عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 3,697 جوابات شدہ سوالات

ایضا اور نحو کی نحوی ترکیب کیسے ہوگئی

أیضا کی ترکیب یوں ہوتی ہے کہ اس سے پہلے آض فعل محذوف نکالا جاتا ہے اور یہ اس کا مفعول مطلق بنتا ہے آض فعل ،ھو ضمیر فاعل ، ایضا مفعول مطلق فعل فاعل مفعول مطلق ملکر جملہ فعلیہ خبریہ اور نحو کی ترکیب تو عبارت کے مطابق ہوتی ہے عموما جہاں امثلہ میں آتا ہے تو وہاں اس کو ما بعد کی طرف مضاف کرتے ہیں اور اس مرکب اضافی کو مثالہ مبتدا محذوف کی خبر بناتے ہیں

صرف1 جواب
5 مئی، 2025

ضمیر متصل اور منفصل کی اقسام کو کیسے سمجھا جائے ؟

ضمیر متصل اور منفصل کو سمجھنے کے لیے پہلے تو یاد کر لیں کچھ طریقے یہ ہیں 1 فعل کے ساتھ جو متصل ضمیر ہوتی ہے وہ متصل ہوتی ہے 2 ایاک وغیرہ جو ضمائر ہیں وہ منفصل ہیں 3 حرف جر یا اسم کے ساتھ جو ضمیر آئے گی وہ بھی متصل ہوگی 4 فعل یا حرف مشبہ بالفعل کے ساتھ جو ضمیر آتی ہے یعنی ک کما کم وغیرہ یہ متصل ہیں اور ھو ھما ھم وغیرہ جو فعل یا حرف مشبہ بالفعل کے ساتھ نا ہوں وہ منفصل ہوں گی یوں یاد رکھیں کچھ مشق کریں ان شاء اللہ یاد رہیں اور سمجھ بھی آئیں گی

صرف1 جواب
5 مئی، 2025

ضمیر متصل اور منفصل میں کیا فرق ہے ؟

ضمیر متصل ہمیشہ کسی نا کسی لفظ کے ساتھ جڑی ہوئی ہوتی ہے الگ سے استعمال نہیں ہوتی اور ضمیر منفصل الگ سے استعمال ہو جاتی ہے ایک اور فرق یوں بھی یاد رکھیں کہ ضمیر متصل عامل سے مقدم نہیں ہوسکتی اور نا ہی اس کا عامل معنوی ہوگا اور ضمیر منفصل عامل سے مقدم بھی ہو سکتی اس کا عامل معنوی بھی ہو سکتا ہے

صرف1 جواب
4 مئی، 2025

صرىح اور مؤول کیسے کہتے ہیں

صریح وہ لفظ ہوتا ہے جو واضح اور قطعی معنی رکھتا ہو، جس میں کسی اور مطلب کا احتمال نہ ہو یا بہت کم ہو۔ یعنی جو بات کہی گئی ہو، وہ بلاتردد سمجھ میں آ جائے۔ مؤول وہ لفظ ہوتا ہے جو بظاہر ایک مطلب دے، لیکن اس کا دوسرا مطلب بھی ممکن ہو، اور وہ دوسرے مطلب پر قرینہ (سند یا دلیل) موجود ہو۔ یعنی اس میں تاویل (تشریح یا تشبیہ) کی گنجائش ہوتی ہے۔

صرف1 جواب
15 مارچ، 2025

يا ايها الذين امنوا اذا كنتم الى الصلاه فاغسلوا وجوهكم وايديكم الى المرافق وامسحوا برؤوسكم وارجلكم الى الكعبين . اس ایت مبارک کی نحوی ترکیب کیا ہے؟

أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا» سبق إعرابها «إِذا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ» الجار والمجرور متعلقان بالفعل قبلهما والجملة في محل جر بالإضافة وإذا ظرف متعلق بالجواب فاغسلوا «فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرافِقِ» الجار والمجرور متعلقان بالفعل اغسلوا والواو فاعله وجوهكم مفعوله وأيديكم عطف عليها «وَامْسَحُوا بِرُؤُسِكُمْ» الجار والمجرور متعلقان بالفعل وقيل الباء زائدة للتبعيض وقيل للإلصاق «وَأَرْجُلَكُمْ» عطف على وجوهكم «إِلَى الْكَعْبَيْنِ» متعلقان بمحذوف حال من أرجلكم

صرف1 جواب
23 اپریل، 2025

باب کرم یکرم کا مجہول کیوں نہیں آتا

فعل مجہول وہ فعل ہوتا ہے جس کی نسبت مفعول بہ کی طرف کی جائے تو باب کرم یکرم فعل لازم ہوتا ہے اور فعل لازم کا مفعول بہ نہیں آتا اس وجہ سے فعل مجہول بھی نہیں آتا یاد رہے یہ فعل مجہول نا آنا اس وقت ہے جب فعل مجہول کی نسبت مفعول بہ کی طرف کی جائے یا اس کا نائب الفاعل مفعول بہ ہو اگر مفعول بہ کے علاوہ کوئی مفعول ہوگا تو فعل مجہول بن سکتا ہے

صرف1 جواب
28 اپریل، 2025

مصدرمیمی‌ کیا ہے

مصدرِ میمی باب مفاعلہ کے علاوہ جس مصدر کے شروع میں میمِ زاندہ ہو اسے مصدرِ میمی کہتے ہیں، اس کے تین اوزان ہیں پہلا وزن ثلاثی مجرد صحیح افعال کا مصدرِ میمی مَفْعَلٌ کے وزن پر آتا ہے جیسے: مَرْجَعٌ دوسرا وزن مثالِ واوی کا مصدرِ میمی مَفْعِلٌ کے وزن پر آتا ہے جیسے: مَوْضِعٌ تیسرا وزن غیر ثلاثی افعال کا مصدرِ میمی اسمِ مفعول کے وزن پر آتا ہے جیسے: مُکْرَمٌ

صرف1 جواب
25 اپریل، 2025

یعلمون ظاہرا من الحیوتہ الدنیا وہم عن الاخرتہ ھم غفلون لی تر کیب

يَعْلَمُونَ» مضارع مرفوع والواو فاعله «ظاهِراً» مفعول به والجملة مستأنفة لا محل لها «مِنَ الْحَياةِ» متعلقان بما قبلهما «الدُّنْيا» صفة الحياة «وَ» الواو حالية «هُمْ» مبتدأ «عَنِ الْآخِرَةِ» متعلقان بالخبر «غافِلُونَ» «هُمْ» توكيد للأولى والجملة حال

صرف1 جواب
26 اپریل، 2025

صلۃ اور حالا کی صرفی تحقیق ؟

صلۃ صیغہ مصدر ثلاثی مجرد مثال واوی از باب ضرب یضرب تعلیل : اصل میں یہ وِصْل کے وزن پر تھا قاعدہ : مثال واوی کا مصدر اگر فعل کے وزن پر ہو تو اس کے واؤ کو حذف کر کے عین کلمہ کو کسرہ دیتے ہیں ، اور واؤ محذوفہ کے عوض آخر میں ’ۃ‘ کا اضافہ کر دیتے ہیں ہاں اگر مصدر فعل کے وزن پر ہو تو عین کلمہ کو بعض اوقات فتحہ دیتے ہیں استعمال: قاعدہ کے مطابق واؤ کو حذف کیا ، عین کلمہ جو یہاں صاد ہے کو کسرہ دیا ، اور آخر میں گول تاء کا اضافہ کیا تو "صِلَۃٌ" ہو گیا حال اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف واوی تعلیل : اصل میں حَوَل تھا۔ قاعدہ : واؤ یاء متحرک ہوں اور ان کا ما قبل مفتوح ہو تو ان کو الف سے بدل دینا واجب ہے۔ استعمال : حَوَل میں واؤ متحرک ہے ، اور ما قبل مفتوح ہے، قاعدہ کے مطابق اسے الف سے تبدیل کیا تو حال ہو گیا

صرف1 جواب
24 اپریل، 2025

"یشأء" صیغہ کون سا ہے مکمل بتائیں اور اس کی تعلیل بتائیں

صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف یائی و مہموز اللام از باب سمع یسمع تعلیل : اصل میں یہ صیغہ "یَشْیَءُ" تھا قاعدہ : واؤ اور یاء متحرک ہوں اور ان کا ما قبل ساکن ہو تو ان دونوں کی حرکت ما قبل کو دینا واجب ہے اور حرکت کے موافق حرف علت سے تبدیل کرنا بھی واجب ہے۔ استعمال : یاء متحرک ہے ، ما قبل ساکن ہے ، یاء کی حرکت ما قبل کو دی ، پھر یاء کو حرکت کے موافق حرف علت یعنی الف سے تبدیل کیا تو "یشاء" ہو گیا ہے ۔

صرف1 جواب
25 اپریل، 2025

آکل میں کیا تعلیل ہوئی ہے؟

"آکُلُ" اصل میں أأکل تھا قاعدہ : دو ہمزہ جمع ہو جائیں اور ان میں سے دوسرا ساکن ہو تو اسے پہلے والے ہمزہ کی حرکت کے مطابق بدلنا واجب ہے یہاں پہلا ہمزہ متحرک ہے اور مفتوح ہے تو دوسرے ہمزہ کو الف سے تبدیل کیا تو أاکل ہو گیا اب کتابت کے اصول کے مطابق اسے آکل لکھا جائے گا

صرف1 جواب
25 اپریل، 2025

علم صرف کا جامع فائدہ کیا؟ تفصیل سے بیان کریں؟

علم الصرف کا جامع فائدہ یہ ہے کہ آپ صیغوں کو سمجھ جائیں یعنی کونسا لفظ کس کلمہ سے بنا ہے اس کا معنی کیا ہوگا وغیرہ اس چیز کو سمجھنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ قرآن کریم میں صیغوں کی پہچان حاصل کر پائیں گے اور قرآن کو درست سمجھ پائیں گے

صرف1 جواب
18 اپریل، 2025

قاضین میں کیا تعلیل ھوئی ھے؟

صیغہ جمع مذکر سالم اسم فاعل ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب اصل میں قاضِیِین تھا قاعدہ : یاء مکسور یا مضموم ہو اور اس سے پہلے کسرہ ہو تو یاء کو ساکن کرنا واجب ہے پہلی یاء کو ساکن کر دیا پھر دونوں یاء ساکن تجے اجتماع ساکنین کی وجہ سے پہلی یاء کو حذف کیا تو قاضِین ہو گیا

صرف1 جواب
16 اپریل، 2025

قالین کی صرفی تحقیق کیا ہے ؟

صیغہ جمع مذکر سالم اسم فاعل ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب اصل میں قالِیِین تھا قاعدہ : یاء مکسور یا مضموم ہو اور اس سے پہلے کسرہ ہو تو یاء کو ساکن کرنا واجب ہے پہلی یاء کو ساکن کر دیا پھر دونوں یاء ساکن تجے اجتماع ساکنین کی وجہ سے پہلی یاء کو حذف کیا تو قالین ہو گیا

صرف1 جواب
14 اپریل، 2025

ینعقد کی صرفی تحقیق۔۔۔۔۔۔۔ فیقول کی صرفی تحقیق

ینعقد صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب انفعال یقول صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں یقْوُلُ تھا واؤ اور یاء متحرک ہوں اور ان کا ما قبل ساکن ہو تو ان کی حرکات ما قبل کی طرف نقل کر دینا واجب ہے واؤ کی حرکت قاف کو دی تو یقُولُ ہو گیا

صرف1 جواب
15 اپریل، 2025

صرف کے کثیر الاستعمال قواعد کون کون سے ہیں؟نیز ان کو یاد کیسے کیا جاۓ؟

ہماری اس ایپ میں قواعد ڈالے گئے ہیں جن میں نوے فیصد قواعد کثیر الاستعمال ہیں یاد دو طرح سے کریں پہلے قاعدہ یاد کریں پھر اس کو مثال پر اپلائی کریں سٹیپ بائی سٹیپ پھر دوسری مرتبہ میں مثال سے قاعدہ بیان کریں جیسے قال لفظ یاد کر لیا تو اس سے قاعدہ یاد ہو جائے گا قال » اصل میں قول » تھا اب اس پر قاعدہ جاری ہوتا ہے واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلنے والا تو یوں پہلے قاعدہ پھر مثال اور پھر مثال سے قاعدہ بیان کریں کوشش کریں جہاں پر بھی کوئی قاعدہ استعمال ہو رہا ہو تو وہاں ابتداء مکمل قاعدہ ہی بیان کریں تاکہ آپ کو زیادہ سے زیادہ پختہ یاد ہو سکے

صرف1 جواب
12 اپریل، 2025

مفعول بہ کی پہچان کیاہے

مفعول بہ وہ اسم ہوتا ہے جس پر فعل واقع ہو اب اس کی پہچان سمجھنے کے لیے یہ طریقے دیکھیں پہلے فعل کی تعیین کریں کہ متعدی ہے یا لازم یعنی وہ فعل ایسا ہے کہ جس کا اثر فاعل کے علاوہ کسی دوسری چیز پر ہو سکتا ہے یا نہیں اگر فعل کا اثر فاعل کرنے والے کے علاوہ کسی دوسری چیز پر ہو سکتا ہے تو وہ فعل متعدی ہوگا اور اس کا مفعول بہ آئے گا مفعول بہ کیسے تلاش کریں ؟ اب فعل متعدی کا اثر دیکھیں کس چیز پر ہو رہا ہے جیسے ضرب زید بکرا ہمارے پاس عبارت ہے تو ترجمہ میں دیکھیں مارنے والا کون ہے ؟ اور اس نے یہ کام یا فعل کس پر کیا ہے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ مارنے والا زید ہے اور اس نے بکر کو مارا ہے تو بکر مفعول بہ ہوا کیوں کہ یہ کام اس پر ہوا ہے اس کی دیگر مثالیں بھی دیکھیں شرب بکر لبنا نے دودھ پیا لقیت زیدا میں زید سے ملا اس طرح دیگر عبارت میں موجود امثلہ پر مشو کرنے سے مزید یہ بات واضح ہو جائے گی

صرف1 جواب
15 اپریل، 2025

مسنداور مسند الیہ کون کون سی چیزیں ہیں ؟

نیچے لکھی ہوئی چیزیں مسند اور مسند الیہ بنتی ہیں لاء نفی جنس ،ما و لا مشابہ بلیس ، افعال ناقصہ ، حروف مشبہ بالفعل ان سب کی خبر مسند ہوتی ہے اور اسم مسند الیہ ہوتا ہے مبتدا مسند الیہ اور خبر مسند ہوتی ہے فعل مسند نائب الفاعل و فاعل مسند الیہ ہوتے ہیں اسم فعل مسند اور اس کا فاعل مسند الیہ ہوتا ہے بس یہ چیزیں یاد رکھیں اس کے علاوہ کوئی اور چیز مسند الیہ مسند نہیں ہوتی

صرف1 جواب
7 اپریل، 2025

"اِحْمَرَّ‌ اِحْمَرِّ اِحْمَرِرْ" کا معنی کیا ہوگا اور ان مے کیا فرق ہیں

یہ تینوں کلمات ایک ہی صیغہ ہیں یعنی فعل امر صیغہ واحد مذکر حاضر ان کا معنی ہے سرخ ہو تو ایک مرد ان میں لفظی فرق ہے مختلف قبائل ہے استعمال کے اعتبار سے یعنی بعض ادغام کرتے ہیں سور بعض بغیر ادغام کے پڑھتے ہیں

صرف1 جواب
29 مارچ، 2025

اپنی صرف و نحؤ مضبوط کرنے کا طریقہ

صرف و نحو کو مضبوط کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے صرف کے اہم اسباق اچھے انداز کے ساتھ سمجھ کر تکرار کرلیں اِس کے بعد قرآن مجید کے ایک پارے صیغوں پہ اجراء کریں۔ اِس کے بعد نحو کے اہم اسباق اچھے انداز کے ساتھ سمجھ کر تکرار کرلیں اِس کے بعد عربی کی کسی آسان پہ نحو کا اجراء کریں۔ ان شاء اللّٰه عزوجل اِس طرح سے آپ کی صرف و نحو مضبوط ہو جائے گی۔ یاد رکھیں صرف و نحو کمزور اِس وجہ سے ہے کہ ہم صرف یاد کرتے ہیں ، رٹا لگاتے ہیں. کبھی سمجھنے کی کوشش نہیں کی اور نا اجراء کرتے ہیں۔ اِس وجہ سے صرف و نحو کی کمزوری کبھی ختم نہیں ہوتی۔

صرف1 جواب
25 مارچ، 2025

ائمة کی تعليل و تحقیق بتا دیجئے

صیغہ جمع مکسر ثلاثی مزید فیہ مہموز الفاء و مضاعف اصل میں أءمِمَۃ تھا دو ہم جنس یعنی میم جمع ہوئے تو اس پر یہ قاعدہ جاری ہوا کہ: اگر دو حروف ایک جنس کے جمع ہو جائیں اور دونوں متحرک ہوں تو پہلے کو ساکن کر کے دونوں کا ادغام کر دیا جائے تو یہ أئمۃ ہو گیا اور اسے ایمۃ بھی پڑھ سکتے ہیں

صرف1 جواب
14 مارچ، 2025

الاشتقاق الصرفی. کی تعريف کیا ہے اردو میں

اشتقاق صرفی سے مراد وہ عمل ہے جس میں کسی بنیادی لفظ (اصل لفظ یا مادہ) میں مختلف لاحقے یا سابقے شامل کرکے نیا لفظ بنایا جاتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے الفاظ کے معنی میں تبدیلی آتی ہے اور بعض اوقات لفظ کی نوعیت (مثلاً اسم، فعل، صفت) بھی بدل جاتی ہے۔

صرف1 جواب
20 مارچ، 2025

عربی عبارت میں مہارت حاصل کرنے کا طریقہ

1. عربی نحو اور صرف سیکھیں – بنیادی گرامر اور الفاظ کے معانی کو سمجھیں۔ 2. مطالعہ اور مشق کریں – قرآن، احادیث، اور عربی ادب پڑھیں اور لکھنے کی عادت ڈالیں۔ 3. سننے اور بولنے کی مہارت بڑھائیں – عربی لیکچرز سنیں اور اہلِ زبان سے گفتگو کریں۔ 4. لغت اور ترجمہ کا استعمال کریں – عربی لغات سے مدد لیں اور عبارات کا ترجمہ اور تجزیہ کریں۔ 5. مستقل مزاجی رکھیں – روزانہ وقت نکالیں اور سیکھنے کے عمل کو جاری رکھیں۔

صرف1 جواب
23 مارچ، 2025