الا کون سا صیغہ ہے
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد مہموز الفاء اور ناقص واوی باب نصر ینصر
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 3,697 جوابات شدہ سوالات
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد مہموز الفاء اور ناقص واوی باب نصر ینصر
واحد مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد مہموز الفاء اور ناقص واوی باب نصر ینصر
اسم فاعل واحد مذکر ثلاثی مزید فیہ مضاعف باب افعال
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی باب افعال
واحد مؤنث غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب ضرب یضرب
جمع مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد مثال واوی باب ضرب یضرب
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب ضرب یضرب
ان میں کوئی فرق نہیں
یُدخل فعل ب زائدہ ھاء ضمیر نائب الفاعل فعل نائب الفاعل ملکر جملہ فعلیہ خبریہ
دُعًی اصل میں دُعَوُن تھا واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو دعان ہوگیا نون تنوین اور الف میں اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر گیا تو دُعَن ہو گیا تنوین کی صورت میں لکھیں گے تو دُعًی ہو گیا
امتنی اصل میں امتنَیَ
سجدۃ صیغہ مصدر مرہ ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر
یہ ثلاثی مزید فیہ کے ابواب ہی جیسے عام افعال استعمال ہوتے ہیں ویسے ہی یہ استعمال ہوتے ہیں
واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی باب ضرب یضرب
صیغہ جمع متکلم فعل مضارع جحد بلم معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب فتح یفتح
وہ فعل جو گزشتہ زمانے میں کسی کام کے ہونے پر دلالت کرے
جاء فعل نون وقایہ یاء ضمیر مفعول بہ القوم مستثنی منہ الا حرف استثناء زیدا مستثنی مستثنی منہ اور مستثنی ملکر فاعل فعل فاعل اور مفعول بہ ملکر جملہ فعلیہ خبریہ
قام فعل القوم مستثنی منہ الا حرف استثناء زیدا مستثنی مستثنی منہ اور مستثنی ملکر فاعل فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ خبریہ
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد مہموز الفاء+ناقص یائی باب فتح یفتح
زَنَوَتْ
جمع مذکر حاضر فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب سمع یسمع
باب نصر ینصر
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت مجھول ثلاثی مجرد مضاعف باب نصر ینصر
واحد مؤنث غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افتعال
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب انفعال
جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد اجوف یائی باب ضرب یضرب
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی باب افتعال
واحد مذکر غائب فعل نفی جحد بلم ثلاثی مجرد اجوف واوی باب سمع یسمع
صرف صغیر و کبیر بنانا فقط پریکٹس کے لئے ہے اس سے فایدہ یہ ہوتا ہے کہ طالب علم گردانیں یاد کر کے عربی زبان کے افعال اور ان کے ابواب پر مہارت حاصل کر لیتا ہے جس کے ذریعے عربی عبارت پڑھنا آسان ہو جاتا ہے
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد لفیف مقرون باب ضرب یضرب
اسم آلہ
یَکَدْن
در اصل یہ گردان اس ترتیب پر ہے کہ کہ ترکیبی لحاظ سے بھی درست رہے اب مصدر کو فعل ماضی و مضارع کے بعد ذکر کرنے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ مفعول مطلق بنے اور فذاک و ھو ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے بعد صفت کے صیغے یعنی اسم فاعل و مفعول ہیں جو کہ ترکیبی لحاظ ذاک اور ھو کی خبر بنیں گے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ صفت کے صیغے کے لیے کوئی اعتماد یعنی چیز ہونا ضروری ہے جس کے ساتھ یہ قائم ہوں
تضرب صیغہ واحد مذکر حاضر یا واحد مؤنث غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب یضرب
کبشین کا مطلب ہے مینڈھا اور اس کے حروف اصلیہ یہ ہیں ک ب ش
صیغہ واحد مؤنث اسم مفعول ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعیل
موضوع علم صرف کا موضوع صیغہ کے اعتبار سے کلمہ ہے.
مضاعف ہے مضاعف رباعی وہ اسم یا فعل ہوتا ہے جس کے فاء اور لام اول اور عین اور لام ثانی میں ایک جیسے حروف ہیں اس اعتبار سے یہ مضاعف ہے
ثلاثی مزید فیہ کے بارہ ابواب ہیں ان کی خصوصیات جاننے کے لیے خاصیات کا مطالعہ کیجئے
وہ کلمہ جس کے عین کلمہ میں یاء حرف علت ہو جسے اجوف یائی بھی کہتے ہیں
سیدھے ہاتھ والا
یاسر باب ضرب یضرب سے ہے
أألو تھا مہموز کا قاعدہ جاری ہوا آمن والا
لم یکن صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع جحد بلم معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں لم یکوُن تھا واو متحرک ما قبل ساکن تھی اس کی حرکت کاف کو دی پھر نون اور واؤ میں اجتماع ساکنین ہوا تو واو کو حذف کر دیا
حجامت پچھنے cupping کے پیشے کو کہتے ہیں اسم۔جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح
تحریر کریں بار بار تکرار کریں۔۔
اسم فاعل واحد مذکر ثلاثی مجرد ناقص یائی باب ضرب یضرب
آپ کے لگائے گئے اعراب کے مطابق صیغہ کی صرفی تحقیق صیغہ جمع مذکر غائب فعل مضارع مثبت مجہول ثلاثی مجرد مضاعف از باب نصر ینصر اصل میں یُدْعَعُون تھا قاعدہ دونوں ہم جنس حروف متحرک ہوں اور ان کا ماقبل حرف ساکن غیر مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو اس حرف کی طرف نقل کر کے ادغام کریں گے عین کی حرکت دال کی طرف نقل کر کے عین کا عین میں ادغام کیا تو یُدَعُّون ہوگیا
صیغہ واحد مذکر صفت مشبہ ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں نبیو تھا قاعدہ ہر وہ واو جو دوسرے حرف سے بدلی ہوئی نہ ہو اگر کسی غیر ملحق کلمہ میں ياء کے ساتھ جمع ہو جائے اور ان میں پہلا حرف (واو ہو یا یاء) ساکن ہو تو واو کو یاء سے بدل کر یا کا یاء میں ادغام کرنا واجب ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کیا تو نبیٌّ ہو گیا
صیغہ جمع مکسر اسم ظرف ثلاثی مجرد مہموز اللام از باب فتح یفتح
نحو و صرف کے متعلق سوال کریں ۔۔۔۔
اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف یائی اصل میں نَیَر تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو نار ہو گیا
الامور صیغہ جمع مکسر اسم جامد ثلاثی مزید فیہ مہموز الفاء
ملاح الالواح
واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افعال
واحد مؤنث غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف یائی باب ضرب یضرب
نصر ینصر ضرب یضرب فتح یفتح سمع یسمع کرم یکرم حسب یحسب
وجْہٌ
واحد مؤنث غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد مضاعف ثلاثی باب نصر ینصر
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت مجھول ثلاثی مجرد اجوف یائی باب ضرب یضرب
واحد مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی باب افعال
واحد مذکر غائب فعل ماضی قریب ثلاثی مجرد اجوف یائی باب ضرب یضرب
افتعال
اجوف واوی
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مضاعف ثلاثی باب افعال
جی
جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی باب تفعیل تعلیل اصل میں صلیو تھا قاعدہ لام کلمے میں یاء مضموم ہو ماقبل مکسور ہو اس کے بعد واو جمع ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دیکر اسے حذف کرنا واجب ہے پھر صلو ہوگیا
جید صیغہ واحد مذکر صفت مشبہ ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں جیوِد تھا قاعدہ ہر وہ واو جو دوسرے حرف سے بدلی ہوئی نہ ہو اگر کسی غیر ملحق کلمہ میں ياء کے ساتھ جمع ہو جائے اور ان میں پہلا حرف (واو ہو یا یاء) ساکن ہو تو واو کو یاء سے بدل کر یا کا یاء میں ادغام کرنا واجب ہے یہ قاعدہ جاری ہوا تو جید ہوا جدا اصل میں مصدر ہے بطور مبالغہ کثرت بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے مصدر ثلاثی مجرد مضاعف از باب ضرب یضرب
أَنْجِ صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی از باب افعال اصل میں انجی بر وزن اکرم تھا یاء امر کی وجہ سے ساقط ہوگئی تو انجِ بچ گیا
اُتْلُ اصل میں اتلو تھا واو حرف علت امر کی وجہ سے ساقط ہوا تو اتل بچ گیا
الف لام برائے تعریف ہی ہوتا ہے البتہ جب یہ اعلام پر داخل ہوتا ہے تو زائدہ ہوتا ہے اور تعریف کا فائدہ نہیں دیتا
مصدر ثلاثی مجرد صحیح از باب سمع یسمع
اس کی اصل بہت تلاش کرنے کے با وجود بھی نہیں مل سکی
حذاء اسم جامد ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی اصل میں حذاو تھا اس قاعدے کے تحت واؤ کو ہمزہ سے بدل دیا تو حذاء ہو گیا قاعدہ واؤ یا ياء لام کلمہ میں الف زائدہ کے بعد واقع ہوں تو انہیں ہمزہ سے بدل دینا واجب ہے
نار اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف یائی اصل میں نَیَر تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو نار ہو گیا
جنون مصدر ثلاثی مجرد مضاعف از باب سمع یسمع
لم یسل۔ اصل میں یہ کم یسئل تھا قاعدہ ہمزہ متحرک ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ہمزہ کی حرکت ماقبل کو دیکر اسے حذف کرنا واجب ہے تو لم یسل ہوا
وجه تسمیه: علم صرف کو صرف“ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا لغوی معنی ” پھیرنا ہے، اور اس علم میں چونکہ ایک کلمہ کو پھیر کر اس کی مختلف صورتیں بنانے کے طریقے بیان کیے جاتے ہیں اس لیے اس علم کو علم صرف کہتے ہیں۔
وہ کلمہ جس کوئی حروف اصلی ہمزہ ہو جیسے قرء
مصل اصل میں مُصَلِّیُنْ تھا یاء مضموم ما قبل کو مکسور کو ساکن کرنا واجب ہوتا ہے یاء کو ساکن کیا تو یاء اور نون دونوں ساکن جمع ہوئے اب یاء کو حذف کیا تو مُصلِنْ ہوگیا اب اسی نون کو تنوین کی صورت میں لکھیں گے تو مُصَلٍ ہوگا
جی بنتا ہے
ذات والا لیلۃ رات مسیرۃ سیر چلنا
مصدر
اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف یائی و مہموز اللام
لم یکن صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع جحد بلم معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں لم یکوُن تھا واو متحرک ما قبل ساکن تھی اس کی حرکت کاف کو دی پھر نون اور واؤ میں اجتماع ساکنین ہوا تو واو کو حذف کر دیا
اسم جامد ثلاثی مجرد صحیح
مثال واوی اور مہموز اللام
ذائقہ ہے
واحد مؤنث غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی باب نصر ینصر
اس وجہ سے تاکہ حروف شفت حروف وسط اور حروف حلق میں سے ایک ایک حروف اس میں شامل ہو جائے (مراح الارواح ص 24)
وفاء مصدر ثلاثی مجرد لفیف مفروق از باب ضرب یضرب اصل میں وفای تھا قاعدہ واؤ یا ياء لام کلمہ میں الف زائدہ کے بعد واقع ہوں تو انہیں ہمزہ سے بدل دینا واجب ہے اس قاعدے کے تحت یاء کو واؤ سے بدلا تو وفاء ہو گیا تشریق مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعیل اداء مصدر ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب تفعیل اصل میں ادای تھا بقیہ وفاء والی تعلیل ہے منکبین صیغہ تثنیہ اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح رکعۃ مصدر مرہ ثلاثی مجرد صحیح از باب فتح یفتح
یسمی صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی از باب تفعیل اصل میں یسمو تھا ناقص کا قاعدہ نمبر چار جاری ہوا تو یسمی ہوگیا پھر ناقص کا یدعو یرمی والا قاعدہ جاری ہوا تو یاء مضموم ما قبل مکسور کو ساکن کر دیا تو یسمی ہوگیا
اسم مصدر ثلاثی مزید لفیف مفروق از باب افتعال اصل میں وقوی تھا واؤ کو خلاف قیاس تاء سے بدلا تو تقوی ہو گیا
اسم مصدر ثلاثی مزید لفیف مفروق از باب افتعال اصل میں وقوی تھا واؤ کو خلاف قیاس تاء سے بدلا تو تقوی ہو گیا
الف کبھی بھی حروف اصلیہ میں سے نہیں ہوتا بلکہ زائدہ ہوتا ہے یا کسی اور حرف واؤ یا یاء یا ہمزہ سے بدل کر آیا ہوتا ہے
لفظ کے اللہ کے حروف اصلیہ میں ایک قول یہ ہے کہ ء ل ہ ہیں اصل میں ال ألاه تھا کثرت استعمال سے درمیان والا ہمزہ ساقط کر کے لام کا لام میں ادغام کیا تو اللہ ہوگیا ہے
بعض اوقات الف بھی واؤ یا یاء سے بدل جاتا ہے جیسے فاعل کی تصغیر فویعل بنتی ہے تو یہاں الف واؤ سے بدل گیا ہے
ناقص الفی نہیں ہوتا کیوں کہ یہ ناقص یائی یا واوی ہونا حروف اصلیہ کے لحاظ سے ہوتا ہے جبکہ الف حروف اصلیہ میں سے نہیں ہوتا البتہ نحو میں ناقص الفی ہوتا ہے کیوں کہ نحو میں اعراب سے بحث ہوتی ہے
اور وہ جائز ہے کاٹن اون اور بالوں سے سوائے ریشم کے
مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعل