عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 3,697 جوابات شدہ سوالات

عليهم یہاں ضمیر کسرہ کیوں آیا

ضمائر مبنی ہیں اور بناء میں اصل یہ ہے کہ وہ ساکن ہوں لیکن اکثر اوقات مبنی اسماء پر بھی حرکت آ جاتی ہے اس کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں جیسے اجتماع ساکنین وغیرہ یہاں علیھم میں ھاء پر کسرہ یاء کی مناسبت سے ہے اور جب یاء یا کسرہ نا ہو تو اس پر ضمہ آئے گا

صرف1 جواب
16 جون، 2025

مقیمًا۔ مطمئنا التفات تسلیمتین۔ مأموم۔ انکی صرفی تحقیق

مقیما صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب افعال مطمئنا صیغہ واحد مذکر اسم فاعل رباعی مزید فیہ مہموز اللام از باب افعِلَّال التفات مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افتعال تسلیمتین مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعیل مأموم صیغہ واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مجرد مہموز الفاء و مضاعف از باب نصر ینصر

صرف1 جواب
7 مئی، 2025

جملے میں شرط اور جزاء آجائے تو کیا آخر میں ملا لر جملہ شرطیہ جزائیہ بنائیں گے یا ایسے ہی شرط اور جزاء کو چھوڑ دیں گے۔۔جواب فرما دیجئے۔۔ اسی طرح قسم اور جوابِ قسم جہاں آئے وہاں جملہ قسمیہ بنائیں گے یا ایسے ہی چھوڑ دیں گے۔نیز مفسَّر اور مفسِّر کو ملا کر جملہ تفسیریہ بنائیں گے یا ایسے ہی رہنے دیں گے۔۔

دونوں صورتیں عموما رائج ہیں لیکن شرط و جزاء الگ الگ کہہ کر چھوڑنا زیادہ بہتر ہے جملہ شرطیہ جہاں کتب النحو میں استعمال ہوتا ہے وہاں اس کے دو معنی ہوتے ہیں شرط و جزاء دونوں سے ملکر جو بنا ہو اور شرط و جزاء میں سے شرط کو بھی جملہ شرطیہ کہتے ہیں تو اس وجہ سے بعض لوگ جملہ شرطیہ پڑھ کر یہ کہتے ہیں کہ شرط و جزاء ملکر جملہ شرطیہ بنتا ہے حالانکہ یہ موقف تکلف پر مبنی ہے اولا : تو جملے کی تعریف ہی صادق نہیں آتی ثانیا : جملہ شرطیہ بھی جملہ فعلیہ ہی ہوتا ہے جملہ قسمیہ میں بھی دو احتمال ہوتے ہیں قسم اور جواب قسم سے مرکب جملہ اور صرف وہ جملہ جس میں اداۃ قسم موجود ہو اس کو بھی جملہ قسمیہ کہہ دیتے ہیں اس پر بھی وہی اعتراض ہوں گے جو اوپر ہوئے مزید برآں کہ قسم اور جواب قسم ملا کر ترکیب کرنا رائج نہیں ہے جملہ تفسیریہ بھی جملۂ مُفَسِّرہ کو کہتے ہیں در اصل جملوں کی دو طرح تقسیم ہوتی ہے پہلی حقیقت کے اعتبار سے اس اعتبار سے دو جملے ہیں جملہ فعلیہ اور اسمیہ کیوں کہ جتنے بھی جملے ہیں وہ ان ہی دو میں سے کوئی ایک ہی ہوگا اور دوسری تقسیم جملہ کی صفات کے اعتبار سے کی جاتی ہے جیسے کہ جملہ اعتراضیہ ، مفسرہ، حالیہ وغیرہ تو یہ محل کے اعتبار سے جملے کو نام دیتے ہیں

صرف1 جواب
24 جون، 2025

اقیموا کی صرفی تحقیق اور قواعد

صیغہ جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب افعال اصل میں یہ أقْوِموا تھا قاعدہ واو یا یاء متحرک ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دینا واجب ہے أقِوْموا ہوا پھر دُوسرا قاعدہ لگا کہ واو ساکن ماقبل مکسور کو یاء سے بدلنا واجب ہے پھر اقیموا ہوگیا۔۔۔

صرف1 جواب
27 جنوری، 2025

نون خفیفہ کی گردان میں جمع مؤنث کے صیغے کیوں نہیں آتے ؟

ان میں بھی التباس ہے کہ لام کلمہ پر کونسی حرکت پڑھیں گے اگر کو بھی حرکت پڑھیں گے اس میں التباس ہوگا جیسے نصب پڑھنے کی صورت میں واحد مذکر غائب یا واحد مذکر حاضر سے التباس اسی طرح ضمہ اور کسرہ میں بھی التباس ہوتا ہے

صرف1 جواب
3 جون، 2025

قل اعوذ برب الناس کی ترکیب کریں

قل فعل اس میں انت ضمیر فاعل اعوذ فعل اس میں انا ضمیر فاعل ب جار رب مضاف الناس مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہو باء جار کا مجرور جار مجرور ملکر ظرف لغو فعل فاعل ظرف لغو ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر مقولہ قل فعل اپنے فاعل اور مقولہ سے ملکر جملہ فعلیہ انشائیہ

صرف1 جواب
23 جون، 2025

ثلاثی مجرد اور مزید کے مصادر کی پہچان کیسی کریں

ثلاثی مجرد کے مصادر عموما سماعی ہوتے ہیں تو ان کی پہچان لغت سے حاصل ہوتی ہے بقیہ ثلاثی مزید فیہ کے مصادر کے مخصوص وزن ہوتے ہیں تو اس وزن پر جو اسم ہوگا وہ اسی باب کا مصدر ہوگا جیسے باب استفعال اب یہاں استفعال باب کا نام بھی ہے اور اس کے مصدر کا وزن بھی ہے تو استفعال کے وزن پر جو اسماء ہوں گے وہ اسی کے مصادر ہوں گے جیسے استنصار استمرار استمعمال وغیرہ

صرف1 جواب
20 جون، 2025

فیہ تعظیم لشان الطارق المفسربما بعدہ یہ جلالین شریف میں سے سورۃ الطارق کی عبارت ہے اسکی ترکیب بتادیجۓ

فیہ جار مجرور ملکر ظرف مستقر ثابت کے متعلق اس میں ھو ضمیر فاعل اسم فاعل اپنے فاعل اور ظرف مستقر سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہو کر خبر مقدم تعظیم مصدر ل جار شان مضاف الطارق موصوف المفسر اسم مفعول اس میں ھو ضمیر نائب الفاعل ب جار ما موصولہ بعدہ مرکب اضافی ہو کر مفعول فیہ ثبت فعل کا اس میں ھو ضمیر فاعل فعل فاعل مفعول فیہ ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ موصول صلہ ملکر مجرور جار مجرور ملکر ظرف لغو اسم مفعول اپنے نائب الفاعل اور ظرف لغو سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہو کر صفت الطارق کی الطارق موصوف اپنی صفت سے ملکر شان کا مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہو کر لام جار کا مجرور جار مجرور ملکر ملکر تعظیم مصدر کے متعلق تعظیم مصدر اپنے متعلق سے ملکر مبتدا مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ

صرف1 جواب
20 جون، 2025

صرفى تحقیق.........1. غىوب 2. تُوَفّرُ 3.متلازمان

غُیوب صیغہ جمع مکسر اسم جامد ثلاثی مزید فیہ اجوف یائی جب یہ بمعنی نظروں سے اوجھل چیز کے معنی میں ہو تو اس وقت صرفی تحقیق یہ ہوگی اور اس وقت ہی اس کی جمع اس وزن پر آئے گی تُوُفِّرَ صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت مجھول ثلاثی مزید فیہ مثال واوی از باب تفعل متلازمان صیغہ تثنیہ مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفاعل

صرف1 جواب
14 جون، 2025

فعل کو فعل کیوں کہتے اور حرف کو حرف کیوں کہتے

فعل کو فعل اس لیئے کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہوتا ہے کام کرنا اور فعل بھی اسی معنی پر دلالت کرتا ہے تو اس وجہ سے یہ نام رکھ دیا حرف کا مطلب ہوتا ہے کنارہ اور حرف نا مسند بنتا ہے نا مسند الیہ تو اس اعتبار سے فعل اور اسم سے کنارے میں ہوتا ہے

صرف1 جواب
14 جون، 2025

و قیل من راق۔اس میں راق کی تعلیل کیا ہے

اصل میں یہ صیغہ راقیٌ تھا تو اگر تنوین کی نون کو کھل کر لکھیں گے تو راقِیُن ہو جائے گا قاعدہ واؤ مضموم ما قبل مضموم یاء مضموم ما قبل مکسور کو ساکن کر دینا واجب ہے بشرطیکہ اس کے بعد واؤ مدہ نا ہو اس قاعدے کے تحت یاء مضموم ما قبل مکسور کو ساکن کیا تو راقِیْنْ ہو گیا تو یاء کو بوجہ اجتماع ساکنین حذف کیا تو راقِن کو گیا اب اس نون کو تنوین کی شکل میں لکھیں گے تو راقٍ ہوگا

صرف1 جواب
16 جون، 2025

میرا سوال یہ ہے کہ محلا مرفوع، محلا منصوب، محلا مجرور کو کس طرح پہچانے کتاب سے تو آجاتا ہے پر مثال میں کس طرح سمجھا جائے محلا منصوب کو زیادہ اچھے سے وضاحت فرما دیں جزاک اللہ خیرا

ان کی پہچان کے لئے یہ بات ذہن میں رہے کہ محلی اعراب اسماء مبنیہ کا ہوتا ہے اکثر یہ اعراب اسماء ضمائر اسماء موصولہ اور اسماء اشارہ کا ہوتا ہے اس کے علاوہ بھی ہوتے ہیں زیادہ تر عبارتوں میں یہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں اعراب کی پہچان کے لیے یہ دیکھیں کہ ترکیب میں لفظ کیا بن رہا ہے جیسے ضمیر فاعل بن رہی ہے تو فاعل مرفوع ہوتا ہے لہذا ضمیر محلا مرفوع اسی طرح اگر ضمیر مفعول بن رہی ہے تو مفعول منصوب ہوتا ہے تو ضمیر محلا مجرور ہوتی ہے بقیہ سب کی ایسے پہچان ہوگی

صرف1 جواب
12 جون، 2025

اقم کی تعلیل

أقم صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف از باب افعال اصل میں تُقِیمُ تھا امر بناتے وقت علامت مضارع کو حذف کر کے اس کی جگہ ہمزہ لگایا اور آخر کو ساکن کر دیا تو أَقِیْمْ ہو گیا اب دو ساکن جمع ہو گئے تو یاء کو بھی حذف کر دیا تو أقم ہو گیا

صرف1 جواب
4 جون، 2025

اسم تفضیل میں مطابق کتنی جگہوں پر ہوتی ہے اور کتنی جگہوں پر نہیں ہوتی مثالوں کے ساتھ بیان کریں

اسم تفضیل تین طریقوں پر استعمال ہوتا ہے من کے ساتھ الف لام کے ساتھ اور اضافت کے ساتھ اگر من کے ساتھ ہو تو اسم تفضیل ہمیشہ صیغہ واحد مذکر ہی رہے گا چاہے موصوف مبتدا وغیرہ مؤنث تثنیہ یا جمع ہی کیوں نا ہوں اس ایک صورت کے علاوہ اسم تفضیل اپنے ما قبل اس کے مطابق ہوگا مذکر کے لئے مذکر مؤنث کے لئے مؤنث واحد تثنیہ جمع کا بھی یہی معاملہ ہوگا

صرف1 جواب
4 جون، 2025

تقدیری اعراب کیوں پڑھا جاتا ہے مثالوں کے ساتھ بیان کرے

تقدیری اعراب کی دو وجہیں ہوتی ہیں تعذر اور استثقال یا تو محل اعراب یعنی جس حرف پر اعراب آنا ہے وہ حرف ہو جس پر اعراب پڑھا ہی نا جا سکتا ہو جیسے الف کہ اس پر کوئی حرکت نہیں پڑھی جا سکتی جیسے مثال ہے رأیت الفتٰی اب یہاں آخری حرف الف ہے تو الف پر کوئی بھی حرکت پڑھنا نا ممکن ہے اس وجہ سے جس کلمے کے آخر میں الف ہو اس پر اعراب تقدیری ہوگا دوسری وجہ ہوتی ہے استثقال کہ اعراب تو پڑھنا ممکن ہے پڑھا بھی جا سکتا ہے لیکن وہ پڑھنا مشکل ہوگا کہ بغیر تکلف کے اس کو اداء نہیں کر سکتے جیسے لفظ ہے القاضیِ تو اس میں لفظ القاضی کی یاء محل اعراب ہے تو اس پر کسرہ اور ضمہ پڑھنے اہل عرب کے لئے مشکل ہوتا ہے اس وجہ سے حالت جری اور رفعی میں اس کو ساکن رکھتے ہیں اور اعراب تقدیری ہوتا ہے ایک اور تیسری وجہ بھی ہے کہ محل اعراب اعراب آنے سے پہلے ہی کسی حرکت میں مشغول ہو یعنی اس پر پہلے سے کوئی حرکت ایسی آ چکی ہو جسے تبدیل نا کیا جا سکتا ہو جیسے مضاف الی یا المتکلم غلامی وغیرہ کہ غلام کی میم پر یاء کی طرف اضافت کے وقت ہی کسرہ آ گئی اب اس پر دیگر کوئی حرکت پڑھنا نا ممکن ہے

صرف1 جواب
4 جون، 2025

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ یہ جملہ خبریہ ہے لیکن یہاں تعریف کے مطابق نہیں ہوا ہے سچ یا جھوٹا احتمال رکھتا ہے یہ جملہ کس لئے جملہ خبریہ ہوا ہے

جملہ۔خبریہ میں سچا ہونا یا جھوٹا ہونا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ جملہ اپنی اصل کے اعتبار سے سچا یا جھوٹا ہونا دونوں چیزوں کا احتمال رکھتا ہے کبھی سچ ترجیح پا جاتا ہے اور کبھی جھوٹ اسی طرح کلمہ طیبہ میں اگرچہ یہ جملہ خبریہ ہے سچ اور جھوٹ کا احتمال رکھتا ہے لیکن اللہ تبارک تعالی کا کلام ہونے کی وجہ سے اب اس میں سچا ہونا ترجیح پا چکا ہے تو اس وجہ سے اب یہ جملہ خبریہ ہے جس میں سچ ترجیح پا چکا ہے

صرف1 جواب
4 جون، 2025

نون خفیفہ کی گردن اٹھ ہی کیوں کیا چودہ کیوں نہیں کیا جبکہ نون ثقیلہ میں چودہ گردن ہیں؟

جن صیغوں کے آخر میں نون خفیفہ نہیں آتی ان کے آخر میں نون مضارع کو حذف کرنے کے بعد ایک ساکن حرف ہوتا ہے اور نون خفیفہ بھی ساکن ہوتی ہے تو یوں کسی ایک کو حذف کرنا پڑے گا جبکہ دونوں حرف اپنی جگہ ضروری ہیں اور اگر حذف کر بھی دیں تو پھر آخری حرف جو نون خفیفہ سے پہلے ہوگا اس پر کیا حرکت پڑھیں گے کوئی بھی حرکت پڑھیں التباس ہوگا اس وجہ سے وہ صیغہ نہیں بنتے جیسے یضربانِ تثنیہ کا صیغہ ہے اس سے اگر نون خفیفہ بنائیں گے تو پہلے نون اعرابی کو حذف کرنا پڑے گا اس کے بعد یضربانْ ہو جائے گا تو نون بھی ساکن الف بھی ساکن ہے اب ایک کو حذف بھی کر دیں تب بھی یہ مسئلہ ہے کہ الف کے بعد باء پر کونسی حرکت پڑھیں گے

صرف1 جواب
2 جون، 2025

ہم اپنی صرف کو کیسے مضبوط بنا سکتے ہیں؟؟؟

علم صرف کو یاد کرنے اور مضبوط کرنے کا آسان طریقہ "ابو سفیان محمد راشد مدنی صادق آبادی" "03047482900" "علم صرف کا دائرہ کار" علم صرف کا دائرہ کار سمجھیے: اسما متمکنہ (جن میں تبدیلی ممکن ہے) افعال متصرفہ (جن کی گردان بن سکتی ہے) علم صرف میں تصریف سے مراد اعلال، ادغام، تخفیف وغیرہ کی تبدیلیاں ہیں۔ اصل افعال: ماضی، مضارع، امر، باقی توابع مثل نہی و تاکید بلم و بلن و موکد با نون۔ اسماء: اسمائے مشتقات۔ "علم صرف کو یاد کرنے اور اجراء کرنے کے مراحل" "ترکیب و تصریف" اسے دو مراحل میں تقسیم کر لیں: 1- ترکیب 2- تصریف "پہلے مرحلے کی وضاحت:" اس میں یہ چیزیں آ جائیں گی اسماء و افعال کی تعریفات اور بنانے کے طریقے مع حفظ اوزان و ابواب و گردانیں "دوسرے مرحلے کی وضاحت:" حفظ قواعد و اجرا قواعد پڑھنے اور یاد کرنے کے ساتھ ساتھ گردانوں پر ان کا استعمال کرتے جائیں۔ - افعال پر قواعد کا اجراء - اسماء و ابواب و مصادر پر قواعد کا اجراء بس علم صرف آپ کو پانی کی طرح یاد ہو جائے گا اور ٹینشن ختم۔ اب نحو کی ٹینشن لیجیے۔

صرف1 جواب
29 مئی، 2025