قضاء صرفی تحقیق ؟ اور تعلیل
مصدر ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب اصل میں قضای تھا قاعدہ واؤ یا ياء لام کلمہ میں الف زائدہ کے بعد واقع ہوں تو انہیں ہمزہ سے بدل دینا واجب ہے اس قاعدے کے تحت یاء کو ہمزہ سے بدلا تو قضاء ہو گیا
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 3,697 جوابات شدہ سوالات
مصدر ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب اصل میں قضای تھا قاعدہ واؤ یا ياء لام کلمہ میں الف زائدہ کے بعد واقع ہوں تو انہیں ہمزہ سے بدل دینا واجب ہے اس قاعدے کے تحت یاء کو ہمزہ سے بدلا تو قضاء ہو گیا
قِ صیغہ واحد مذکر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد لفیف مقرون از باب ضرب یضرب اصل میں تَقِی تھا امر بناتے ہوئے علامت کو حذف کیا اور آخر سے حرف علت گرا دیا تو قِ بچ گیا
مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افعال
واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد مضاعف باب افعال
الصمت مصدر ہے واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر ینصر تعلیل ۔ اصل میں صوم تھا اجوف کا قاعدہ جاری ہوا واؤ یا یاء متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدلنا واجب ہے پھر صام ہوا
تم نے مجھے دیکھا فتح یفتح رأی فتحتنی
جزور اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح حدیث صیغہ واحد مذکر صفت مشبہ ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر جنابۃ مصدر ثلاثی مجرد صحیح از باب سمع یسمع جنب صیغہ واحد مذکر صفت مشبہ ثلاثی مجرد صحیح از باب سمع یسمع
صیغہ جمع مذکر غائب فعل ماضی مثبت مجہول ثلاثی مجرد مہموز الفاء و ناقص یائی از باب ضرب یضرب اصل میں أُوذِیُوا تھا قاعدہ اگر لام کلمہ میں یا مضموم ہو اور اس کا ماقبل مکسور ہو اور اس کے بعد واو جمع ہو تو اس کی حرکت ماقبل کی طرف نقل کر کے یاء کواجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف کر دیتے ہیں اس قاعدے کے تحت یاء کی حرکت ذال کو دیکر یاء کو حذف کر دیا گیا ہے
یہ خلاف قیاس ہے اس میں دوسری لغت بھی ہے مَشُورۃ
اسم جامد ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی اصل میں مشکَوَۃ تھا واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو مشکاۃ ہو گیا
حذا صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں حَذَوَ تھا واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو حذا ہو گیا
مصدر ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب تفعل
مصدر ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب یضرب
حبس صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب یضرب
اسم جامد ثلاثی مجرد مہموز الفاء
واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مجرد ناقص یائی ضرب یضرب
واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح باب افعّل
واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افعّل
كَتَّانُ : عربي [اسم] سن ( 2 ) سن کا ریشہ جس سے کپڑا بنا جاتا ہے ( 3 ) کائی ۔ لیس الماء کتانه: پانی پر کائی اگئی ( 4 ) گھر میں دھویں کا نشان ۔
جمع متکلم فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افتعال
اصل میں یعود تھا قاعدہ واو یا یاء متحرک ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دینا واجب ہے پھر قاعدہ لگا واو ساکن ماقبل مکسور کو یاء سے بدلنا واجب ہے پھر یعید ہوگیا
واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح باب نصر ینصر
باب تفعیل کا مصدر ہے
اصل میں یہ اوتحد تھا قاعدہ باب افتعال کے فا کلمے میں واو ہو تو تاء افتعال کو فاء کلمہ کی جنس سے بدل کر ادغام کرنا واجب ہے اتتحد ہوا پھر بعد ادغام اتّحد ہوا
تثنیہ مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب فتح یفتح
أمضی تھا امر کی وجہ سے آخر سے حرف علت ساقط ہوگیا امض ہوا
فتح یفتح
واحد مذکر حاضر فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر ینصر
عربی میں کب سے گ کا استعمال ہونے لگا ہے؟
واحد مذکر غائب فعل نفی جحد بلم ثلاثی مجرد اجوف یائی باب ضرب یضرب
واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مجرد ناقص یائی باب ضرب یضرب
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب فتح یفتح
ٹھنڈک پہنچانے کا چھوٹا آلہ
ٹھنڈک پہنچانے کا چھوٹا آلہ
واحد مذکر صفت مشبہ ثلاثی مجرد ب صحیح باب کرم یکرم
جَیِئْتُ
نصر ینصر
تفعیل
عاریا صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب عریان صیغہ واحد مذکر صفت مشبہ ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب
النیۃ اصل میں نِوْیَۃٌ تھا قاعدہ ہر وہ واو جو دوسرے حرف سے بدلی ہوئی نہ ہو اگر کسی غیر ملحق کلمہ میں ياء کے ساتھ جمع ہو جائے اور ان میں پہلا حرف (واو ہو یا یاء) ساکن ہو تو واو کو یاء سے بدل کر یا کا یاء میں ادغام کرنا واجب ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کیا تو نیۃ ہو گیا
الغینا صیغہ جمع متکلم فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب افعال
أیِس صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد مہموز الفاء و اجوف یائی از باب سمع یسمع أ ی س
اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح ( ز م ن)
تفاعل
جمع موئث حاضر فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف یائی باب افتعال
باب افعلال
ن کا لام میں قریب المخرج ہونے کی وجہ سے ادغام کیا
مطیع واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ اجوف یائی باب افعال تمرّ واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف رباعی مجرد مضاعف باب دحرج
بلغ واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب نصر ینصر موقوف واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مجرد مثال واوی باب ضرب یضرب
انطلق واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب انفعال یتوّزف واحد مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مثال واوی باب تفعّل
واحد مذکر حاضر فعل مضارع منفی معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی باب استفعال
واحد مؤنث غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افعال یراجع۔واحد مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب مفاعلہ
یہ باب افتعال سے ہے اس کے حروف اصلیہ ردد ہیں
قطار۔جمع مذکر مکسر۔اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح باب نصر ینصر اغفلت۔واحد متکلم فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افعال غسلت۔واحد متکلم فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب نصر ینصر لمعت واحد متکلم فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب فتح یفتح
عینا مصدر ۔۔ القِط۔واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افعال انکسرتَ۔واحد مذکر حاضر فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب انفعال تشکر۔واحد مذکر حاضر فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب نصر ینصر سائقو۔جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی باب مفاعلہ اسرع۔واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افعال جای۔واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف یائی+مہموز اللام باب ضرب یضرب
صلوات جمع ہے صلاۃ کی اسم مصدر ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی از باب تفعیل
اداء اصل میں ادای تھا قاعدہ واؤ یا ياء لام کلمہ میں الف زائدہ کے بعد واقع ہوں تو انہیں ہمزہ سے بدل دینا واجب ہے اس قاعدے کے تحت یاء کو ہمزہ سے بدل دیا تو اداء ہو گیا حروف اصلیہ ا د ی
اسم جامد ہے یہ پچھنے لگانے کے پیشے کو کہتے ہیں
اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح
القاء مصدر ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب افعال اصل میں القای تھا قاعدہ واؤ یا ياء لام کلمہ میں الف زائدہ کے بعد واقع ہوں تو انہیں ہمزہ سے بدل دینا واجب ہے اس قاعدے کے تحت یاء کو ہمزہ سے بدل دیا تو القاء ہو گیا
اسم مصدر ثلاثی مزید لفیف مفروق از باب افتعال اصل میں وقوی تھا واؤ کو خلاف قیاس تاء سے بدلا تو تقوی ہو گیا
لعبنا۔جمع متکلم فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب سمع یسمع ابتعد۔واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح سالم باب افتعال مشیت۔واحد متکلم فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی باب ضرب یضرب رکبت۔واحد متکلم فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب نصر ینصر
صفحۃ المصادر
صُمٌّ» خبر أول لمبتدأ محذوف تقديره هم صم. «بُكْمٌ» خبر ثان مرفوع. «عُمْيٌ» خبر ثالث. والجمل الثلاث استئنافية. «فَهُمْ» الفاء عاطفة ، هم ضمير منفصل مبتدأ. «لا يَرْجِعُونَ» فعل مضارع وفاعل. والجملة خبر هم. والجملة الاسمية فهم معطوفة.
جی آ سکتے ہیں لیکن اکثر اپنے مشہور وزن پر ہی آتے ہیں
مصدر ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب اس میں تعلیل نہیں ہوئی
ہماری نحو کی دنیا میں موجود کتاب "الجموع فی اللغۃ العربیہ" اور "جمع التکسیر والتصحیح فی اللغۃ العربیہ" کا مطالعہ فرمائیں۔
مفعول مطلق کے فعل ناصب کو دو جگہ حذف کیا جاتا ہے 1 سماعا۔۔ 2 ۔قیاسا 1۔جس مفعول مطلق کے فعل ناصب کو ذکر کرنا مسموع نہ ہو وہاں اس کا حذف سماعا واجب ہے جیسے سقیاً۔رعیاً وغیرہ 2جہاں فعل محذوف کا قرینہ یا قائم مقام پایا جائے وہاں اسے قیاسا حذف کرنا واجب ہے جب مفعول مطلق مکرر واقع ہو جب مفعول مطلق بصیغہ تثنیہ واقع ہو
یوم ظرف زمان ہے
کیونکہ جس طرح فعل فاعل کا محتاج ہوتا ہے ایسے ہی فعل ناقص بھی اپنے اسم اور خبر کا محتاج ہوتا ہے اور جملہ اسمیہ اور فعلیہ جملہ خبریہ ہی کی اقسام ہیں
زال کی اصل زیل ہے یہ استمرار کے لیے استعمال ہوتا ہے یہ مجرد ہے واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف یائی باب ضرب یضرب۔
8
ماخد سے مراد فعل کا مادہ اشتقاق ہے خواہ وہ وہ مصدر ہو یا اسم جامد۔
اکرم۔قتّل۔قابل۔تقبّل۔تقابل جلبب۔اکوھّد۔اقعنسس۔اسلنقی۔تجلبب
منکبۃ محمدۃ مملکۃ مھوبۃ مدخل مرجع ماخذ مکذوب مکذوبۃ
امن ۔سلامتی ۔خیریت
وہ حروف جو فاء عین لام کلمے کے مقابل آئیں وہ حروف اصلیہ اس کے علاؤہ جو ہوں وہ زیادہ جیسے اکرم میں أ زیادہ کرم اصلیہ
اس میں کوئی تعلیل نہیں یہ اپنی اصل پر ہے
نومی۔واحد موئث حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر ینصر تعلیل۔اول أنومُ تھا ی واحد مؤنث حاضر کی ہے قاعدہ واو یا یاء متحرک ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دینا واجب ہے پھر فاء کلمہ کے متحرک ہونے کی وجہ سے ہمزہ وصلی کی حاجت نہیں رہتی تو نم ہوگیا پھر حذف شدہ واو دیگر صیغوں میں واپس آگیا تو واحد مؤنث نومی ہوگیا خوصمتَ۔واحد مذکر حاضر فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب مفاعلہ
اخطأ میں کوئی تعلیل نہیں یزیل کی اصل یزول تھی قاعدہ واو یا یاء متحرک ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دینا واجب ہے پھر دوسرا قانون لگا کہ واؤ ساکن ماقبل مکسور کو یاء سے بدلنا واجب ہے یزیل ہوگیا۔
باب مصدر ہے کیونکہ مصدر کی تعریف صادق آرہی ہے جو خود کسی سے مشتق نہ ہو اور اس سے دیگر کلمات بنتے ہوں باب سے بوّب الباب آتا ہے ( دربان بننا)
واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مجرد اجوف یائی باب ضرب یضرب
واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مجرد اجوف یائی باب ضرب یضرب تعلیل اصل میں مبیوع تھا قاعدہ واو یا یاء متحرک ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دینا واجب ہے پھر اجتماع ساکنین کی وجہ یاء کو گرا دیا تھا مبوع ہوا اجوف یائی کا اسم مفعول ہونے کی وجہ ماقبل ضمہ کو کسرہ سے بدلا مَبِوْع ہوا پھر قاعدہ لگا واو ساکن ماقبل مکسور کو یاء سے بدلنا واجب ہے تو پھر مبیع ہوگیا ۔
مصدر وہ ہوتا ہے جس سے دیگر کلمات بنتے ہوں خود کسے ے بنا ہوا نہ ہو بابٌ سے بوّب الباب آتا ہے (دربان بننا)
اصل میں اوتفق تھا قاعدہ باب افتعال کے فا کلمے میں واو ہو تو تاء افتعال کو تاء سے بدل کر ادغام کرنا واجب ہے پہلے واو کو تاء سے بدلا تو اتتفق ہوا پھر ادغام کیا تو اتّفق ہوا
قام
اصل میں یہ اوتکل تھا قاعدہ باب افتعال کے فا کلمے میں واو ہو تو اسے تاء افتعال سے بدل کر ادغام کرنا واجب ہے
منطق مرجع موضع مکرم
باب مفاعلہ کے علاؤہ جس مصدر کے شروع میں میم زائد ہو اسے مصدر میمی کہتے ہیں جیسے منطق
ملحق وہ کلمہ ہوتا ہے جس میں کسی حرف کی زیادتی کے سبب معنی میں تبدیلی نہ ہو مزید فیہ وہ کلمہ ہوتا ہے جس میں کسی حرف کی زیادتی کے سبب معنی میں تبدیلی ہو
کرم (بزرگ ہوا)۔ اکرم (تعظیم کی اس نے ) جلب ( چادر پہنانا) جلبب(چادر پہنانا)
جامد کی تعریف کو مدے نظر رکھا جائے تو اس کی پہچان آسان ہو جائے گی عموما اسماء اور اعلام جامد ہوتے ہیں جیسے زید بکر عمر
"نحتاج" صیغہ جمع متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب افتعال مصدر "الحتیاج"
در اصل مصدر اور اسم جامد دو الگ چیزیں نہیں ہیں بلکہ مصدر اسم جامد کی ہی ایک قسم ہے۔ اسم جامد کی دو صورتیں ہیں: 1۔ ایسا اسم جامد جس میں کوئی وصفی معنی نہ پایا جائے۔ 2۔ ایسا اسم جامد جس میں وصفی معنی پایا جائے۔ اس دوسری صورت میں اسم جامد کو مصدر کہتے ہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ جماع مصدر ہے یا نہیں تو جماع باب مفاعلہ "جامع یجامع" کا مصدر ہے۔
مصدر باب افعال سے
اس میں کوئی تعلیل نہیں ہوئی، یہ مثال واوی ہے اور اپنی اصل پر ہے۔ اسے باب مفاعلہ کا وادع کا مصدر بھی شمار کیا گیا ہے۔ اور باب تفعیل سے محض بطور اسم کسی کو رخصت کرنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔
در اصل یہ یؤذی تھا یا کے ساتھ۔۔ ما قبل لم یا کسی جازم حرف کی وجہ سے یاء گر گیا۔ یہ باب افعال سے ہے اور اس کے حروف اصلیہ (ء، ذ، ی) ہیں
واحد مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی باب افعال
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مثال واوی باب افتعال
یہ مصدر ہے باب افعال سے اصاب یصیب اصابۃ