نجو کس باب سے ہے
باب نصر ینصر
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 3,696 جوابات شدہ سوالات
باب نصر ینصر
جی یہ الفاظ ہیں نحو ۔ مثل ۔ غیر ہیں اس طرح کے اسماء کو متوغلۃ فی الابھام کہتے ہیں
09
ب حرف جر اسم مضاف لفظ اللہ اسم جلالت موصوف الرحمن صفت اول الرحیم صفت ثانی موصوف اپنی دونوں صفتوں سے ملکر مضاف الیہ مضاف و مضاف الیہ ملکر مجرور جار مجرور ملکر ظرف مستقر اشرع فعل کے اشرع فعل انا فاعل اپنے ظرف مستقر سے ملکر جملہ فعلیہ لفظا خبریہ معنی انشائیہ ہوا
ہمزہ قطعی وصل کلام کی صورت کی نہیں گرتا جبکہ ہمزہ وصلی وصل کلام کی صورت میں گر جاتا ہے
مشتق ہے
نکرہ سے مراد فرد عام ہوتے ہیں معرفہ سے مراد فرد خاص ہوتے ہیں مرکب اضافی میں ایک اسم کی دوسرے کی طرف نسبت ہوتی ہے جبکہ مرکب توصیفی میں کسی ذات کا وصف بیان کیا جاتا ہے
مفرد پر واحد کا اطلاق ہوتا ہے تثنیہ کا اطلاق دو افراد ہر ہوتا ہے
مفرد کا اطلاق فرد واحد پر ہوتا ہے جبکہ جمع کا اطلاق کل افراد پر ہوتا ہے
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی باب افتعال
مصدر ہے
مشتق ہے
الحمد مبتدا ل حرف جر لفظ اللہ اسم جلالت موصوف رب مضاف العالمین مضاف الیہ مضاف و مضاف الیہ ملکر صفت موصوف و صفت ملکر جار کا مجرور جار مجرور ملکر ظرف مستقر ثابت اسم فاعل کے اسم فاعل اپنے فاعل سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہوکر خبر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ لفظا خبریہ معنی انشائیہ ہوا
غیر منصرف
لغوی معنی: جدا کرنا، الگ کرنا، تفریق کرنا۔ اصطلاحی معنی: دو چیزوں کے درمیان ایسی جدائی کرنا جس سے ایک دوسرے سے ممتاز ہو جائے۔
ھلک فعل ماضی مطلق مثبت معروف الناس فاعل حاشا حرف جر العالم مجرور جار مجرور ملکر ظرف لغو فعل اپنے فاعل ظرف لغو سے ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا
ضمیر تین طرح کی ہوتی ہیں مرفوع منصوب مجرور پھر یہ متصل و منفصل بھی ہوتی ہیں سوائے مجرور کے وہ صرف متصل ہوتی ہے
مجازات کلم سے مراد اسماء شرط ہیں جو دو جملوں پر داخل ہوکر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پہلا دوسرے کا سبب ہے اس طرح اس میں لم ۔ لما۔ لام امر ۔ لائے نہی ۔ ان شرطیہ بھی شامل ہوگا
سبحان مضاف ذی مضاف الیہ ہوکر پھر مضاف الملک معطوف علیہ و حرف عطف الملکوت معطوف معطوف علیہ حرف علف معطوف ملکر ذی کا مضاف الیہ مضاف اپنے مضاف الیہ سے ملکر سبحان کا مضاف الیہ مضاف اپنے مضاف الیہ سے ملکر مفعول مطلق فعل محذوف سبحتُ کا سبّحتُ فعل انا ضمیر فاعل اپنے مفعول مطلق سے ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا
الف لام حرفی کی چار قسمیں نہیں ہیں اس کی دو قسمیں ہیں زائدہ و غیر زائدہ پھر زائدہ کی 5 اقسام ہیں جنسی عھد خارجی عھد ذھنی عھد حضوری استغراقی
عطفِ نکرہ علی المعرفہ قاعدہ:معرفہ پر نکرہ کا عطف جائز ہے، بشرطیکہ معنی درست ہو جَاءَ زَيْدٌ وَرَجُلٌ
واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ مضاعف باب مفاعلہ
حدث فعل ماضی مطلق مثبت معروف نا ضمیر منصوب متصل مفعول بہ عبد اللہ مضاف و مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہوکر موصوف بن مضاف یزید مضاف الیہ مضاف و مضاف الیہ ملکر صفت موصوف و صفت ملکر فاعل فعل فاعل مفعول بہ ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا
کاد افعال مقاربہ میں سے ہے اور یہ خبر کے قریب ہونے کا معنی دیتا ہے اور اس کی خبر فعل مضارع ہوتی ہے معنی ہوگا (قریب ہے کہ )
کچھ فرق ہے اسم فاعل عامل ہوتا ہے جبکہ فاعل عامل نہیں ہوتا فاعل سے قبل فعل ضروری ہے جبکہ اسم فاعل میں ایسا نہیں فاعل کا مرفوع ہونا ضروری ہے جبکہ اسم فاعل کا نہیں فاعل کا مشتق ہونا ضروری نہیں جبکہ اسم فاعل کا مشتق ہونا ضروری ہے اسم فاعل کے مخصوص اوزان ہیں جبکہ فاعل کے اوزان نہیں
لی خبر مقدم اخ مبتدا مؤخر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ
بنی فعل ماضی مجھول الاسلام نائب الفاعل فی حرف جر خمس مجرور جار مجرور ملکر ظرف لغو فعل اپنے نائب الفاعل و ظرف لغو سے ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا
مبنی
اسم منسوب
وقت موصوف طویل صفت موصوف صفت ملکر مبتدا لم ار واحد متکلم فعل مضارع نفی جحد بلم معروف اس میں انا ضمیر فاعل فعل اپنے فاعل سے ملکر خبر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ
جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر ینصر
عدل کا انحصار صرف دو چیزوں میں ہی سکتا ہے یا تو معدول عنہ خارج میں موجود ہوگا یا نہیں اگر ہوگا تو تحقیقی وگرنہ تقدیری کیونکہ نحاۃ نے کچھ ایسے الفاظ دیکھے جنہیں عرب غیر منصرف استعمال کرتے ہیں اور اس میں ایک ہی سبب پایا گیا تو اس وجہ سے انہوں نے عدل تقدیری کو فرض کردیا جیسے عمر
جمع مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افعال
الحمد للّٰه رب العالمین کی ترکیب سرچ فرما لیجئے الصلوۃ و السلام معطوف علیہ معطوف ملکر مبتدا علی جار اشرف مضاف المسلمین مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہو مبدل منہ یا مبیّن سیدنا مرکب اضافی ہو کر مبدل منہ یا مبین محمد عطف بیان یا بدل سیدنا اپنے بدل سے ملکر اشرف المسلمین کا بدل مبدل منہ بدل ملکر مجرور جار مجرور ملکر معطوف علیہ و عاطفہ علی جار آلہ معطوف علیہ اصحابه مرکب اضافی ہو کر موکد اجمعین تاکید مؤکد تاکید ملکر معطوف معطوف علیہ معطوف ملکر مجرور جار مجرور ملکر معطوف معطوف علیہ معطوف ملکر ظرف مستقر ثابتان کے متعلق اس میں ھو ضمیر فاعل اسم فاعل اپنے فاعل اور ظرف مستقر سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہو کر خبر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ انشائیہ/خبریہ
بصریوں کے نزدیک سمو ہے اور کوفیوں کے نزدیک وسم ہے
واحد متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی باب ضرب یضرب
نحو کا موضوع کلمہ اور کلام ہے جب کہ صرف کا موضوع صیغے کے اعتبار سے کلمہ ہے
مرکب مزجی ہے
اسم جامد ہے
جی بلکل بسا اوقات مفعول فعل سے پہلے آسکتا ہے
ثلاثی مجرد کے باب فتح یفتح سے ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال سے
الحمد مبتدا ل حرف جر لفظ اللہ اسم جلالت مجرور جار مجرور ملکر ظرف مستقر ہوکر خبر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد مہموز العین باب فتح یفتح
یہ وہ حروف ہوتے ہیں جو مبتدا و خبر پر داخل ہوکر ان پر عمل کرتے ہیں مبتدا کو اس کا اسم خبر کو اس کی خبر کہتے ہیں
جمع مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد مہموز العین+ناقص یائی باب فتح یفتح مادہ اصلی ر۔أ۔ی
باعتبار نحو جس اسم میں تانیث کی علامت موجود ہو اسے مؤنث کہتے ہیں
واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد مہموز الفاء باب نصر ینصر
جی بنا سکتے ہیں قرآن کریم میں اس کی نظاہر موجود ہیں جیسے لَمْ یَکُنْ
جی بلکل کیونکہ فعل مضارع پر یہ آکر اس پر لفظی اور معنوی دونوں طرح سے عمل کرتا ہے اس وجہ سے
تاکہ حالت نصب میں صفت کے ساتھ التباس نہ ہو جائے
واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد لفیف مفروق باب ضرب یضرب
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر ینصر
جس کے عین کلمے میں حرف علت واؤ یا یاء ہو اسے اجوف کہتے ہیں
6 ہیں أِنّ أَنّ کأنّ لکنّ لیت لعل
وہ کلمہ جس میں دو حرف علت ہوں یہ لفیف ہے اگر دونوں حرف علت الگ الگ ہوں تو لفیف مفروق ہوگا
دون اسم ظرف ہے غیر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے
صرف فعل ماضی اور امر حاضر معروف میں باب افعال کے ہمزہ پر فتحہ ہوگی اور فعل مضارع میں ہمزہ پر ضمہ ہوگا
علم صرف کا موضوع صیغے کے اعتبار سے کلمہ ہے
باب فتح یفتح سے ہے بمعنی لوٹنا ا
واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر ینصر
واحد متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افعال
مشھور خاصہ مشارکت ہے
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب سمع یسمع
سب سے پہلے سہ اقسام پھر شش اقسام پھر ہفت اقسام کا اجراء کرے
حرف جارہ 17 ہیں اسم پر داخل ہوکر مابعد کو جر دیتے ہیں اور اپنے مجرور سے ملکر ماقبل کے لیے ظرف بنتے ہیں کبھی لغو کبھی مستقر۔۔
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب سمع یسمع
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی باب افعال
جی انشائیہ ہے اس کی قسم عقد کے پائے جانے کی وجہ سے
جو عامل نصب دینے والے ہوتے ہیں جیسے أن۔ لن ۔ کی ۔ اذن
واحد متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب سمع یسمع
واحد مؤنث غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر ینصر
ضرب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح زید فاعل فعل اپنے فاعل سے ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا
جمع مکسر واحد مؤنث کے حکم میں ہوتی ہے
واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی باب افعال
جس میں مخاطب سے کوئی کام طلب کیا جائے ۔۔
12
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب نصر ینصر
جب اس کا دخول دو جملوں پر ہو جیسے من تضرب اضرب
قولنا بالرفع ہے
حروف ندا 5 ہیں یا ۔ أیا ۔ھیا۔ أی ۔ہمزہ مفتوحہ
جمع مؤنث حاضر فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب ضرب یضرب
جمع مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ لفیف مفروق باب افتعال
باب نصر ینصر
17 ہیں اور یہ اسم پر داخل ہونے کے بعد اسے جر دیتے ہیں
معرفہ میں شی و خاص معین ہوتی ہے جبکہ نکرہ میں عموم ہوتا ہے
جمع مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ لفیف مفروق باب افتعال
معنی میں تین احتمال ہیں اسم مفعول یہ احتمال بعید ہے مصدر میمی اور اسم ظرف یہ دو احتمال درست ہیں ان دونوں احتمال میں تعلیل ایک جیسی ہوگی اصل میں معنَیُ تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو معنی ہوگیا اگر اس پر الف لام ہوگا تو معنٰی پڑھیں گے اور اگر الف لام نا ہو تو معنًن پڑھتے ہیں اس صورت میں اور صرفی تحقیق یوں ہوگی اصل میں معنَیٌ تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو معنَان ہوگیا نون ساکن (تنوین والی) اور الف میں اجتماع ساکنین ہوا تو نون کو گرا دیا تو معنی ہوگیا
جعل بدو مفعول ہے جیسے قرآن میں ہے جعل لکم الارض فراشا
تثنیہ مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد صحیح باب ضرب یضرب
الف مقصورہ
مفرد منصرف صحیح
جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی باب افتعال مادہ اصلی (ن۔ھ۔ی)
تمام مرفوعات منصوبات مجرورات توابع قواعد کے ساتھ یاد کریں آسانی ہوگی
ضرب فعل ماضی مطلق مثبت معروف زید فاعل فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ خبریہ
کلمے سے شروع کریں مھمل یا موضوع پر کلمے کی اقسام پر بحث کریں پھر اسم ہے تو کونسا معرفہ نکرہ پھر اس کی اقسام کی تعیین کریں پھر فعل ہے تو کونسا اس طرح مزید آگے چلتے جائیں
بہنا
اگر آپ مدرسہ میں پڑھ رہے ہیں تو آپ کوشش کریں اپنے استاد صاحب کے ذریعے یہ مراحل وار سیکھتے جائیں روزانہ چند صیغے لیں حل کریں اپنے استاد کو چیک کروائیں مزید اگر ایسی سہولت نہیں ہے تو آپ خود سے یہ سیکھنے کی کوشش کریں اس کے لئے روزانہ قرآن کریم سے یا کسی کتاب سے دو چار صیغے لیں انہیں حل کرتے جائیں جہاں سمجھ نا آئے یا مشکل پیش آئے یہاں سوال کر لیں
. "🌹 گردان یاد کرنے کا آسان طریقہ🌹" "✍️ ابو المتبسِّم ایاز" "👈 گردان کی اہمیت:" ہمارے مدارس دینیہ میں گردان کو ایک پہاڑ بنا دیا گیا ہے۔ اور پہاڑ شاید اِس وجہ سے بھی بنا دیا گیا ہے کہ اِس کی اہمیت سے ناواقف ہیں. حالانکہ پوری گردان میں صیغوں کے اوزان ذکر ہوتے ہیں کہ فُلاں فعل یا اسم کے صیغہ کا وزن یہ ہے یا فُلاں صیغہ اِس وزن پہ آتا ہے. جب صیغہ کی پہنچان آگئ تو اُس لفظ کا اُسی حساب سے ترجمہ کرنا آسان ہو جائے گا. اگر صیغہ کی پہنچان نہیں آئ تو پھر ترجمہ کیسے کریں گے ؟ اِس طرح پھر عبارت کا ترجمہ کرنا مشکل جب ترجمہ مشکل ہوگیا تو پھر مفہوم کہاں سے سمجھ آئے گا ؟ اِس وجہ سے گردان کے اوزان صحیح طرح سے یاد کرلیں کہ کِس گردان کے صیغے کِس وزن پہ آتے ہیں اور اِن کی علامات کیا ہیں ؟ تاکہ عبارت میں تعیینِ صیغہ کرنا آسان ہو جائے۔ "👈 گردان یاد کرنے کا آسان طریقہ:" گردان کو یاد کرنے کے درج ذیل پانچ طریقے ہیں اگر کوئی طالب علم ان پانچوں طریقوں سے گردان کو یاد کرلے تو ان شاء اللّٰه عزوجل گردان کبھی نہیں بھولے گی۔ "1:" پہلے صیغے سے چودہویں صیغے تک یاد کرنا۔ مثال: ضربَ، ضربَا، ضربوا۔۔۔۔۔الخ "2:" آخر سے اُوپر کی طرف یاد کرنا۔ مثال: ضربنَا، ضربتُ، ضربتن۔۔۔۔۔۔الخ "3:" نمبر کے اعتبار سے صیغوں کی پہچان کرنا۔ مثال: 5 نمبر پر کونسا صیغہ ہے ، 9 پر کونسا صیغہ ، 11 پر کونسا صیغہ "وعلی ھذا القیاس" "4:" بیچ بیچ سے کوئ صیغہ پوچھ کہ پھر تعیین کرانا کہ یہ کونسا صیغہ ہے اور اِس کی علامت کیا ہے۔ مثال: "ضَرَبَتْ" کونسا صیغہ ہے اور اِس کی علامت کیا ہے "وعلی ھذا القیاس" "5:" اُردو میں ایک جملہ بول کہ پوچھنا کہ یہ کونسا صیغہ ہے اور اِس کا عربی میں کونسا صیغہ بنے گا۔ مثال: "میں نے سبق یاد کیا" کونسا صیغہ ہے اسکی علامت کیا ہے "وعلی ھذا القیاس" 👈 اِن طریقوں پہ گردان یاد کرانے کا بنیادی مقصد یہ کہ گردان یاد ہو جائے اور پہنچان بھی آجائے. نہیں تو بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ گردان رٹی ہوئ ہوتی ہے لیکن پہنچان نہیں ہوتی وجہ یہی ہے کہ طلبہ کرام سے ایک ہی طریقے پہ گردان کا رٹا لگوا کہ یاد کروائ ہوتی ہے۔
صرف کو یاد کرنا ضروری چیز ہے کہ اس سے کلمات کی معرفت حاصل ہوتی ہے لیکن یاد کرنا اور یاد رکھنا تھوڑا مشکل ہے ہر شخص ذہنی قوت کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے تو دوسرے کے ساتھ موازنہ بھی نا کرنا چاہئے البتہ ایک مختصر طریقہ بتاتا ہوں کہ جس سبق کو یاد کرنا مقصود ہو اس کو بار بار پڑھیں پہلے پانچ بار دیکھ کر پڑھیں پھر پانچ بار زبانی پڑھنے کی کوشش کریں لیکن جہاں اٹک جائیں کتاب سے دیکھ لیں اس کے بعد پانچ بار بغیر دیکھے پڑھیں اور پانچ بار کسی کو سنا دیں یوں آپ کو ایک سبق اچھا اور دیرپا یاد رہے گا اگرچہ آپ کو ترتیب بھول جائے لیکن وہاں لکھی ہوئی باتیں کبھی نہیں بھولیں گی
باب کی پہچان کے لئے لغت استعمال کریں بار بار لغت کی طرف رجوع کرنے سے ابواب خود بخود ذہن میں بیٹھتے جائیں گے