میں نے استاد سے صرف کی کتاب پڑھنی ہے مجھے بہترین سی کتاب بتائیں علم الصیغہ کے علاؤہ
عافیہ، صرف بھترال، نصاب الصرف مرمم
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 3,697 جوابات شدہ سوالات
عافیہ، صرف بھترال، نصاب الصرف مرمم
اس کی وجہ یہ ہے کہ فعل مضارع کے معرب ہونے کی علت اسم فاعل سے مشابہت تامہ رکھنا ہے اور يَضْرِبْنَ، تَضْرِبْنَ میں اسم فاعل کے ساتھ مشابہت تامہ نہیں پائی جاتی جس کی بناء پر یہ فعل ماضی کی طرح مبنی ہیں، کیونکہ فعل ماضی میں بھی مشابہت تامہ نہیں پائی جاتی، اب رہی یہ بات کہ یہ دو صیغے اسم فاعل کے ساتھ مشابہت تامہ کیوں نہیں رکھتے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مشابہت تامہ کے لئے چھ چیزوں میں مشابہ ہونا شرط ہے، اگر ان میں سے کوئی ایک شرط فوت ہوتی تو مشابہت تامہ نہیں پائی جائے گی اور انہیں میں سے ایک حرکات و سکنات میں مشابہ ہونا ہے اور يَضْرِ بْنَ اور تَضْرِ بْنَ اسم فاعل کے ساتھ حرکات و سکنات میں مخالف ہیں کہ ان صیغوں میں پانچ حروف ہیں جبکہ اسم فاعل میں چار حروف، اور ان صیغوں کا چوتھا حرف ساکن ہے جبکہ اسم فاعل کا چوتھا حرف متحرک ہے نافہم۔
صحیح ہے
واحد مذکر غائب فعل مضارع منفی مجھول ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افتعال ۔۔۔
باب تفعیل کا مصدر ہے
اصل میں سیْوِدٗ تھا قاعدہ لگا جب ایک کلمے میں واو یا یاء جمع ہو جائیں ان میں سے ایک ساکن ہو تو دوسرے کو یا سے بدلنا واجب ہے ۔پھر یاء کا یاء میں ادغام کیا تو سیّد ہوا
تعیین باب تفعیل کا مصدر ہے
اصل میں یُزْوِلُ تھا قاعدہ واو یا یاء متحرک ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دینا واجب ہے یزِوْل ہوا پھر قاعدہ لگا کہ واو ساکن ماقبل مکسور کو یاء سے بدلنا واجب ہے یزیل ہوا۔۔۔
یہ اصل میں مخوط تھا قاعدہ لگا واو یا یاء متحرک ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دینا واجب ہے مخِوْط ہوا پھر قاعدہ لگا واو ساکن ماقبل مکسور کو یاء سے بدلنا واجب ہے مخیط ہوگیا
قرآن کریم بھت ہی بھترین ہے صرف کو مضبوط کرنے اور صیغوں کی پہچان کے لیے اگر گردانوں پر عبور چاہتے ہیں تو صفحۃ المصادر کتاب بھترین ہے
معلل سے مراد وہ صیغے ہیں جن میں کوئی تعلیل ہوئی ہو غیر معلل سے مراد وہ صیغے ہیں جن میں کوئی تعلیل نہ ہوئی ہو
اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ کسی بھی قاعدے کو یاد کرنے کے لیے اس قاعدے کے تحت آنے والی مثالوں کو حل کریں بار بار تکرار کریں ان شاءاللہ جلد ہی قواعد پر گرفت پائیں گے ۔۔۔
ثلاثی مجرد کے اوزان فَعْلٌ فِعْل فُعْل فَعَلٌ فِعَل فُعَل فَعِل فُعُل فَعُل ثلاثی مزید فیہ کے۔جامد کے اوزان کثیر ہیں اس کے لئے الممتع الکبیر کا مطالعہ فرمائیں
دم اسم جامد ثلاثی مجرد ناقص واوی یا یائی اصل میں دمی یا دمو تھا یاء یا واؤ آخر سے خلاف قیاس حذف ہوئی
انوار خادمیہ شرح مراح الارواح از علامہ خادم حسین رضوی
مطمئِن صیغہ واحد مذکر اسم فاعل رباعی مزید فیہ مہموز اللام از باب افعلَّال جیسے اقشعرار
مسند یا مسند الیہ ہونا کوئی خاص لفظ کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ اس میں یہ دیکھیں گے وہ ترکیب میں کیا بن رہا ہے چند چیزیں لکھ دیتا ہوں جو مسند الیہ یا مسند بنتی ہیں اگر مصدر یا دوسرا لفظ جس کا مسند الیہ یا مسند پتہ کرنا ہو دیکھیں وہ کیا بن رہا ہے ترکیب میں مثلا مسند الیہ یہ چیزیں ہوتی ہیں فاعل نائب الفاعل مبتدا کان کا اسم ما ولا کا اسم حرف مشبہ بالفعل کا اسم لاء نفی جنس کا اسم مسند یہ چیزیں ہوتی ہیں فعل خبر کان کی خبر حرف مشبہ بالفعل کی خبر لا نفی جنس کی خبر ما ولا مشابہ بلیس کی خبر اگر مصدر ان میں سے کوئی چیز بن رہا ہے تو مسند الیہ یا مسند ہوگا ورنہ نہیں
شروع کا ہمزہ
واحد مذکر غائب فعل نہی معروف ثلاثی مجرد صحیح باب سمع یسمع
مصدر ثلاثی مزید فیہ مہموز الفاء از باب مفاعلہ بمعنی پکارنا اسم جامد ثلاثی مزید فیہ مہموز الفاء (بمعنی اذان )
اصل میں مبیوع تھا یاء متحرک تھی اور اس کا ما قبل ساکن تو یاء کی حرکت ما قبل دے دی پھر یاء ما قبل مضموم تھی اسے واؤ سے بدل دیا تو مبووع ہوگیا اب دونوں واؤ میں سے ایک واؤ کو حذف کیا پھر مبوع ہوگیا اس کے بعد باب کی مناسبت سے واو کو یاء سے بدلا اور ما قبل ضمہ کو کسرہ سے تو مبیع ہوگیا تعلیلات خادمیہ
یہ محترم اس طرح زیادہ دیر تک یاد رہ سکتے ہیں کہ بار بار پڑھیں ہر باب کی خاصیات کا اجراء بھی کرتے رہیں تو ان شاء اللّٰه یہ کبھی نا بھولیں گے
مَقَاوِل
جی قاعدے کے تحت علامت مضارع مضموم ہوتی ہے اور وہ قاعدہ ہے ماضی جس کی ماضی میں چار حرف ہوں اس کے مضارع میں علامت مضارع مضموم ہوگی
صیغہ جمع مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف یائی از باب افتعال اصل میں اکتَیَلُو تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو اکتالو ہو گیا
فتح یفتح نصر ینصر ضرب یضرب سمع یسمع کرم یکرم
قواعد کو یاد کریں۔ ان کی دہرائی اور مشق کریں تکرار کریں
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف رباعی مجرد صحیح باب فعلل
دحرج بروزن فعلل
یہ عجمی زبان کا لفظ ہے صرفی تحقیق نہیں ہوگی
قاعدہ ہر وہ مصدر جو "فَعْلُوْلَةٌ" کے وزن پر ہو اور اس کے عین کلمہ میں واؤ آجائے تو اسے یاء سے بدل دیا جاتا ہے کودودۃ تھا اصل میں مذکورہ قاعدے کے تحت کیدودۃ ہو گیا
تلھی صیغہ واحد مذکر حاضر یا واحد مؤنث غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب افعال تلھی صیغہ ہے ھم ضمیر ہے
30 کے قریب علامات ہیں
مصدر ثلاثی مجرد اجوف یائی از باب ضرب یضرب
مصدر اور جامد میں ہفت اقسام کی پہچان حروف اصلیہ سے ہوگی جب حروف اصلیہ معلوم ہو جائیں تو پھر اس پر ہفت اقسام میں سے دیکھیں گے کہ کونسی قسم ہے
جی مصدر مسند الیہ اور مسند دونوں ہو سکتا ہے
اصل میں مختیر تھا قاعدہ واو یا یاء متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدلنا واجب ہے پھر مختار ہوا
نون اعرابی وہ نون ہے جو اسم یا فعل کے آخر میں اعراب (رفع، نصب، یا جر) کی علامت کے طور پر آتا ہے اور مختلف نحوی حالتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ نون عموماً تثنیہ، جمع مذکر سالم، اور بعض افعال کے ساتھ آتا ہے۔
اس کا قاعدہ نہیں ہے البتہ حرف حلقی کی وجہ سے نقل کر دیا گیا ہے تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ جن مثال واوی کے عین یا لام کلمہ میں حرف حلقی ہو اسے ضرب سے فتح کی طرف نقل کر سکتے ہیں لیکن یہ سماع پر موقوف ہے جن میں باب تبدیل ہوئے ہوں گے ان میں تبدیل کریں گے
مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعل رات کو جاگ کر نماز پڑھنا
فعل کی چار قسمیں ماضی مضارع امر نہی
اسم جامد ثلاثی مجرد صحیح اسم ظرف ہے منصوب ہوتا ہے مفعول فیہ بنتا ہے
یہ الف دو وجوہ سے لایا جاتا ہے ایک : واحد اور جمع میں فرق کرنے کے لئے جیسے لم۔یدعوا اور یدعو دوسری جمع کی واؤ اور واو عطف میں فرق کرنے کے لئے جیسے قالو و وجد
ثلاثی مجرد وہ کلمات ہوتے ہیں جن میں حروف اصلیہ تین ہوں اور کوئی زائد نا ہو اگر کلمہ جامد ہو اور تین حرف ہوں تو ثلاثی مجرد ہے اور اگر فعل یا اسماء مشتقہ ہوں تو ان کے فعل ماضی صیغہ واحد مذکر غائب میں تین حرف ہو تو وہ مجرد ہوگا ورنہ مزید فیہ ہوں گے
جی ان کا قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے افعال جن کی ماضی میں چار حروف ہوں ان کے مضارع میں علامت مضارع مضموم ہوتی ہے وہ ابواب یہ ہیں افعال تفعیل مفاعلہ فعللۃ ملحق بفعللۃ کے پانچ باب
مصدر کی شش اقسام میں حروف اصلیہ کو دیکھتے ہیں اور ثلاثی مجرد کا ہو تو ثلاثی مجرد کہتے ہیں اگر مزید کا مصدر ہو تو مزید فیہ کہتے ہیں جبکہ اسم جامد میں اگر تین حرف ہوں تو مجرد اور اگر کوئی حرف زائد ہو تو مزید فیہ کہیں گے
باب استفعال کے سین یا باب افتعال کے تاء کو نہیں ہٹایا جاتا باب استفعال کے تاء کو استطاع یستطیع میں سے بعض اوقات گرا دیتے ہیں
مساکین صیغہ جمع مکسر اسم مبالغہ ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر مادہ : س ک ن
یہ ایک ہی معنی میں ہوتے ہیں ایک دوسرے کی جگہ بھی استعمال ہوتے ہیں
ان کے ماضی میں چار نہیں بلکہ پانچ حرف ہوتے ہیں اس وجہ سےعلامت مضارع مضموم نہیں ہقتی
یہ اہل عرب کا طریقہ استعمال ہے کہ وہ ابواب کو منتقل کر دیتے ہیں
یہ لفظ اپنی اصل پر ہے
یہ لفظ اپنی اصل پر ہے
فعل کے مصدر سے مدد لیں ماضی اور مضارع کی حرکت کی پہچان کریں مشق کریں
اسم فعل حرف مراد ہے
اصل میں خوف تھا واو یا یاء متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدلنا واجب ہے پھر خاف ہوگیا
مبنوی قاعدہ ہر وہ واو جو دوسرے حرف سے بدلی ہوئی نہ ہو اگر کسی غیر ملحق کلمہ میں ياء کے ساتھ جمع ہو جائے اور ان میں پہلا حرف (واو ہو یا یاء) ساکن ہو تو واو کو یاء سے بدل کر یا کا یاء میں ادغام کرنا واجب ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کیا تو مبنی ہو گیا
علامہ رضی نے شرح الشافیۃ میں اس وزن کے بارے میں لکھا ہے کہ اس وزن کے انتخاب کی وجہ یہ ہے کہ یہ قلیل استعمال ہوتا ہے اس وجہ سے اس وزن کو منتخب کیا گیا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ فعل کی نسبت فاعل کی طرف ہوتی ہے اور مفعول بہ کی طرف ہونا خلاف قیاس ہے تو جب فعل کی نسبت خلاف قیاس تھی تو اس کے لئے وزن بھی ایسا اختیار گیا ہے ماخوذ از شرح الجامی و شرح الرضی علی الشافیہ
فعل لازم سے فعل مجہول جب بنایا جائے اور اس کی نسبت مفعول بہ کی طرف ہو تو اس صورت میں فعل لازم کو متعدی کرنے کے لئے اس کے آگے باء حرف جر لایا جاتا ہے جس کے ذریعے فعل متعدی ہو جاتا ہے اور باء حرف جر کے ساتھ نائب الفاعل ضمیر یا اسم ظاہر بڑھایا جاتا ہے قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ جب باء کے ذریعے فعل کو متعدی کیا جائے تو باء مفعول بہ پر داخل ہوتی ہے اور یہی ضمیر یا اسم ظاہر اصل میں مفعول بہ ہوتا ہے جو نائب الفاعل بنتا ہے
محترم پہلے ہی عرض کیا ہے کہ اصل میں یہ باب ضرب سے ہے بعد میں اسے فتح کی طرف نقل کیا ہے تو یہ باب ضرب سے ہونے کی وجہ سے واؤ گری ہے
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب نصر ینصر
اس طرح بہت اوزان ہیں ثلاثی مجرد ثلاثی مزید فیہ رباعی مجرد رباعی مزید فیہ خماسی مجرد خماسی مزید فیہ ہر ایک کے اپنے اوزان ہیں آپ نے ان میں سے کس کا پوچھا ہے
اول کی مؤنث ہے اصل میں وُوْلٰی تھا قاعدہ ابتداء کلمہ میں دو واؤ ہوں اور دوسری واو ساکن ہو تو پہلی کو ہمزہ سے بدل دیناجائز ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کو ہمزہ سے بدلا تو اولی ہو گیا
فعل ماضی مضارع امر نہی چار قسمیں ہیں
اِضطَرَّ صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مضاعف از باب افتعال اصل میں اضتَرَرَ تھا قاعدہ اگر باب اِفْتِعَالٌ کافاءکلمہ صاد، ضاد، طاء یا ظا ء ہو تو تائے اِفْتِعَالٌ کوطاءسے بدلنا واجب ہے۔ اس قاعدے کے تحت تاء کو طاء سے بدلا تو اضطرَرَ ہوگیا قاعدہ اگر دونوں ہم جنس حروف متحرک ہوں اور ان کا ماقبل حرف بھی متحرک یا مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو حذف کر کے ادغام کرنا واجب ہے پھر اس قاعدے کے تحت دونوں راء کا ادغام کیا تو اضطَرَّ ہو گیا
جی اف اسماء افعال میں سے ہے
قاعدہ جو واو ، علامتِ مضارع مفتوحہ اور کسرہ کے در میان يا علامتِ مضارع مفتوحه اور فتحه کے درمیان ایسے کلمے میں ہو جس کا عین یا لام کلمہ حرف حلقی ہو تو اسے گرا دینا واجب ہے یوذَر اصل میں باب ضرب سے یوذِر تھا تو انتقال باب ہوگیا یعنی ضرب سے فتح کی طرف نقل ہوگیا تو اسی اصل باب کی وجہ سے واؤ کو حذف کر دیا ہے
ضرب یضرب
اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح ص ب ع
مبنی ہے
صیغوں میں بظاہر مشابہت ہے لیکن واحد مؤنث اور مذکر کا صیغہ الگ ہے اس کی پہچان عبارت میں قرینے سے ہوتی ہے کہ کیا مراد ہے
دانی صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں الدانِوُ تھا قاعدہ نمبر 4 وہ واؤ جو چوتھی جگہ یا اس سے آگے واقع ہو اور اس سے پہلے ضمہ یا واو ساکن نہ ہو تو اسے یاء سے بدلنا واجب ہے۔ اس صورت میں اگر اس کا ماقبل مفتوح ہو تو اسے الف سے بدل دیں گے اس قاعدے کے تحت واؤ کو یاء سے بدل دیا تو الدانِیُ ہو گیا پھر قاعدہ نمبر 2 واؤ مضموم ما قبل مضموم یاء مضموم ما قبل مکسور کو ساکن کر دینا واجب ہے بشرطیکہ اس کے بعد واؤ مدہ نا ہو اس قاعدہ کے تحت یاء کو ساکن کر دیا تو الدانِیْ ہوگیا
خاصہ کا باب نصر ینصر ہے یہ اسم فاعل صیغہ واحد مؤنث کا صیغہ ہے ثلاثی مجرد مضاعف حروف اصلیہ خ ص ص
وذر اپنی اصل پر ہے یذر اصل میں یوذَر تھا
ان میں تعلیل نہیں ہوئی
آخر اصل میں أَأْخر تھا قاعدہ اگر کسی کلمہ میں دو ہمزہ آجائیں اور دوسرا ساکن ہو تو اسے ماقبل حرف کی حرکت کے مطابق حرفِ علت سے بدلنا واجب ہے اس قاعدے کے تحت دوسرے ہمزہ کو الف سے بدلا تو آخر ہو گیا
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب یضرب
واحد مذکر اسم ظرف ثلاثی مجرد صحیح باب نصر ینصر
واحد مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت مجھول ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر ینصر
اصل صیغہ تمّتُ بالخیر ہے واحد متکلم کا کہ مینے بالخیر کے ساتھ کتاب مکمل کی ۔ لھذا آپ کا اشکال لازم نہیں آئے گا ۔۔۔
فتح یفتح
صیغہ واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مجرد مضاعف از باب نصر ینصر
صیغہ واحد مذکر حاضر فعل مضارع مؤکد بلام توکید و نون خفیفہ ثلاثی مجرد مثال یائی از باب ضرب یضرب
اس کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں تم بالخیر بھی لکھتے ہیں اور تمت بالخیر بھی لکھا جاتا ہے جہاں تمت لکھا جاتا ہے وہاں مقصود رسالہ ہوتا ہے یعنی رسالہ بخیر انجام کو پہنچا
لفظ موضوع مفرد اسم مبنی مبنی علی السکون اتنا کہیں گے
اصل میں مکسور العین تھے لیکن وہاں سے نقل کر دیا گیا باب فتح یفتح سے تو اب یہ باب فتح یفتح سے آتے ہیں
صحۃ مصدر ہے
ان میں کوئی خاص فرق لغات کے تتبع سے نہیں ملا اتنا سمجھ آتا ہے حریر خالص ریشم کے کپڑے کو کہتے ہیں جب کہ خز خالص اور ملاوٹ والے دونوں کو کہتے ہیں
رک جاؤ
محترم یہ کوئی صیغہ نہیں بلکہ قرأ سے ایک فرضی مثال بنائی گئی ہے کہ اگر اس طرح کا کوئی صیغہ آ جائے تو اس میں کیا تبدیلی کی جائے گی
قرءء یہ فرضی مثال قاعدہ سمجھانے کے لیے
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مؤکد بنون توکید ثقیلہ معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر
ابقِ صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب اصل میں ابقِی تھا بوجہ امر یاء گر گئی ہے تو ابقِ بچ گیا
باب افعال سے
غالبا آپ عُیَیْنہ کے بارے میں پوچھ رہے ہیں یہ لفظ عین کی تصغیر ہے
یہ لفظ مصدر ہے
اسم مصدر مزید فیہ
قَالِينَ صیغه جمع مذکر اسم فاعل ناقص از باب ضرب يضرب ( دشمن رکھنے والے) راعین والے قاعدے کے تحت تعلیل ہوئی قرآن پاک میں ہے: ﴿إِنِّي لِعَمَلِكُم مِّنَ الْقَالِينَ ﴾ ۔ قرآن پاک میں تو یہ اسم فاعل ہی استعمال ہوا کیونکہ اس پر الف لام داخل ہے لیکن قالین میں ایک احتمال یہ بھی ہے کہ یہ باب مفاعلة سے امر حاضر مونث کا صیغہ ہے: قالَى يُقَالِى مُقَالَاةً - امرقَالِ قَالِيَا قَالُوا قَالِي قَالِيَا قَالِينَ ۔ اس کا معنی | دشمنی رکھنا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ اس باب سے واحد مونث امر حاضر معروف ہو یعنی قالینی۔ آخر میں نون وقایہ اور یائے متکلم ہو۔ وقف کی حالت میں یائے متکلم کے گرنے اور نون وقایہ کے ساکن ہونے کی وجہ سے قالین پڑھیں گے۔
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد مہموز الفاء اور ناقص واوی باب نصر ینصر
جمع مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی باب افتعال