب و تصریف" اسے دو مراحل میں تقسیم کر لیں: 1- ترکیب 2- تصریف "پہلے مرحلے کی وضاحت:" اس میں یہ چیزیں آ جائیں گی اسماء و افعال کی تعریفات اور بنانے کے طریقے مع حفظ اوزان و ابواب و گردانیں "دوسرے مرحلے کی وضاحت:" حفظ قواعد و اجرا قواعد پڑھنے اور یاد کرنے کے ساتھ ساتھ گردانوں پر ان کا استعمال کرتے جائیں۔ - افعال پر قواعد کا اجراء - اسماء و ابواب و مصادر پر قواعد کا اجراء بس علم صرف آپ کو پانی کی طرح یاد ہو جائے گا اور ٹینشن ختم۔ اب نحو کی ٹینشن لیجیے۔
یہ اسم جامد، ہے اسمائے باری تعالی میں سے ہے۔
نحو سیکھنا فرض کفایہ ہے یعنی اگر کسی شہر کے لوگوں میں سے کسی ایک نے بھی سیکھ لی تو تمام لوگ بری الذمہ ہو جائیں گے اور اگر کسی نے بھی نا سیکھی تو سب لوگ گناہ گار ہوں گے
اسم جلالت اللہ لفظ موضوع مفرد اسم معرفہ مذکر واحد معرب مفرد منصرف صحیح اعراب لفظی اعراب بالحرکت
قال کی طرح بنے گی ہماری اسی ایپ پر قال کی گردان دیکھ سکتے ہیں
معی میں دو کلمے ہیں مع اور یاء ان میں اسم کی علامات یہ ہیں مع میں مضاف ہونا اور یاء ضمیر مضاف الیہ ہونا
مصدر سے ضمیر نہیں نکالیں گے کیوں مصدر میں ضمیر ہوتی ہی نہیں ہے
مصدر ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب یضرب
یہ باب تفاعل سے ہے
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں قَوَل تھا واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو قال ہو گیا