عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 3,697 جوابات شدہ سوالات

"اوذوا" کی تعلیل اور صرفی تحقیق بتادیں

صیغہ جمع مذکر غائب فعل ماضی مثبت مجہول ثلاثی مجرد مہموز الفاء و ناقص یائی از باب ضرب یضرب اصل میں أُوذِیُوا تھا قاعدہ اگر لام کلمہ میں یا مضموم ہو اور اس کا ماقبل مکسور ہو اور اس کے بعد واو جمع ہو تو اس کی حرکت ماقبل کی طرف نقل کر کے یاء کواجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف کر دیتے ہیں اس قاعدے کے تحت یاء کی حرکت ذال کو دیکر یاء کو حذف کر دیا گیا ہے

صرف1 جواب
28 نومبر، 2024

النیة كس قاعده صرفي كے تحت هوا

النیۃ اصل میں نِوْیَۃٌ تھا قاعدہ ہر وہ واو جو دوسرے حرف سے بدلی ہوئی نہ ہو اگر کسی غیر ملحق کلمہ میں ياء کے ساتھ جمع ہو جائے اور ان میں پہلا حرف (واو ہو یا یاء) ساکن ہو تو واو کو یاء سے بدل کر یا کا یاء میں ادغام کرنا واجب ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کیا تو نیۃ ہو گیا

صرف1 جواب
25 نومبر، 2024

قِطَارَ کی صرفی تحقیق اغلَقتُ کی صرفی تحقیق یَدَی کی صرفی تحقیق غَسَلتُ کی صرفی تحقیق لَمَعَت کی صرفی تحقیق

قطار۔جمع مذکر مکسر۔اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح باب نصر ینصر اغفلت۔واحد متکلم فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افعال غسلت۔واحد متکلم فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب نصر ینصر لمعت واحد متکلم فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب فتح یفتح

صرف1 جواب
1 دسمبر، 2024

عینَا کی صرفی تحقیق القِط کی صرفی تحقیق انکَسَرَت کی صرفی تحقیق تَشکُرُ کی صرفی تحقیق ثَروَةُکی صرفی تحقیق سَائقُو کی صرفی تحقیق أسرَعَ کی صرفی تحقیق جَائ کی صرفی تحقیق

عینا مصدر ۔۔ القِط۔واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افعال انکسرتَ۔واحد مذکر حاضر فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب انفعال تشکر۔واحد مذکر حاضر فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب نصر ینصر سائقو۔جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی باب مفاعلہ اسرع۔واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افعال جای۔واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف یائی+مہموز اللام باب ضرب یضرب

صرف1 جواب
1 دسمبر، 2024

لَعِبنَا کی صرفی تحقیق اِبتَعِدکی صرفی تحقیق مَشَیتُ کی صرفی تحقیق رَکِبتُ کی صرفی تحقیق

لعبنا۔جمع متکلم فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب سمع یسمع ابتعد۔واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح سالم باب افتعال مشیت۔واحد متکلم فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی باب ضرب یضرب رکبت۔واحد متکلم فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب نصر ینصر

صرف1 جواب
1 دسمبر، 2024

مفعول مطلق کے فعل ناصب کو کہاں اور کتنے جگہ حزف کیا جاتا ہے

مفعول مطلق کے فعل ناصب کو دو جگہ حذف کیا جاتا ہے 1 سماعا۔۔ 2 ۔قیاسا 1۔جس مفعول مطلق کے فعل ناصب کو ذکر کرنا مسموع نہ ہو وہاں اس کا حذف سماعا واجب ہے جیسے سقیاً۔رعیاً وغیرہ 2جہاں فعل محذوف کا قرینہ یا قائم مقام پایا جائے وہاں اسے قیاسا حذف کرنا واجب ہے جب مفعول مطلق مکرر واقع ہو جب مفعول مطلق بصیغہ تثنیہ واقع ہو

صرف1 جواب
25 نومبر، 2024

افعال ناقص کو جملہ فعلیہ کیوں کہا جاتا ہے حالانکہ وہ اسم اور خبر پر داخل ہوتا ہے تو اِس بنا پر تو جملہ خبریہ ہونا چاہئے ؟

کیونکہ جس طرح فعل فاعل کا محتاج ہوتا ہے ایسے ہی فعل ناقص بھی اپنے اسم اور خبر کا محتاج ہوتا ہے اور جملہ اسمیہ اور فعلیہ جملہ خبریہ ہی کی اقسام ہیں

صرف1 جواب
2 دسمبر، 2024

نومی اور خوصمت کی تعلیل اورصیغہ

نومی۔واحد موئث حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر ینصر تعلیل۔اول أنومُ تھا ی واحد مؤنث حاضر کی ہے قاعدہ واو یا یاء متحرک ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دینا واجب ہے پھر فاء کلمہ کے متحرک ہونے کی وجہ سے ہمزہ وصلی کی حاجت نہیں رہتی تو نم ہوگیا پھر حذف شدہ واو دیگر صیغوں میں واپس آگیا تو واحد مؤنث نومی ہوگیا خوصمتَ۔واحد مذکر حاضر فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب مفاعلہ

صرف1 جواب
29 نومبر، 2024

مبیع کی صرفی تحقیق اور تعلیل بتا دیں

واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مجرد اجوف یائی باب ضرب یضرب تعلیل اصل میں مبیوع تھا قاعدہ واو یا یاء متحرک ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دینا واجب ہے پھر اجتماع ساکنین کی وجہ یاء کو گرا دیا تھا مبوع ہوا اجوف یائی کا اسم مفعول ہونے کی وجہ ماقبل ضمہ کو کسرہ سے بدلا مَبِوْع ہوا پھر قاعدہ لگا واو ساکن ماقبل مکسور کو یاء سے بدلنا واجب ہے تو پھر مبیع ہوگیا ۔

صرف1 جواب
27 نومبر، 2024

الجماع مصدر يا جامد

در اصل مصدر اور اسم جامد دو الگ چیزیں نہیں ہیں بلکہ مصدر اسم جامد کی ہی ایک قسم ہے۔ اسم جامد کی دو صورتیں ہیں: 1۔ ایسا اسم جامد جس میں کوئی وصفی معنی نہ پایا جائے۔ 2۔ ایسا اسم جامد جس میں وصفی معنی پایا جائے۔ اس دوسری صورت میں اسم جامد کو مصدر کہتے ہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ جماع مصدر ہے یا نہیں تو جماع باب مفاعلہ "جامع یجامع" کا مصدر ہے۔

صرف1 جواب
27 نومبر، 2024