عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 3,697 جوابات شدہ سوالات

فعل مضارع کے دو صیغے جمع مؤنث غائب و حاضر مبنی کیوں ہوتے ہیں؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ فعل مضارع کے معرب ہونے کی علت اسم فاعل سے مشابہت تامہ رکھنا ہے اور يَضْرِبْنَ، تَضْرِبْنَ میں اسم فاعل کے ساتھ مشابہت تامہ نہیں پائی جاتی جس کی بناء پر یہ فعل ماضی کی طرح مبنی ہیں، کیونکہ فعل ماضی میں بھی مشابہت تامہ نہیں پائی جاتی، اب رہی یہ بات کہ یہ دو صیغے اسم فاعل کے ساتھ مشابہت تامہ کیوں نہیں رکھتے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مشابہت تامہ کے لئے چھ چیزوں میں مشابہ ہونا شرط ہے، اگر ان میں سے کوئی ایک شرط فوت ہوتی تو مشابہت تامہ نہیں پائی جائے گی اور انہیں میں سے ایک حرکات و سکنات میں مشابہ ہونا ہے اور يَضْرِ بْنَ اور تَضْرِ بْنَ اسم فاعل کے ساتھ حرکات و سکنات میں مخالف ہیں کہ ان صیغوں میں پانچ حروف ہیں جبکہ اسم فاعل میں چار حروف، اور ان صیغوں کا چوتھا حرف ساکن ہے جبکہ اسم فاعل کا چوتھا حرف متحرک ہے نافہم۔

صرف1 جواب
23 دسمبر، 2024

رفع الیدین مصدر مضاف ہے اور اکیلا مضاف نا مسند ہوتا ہے نا مسند الیہ سوال یہ ہے کہ اب یہاں مصدر مسند یا مسند الیہ ہو گا یا نہیں؟ دوسرا سوال ہے کہ اکیلا مصدر ( یعنی وہ مضاف نہیں ہو رہا )مسند ہوتا ہے یا مسند الیہ

مسند یا مسند الیہ ہونا کوئی خاص لفظ کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ اس میں یہ دیکھیں گے وہ ترکیب میں کیا بن رہا ہے چند چیزیں لکھ دیتا ہوں جو مسند الیہ یا مسند بنتی ہیں اگر مصدر یا دوسرا لفظ جس کا مسند الیہ یا مسند پتہ کرنا ہو دیکھیں وہ کیا بن رہا ہے ترکیب میں مثلا مسند الیہ یہ چیزیں ہوتی ہیں فاعل نائب الفاعل مبتدا کان کا اسم ما ولا کا اسم حرف مشبہ بالفعل کا اسم لاء نفی جنس کا اسم مسند یہ چیزیں ہوتی ہیں فعل خبر کان کی خبر حرف مشبہ بالفعل کی خبر لا نفی جنس کی خبر ما ولا مشابہ بلیس کی خبر اگر مصدر ان میں سے کوئی چیز بن رہا ہے تو مسند الیہ یا مسند ہوگا ورنہ نہیں

صرف1 جواب
27 دسمبر، 2024

مبیع اسم مفعول اسکی تعلیل کیسے کریں گئے

اصل میں مبیوع تھا یاء متحرک تھی اور اس کا ما قبل ساکن تو یاء کی حرکت ما قبل دے دی پھر یاء ما قبل مضموم تھی اسے واؤ سے بدل دیا تو مبووع ہوگیا اب دونوں واؤ میں سے ایک واؤ کو حذف کیا پھر مبوع ہوگیا اس کے بعد باب کی مناسبت سے واو کو یاء سے بدلا اور ما قبل ضمہ کو کسرہ سے تو مبیع ہوگیا تعلیلات خادمیہ

صرف1 جواب
26 دسمبر، 2024

یوضع میں ض کے نیچے کسرہ تھی پھر کس قاعدے کے تہت ض پر زبر آئی

اس کا قاعدہ نہیں ہے البتہ حرف حلقی کی وجہ سے نقل کر دیا گیا ہے تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ جن مثال واوی کے عین یا لام کلمہ میں حرف حلقی ہو اسے ضرب سے فتح کی طرف نقل کر سکتے ہیں لیکن یہ سماع پر موقوف ہے جن میں باب تبدیل ہوئے ہوں گے ان میں تبدیل کریں گے

صرف1 جواب
22 دسمبر، 2024

قالوا اور فعلوا اور ان جیسے اور جو افعال ہے ان کے آخر میں یہ الف کس وجہ سے ہوتا ہے۔با حوالہ جواب کا منتظر رہوں گا

یہ الف دو وجوہ سے لایا جاتا ہے ایک : واحد اور جمع میں فرق کرنے کے لئے جیسے لم۔یدعوا اور یدعو دوسری جمع کی واؤ اور واو عطف میں فرق کرنے کے لئے جیسے قالو و وجد

صرف1 جواب
22 دسمبر، 2024

ثلاثی مجرد کی پہچان کیسے کریں

ثلاثی مجرد وہ کلمات ہوتے ہیں جن میں حروف اصلیہ تین ہوں اور کوئی زائد نا ہو اگر کلمہ جامد ہو اور تین حرف ہوں تو ثلاثی مجرد ہے اور اگر فعل یا اسماء مشتقہ ہوں تو ان کے فعل ماضی صیغہ واحد مذکر غائب میں تین حرف ہو تو وہ مجرد ہوگا ورنہ مزید فیہ ہوں گے

صرف1 جواب
15 دسمبر، 2024

جن ابواب کی علامت مضارع مضموم ہوتی ہے ۔۔۔کیا وہ کسی قاعدے کے تحت ہوتی ہے ۔۔۔۔اگر ہوتی ہے تو قاعدہ کیا ہے

جی ان کا قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے افعال جن کی ماضی میں چار حروف ہوں ان کے مضارع میں علامت مضارع مضموم ہوتی ہے وہ ابواب یہ ہیں افعال تفعیل مفاعلہ فعللۃ ملحق بفعللۃ کے پانچ باب

صرف1 جواب
17 دسمبر، 2024

مصدر اور جامد کی شش اقسام پہنچنانے کا فرق بیان کرے

مصدر کی شش اقسام میں حروف اصلیہ کو دیکھتے ہیں اور ثلاثی مجرد کا ہو تو ثلاثی مجرد کہتے ہیں اگر مزید کا مصدر ہو تو مزید فیہ کہتے ہیں جبکہ اسم جامد میں اگر تین حرف ہوں تو مجرد اور اگر کوئی حرف زائد ہو تو مزید فیہ کہیں گے

صرف1 جواب
21 دسمبر، 2024

ماضی کے شروع میں 'ما' نافیہ لگانے سے ماضی منفی بنتا ہے ایسا ہی ماضی کے شروع میں' لم' بڑھانے سے نفی جحد بلم بنتا ہے اب سوال ہے کیا ان دونوں صیغوں میں معنی کے اعتبار سے کوئی فرق ہیں ؟ دونوں کو ایک دوسرے کی جگہ استعمال کر سکتے ہیں؟

یہ ایک ہی معنی میں ہوتے ہیں ایک دوسرے کی جگہ بھی استعمال ہوتے ہیں

صرف1 جواب
22 دسمبر، 2024

مبنویٌ میں کیا تعلیل ہوئ ہے

مبنوی قاعدہ ہر وہ واو جو دوسرے حرف سے بدلی ہوئی نہ ہو اگر کسی غیر ملحق کلمہ میں ياء کے ساتھ جمع ہو جائے اور ان میں پہلا حرف (واو ہو یا یاء) ساکن ہو تو واو کو یاء سے بدل کر یا کا یاء میں ادغام کرنا واجب ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کیا تو مبنی ہو گیا

صرف1 جواب
18 دسمبر، 2024

فعل ماضی مجہول صیغہ کی پہلا حرف کیوں ضمہ ہوتا ہے

علامہ رضی نے شرح الشافیۃ میں اس وزن کے بارے میں لکھا ہے کہ اس وزن کے انتخاب کی وجہ یہ ہے کہ یہ قلیل استعمال ہوتا ہے اس وجہ سے اس وزن کو منتخب کیا گیا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ فعل کی نسبت فاعل کی طرف ہوتی ہے اور مفعول بہ کی طرف ہونا خلاف قیاس ہے تو جب فعل کی نسبت خلاف قیاس تھی تو اس کے لئے وزن بھی ایسا اختیار گیا ہے ماخوذ از شرح الجامی و شرح الرضی علی الشافیہ

صرف1 جواب
19 دسمبر، 2024

ثلاثی مجرد ابواب میں مجھول کے صیغوں کے ساتھ ضمائر کیوں لائی جاتی ہیں

فعل لازم سے فعل مجہول جب بنایا جائے اور اس کی نسبت مفعول بہ کی طرف ہو تو اس صورت میں فعل لازم کو متعدی کرنے کے لئے اس کے آگے باء حرف جر لایا جاتا ہے جس کے ذریعے فعل متعدی ہو جاتا ہے اور باء حرف جر کے ساتھ نائب الفاعل ضمیر یا اسم ظاہر بڑھایا جاتا ہے قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ جب باء کے ذریعے فعل کو متعدی کیا جائے تو باء مفعول بہ پر داخل ہوتی ہے اور یہی ضمیر یا اسم ظاہر اصل میں مفعول بہ ہوتا ہے جو نائب الفاعل بنتا ہے

صرف1 جواب
18 دسمبر، 2024

اَضْطَرَّ کی تحقیق کاہے

اِضطَرَّ صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مضاعف از باب افتعال اصل میں اضتَرَرَ تھا قاعدہ اگر باب اِفْتِعَالٌ کافاءکلمہ صاد، ضاد، طاء یا ظا ء ہو تو تائے اِفْتِعَالٌ کوطاءسے بدلنا واجب ہے۔ اس قاعدے کے تحت تاء کو طاء سے بدلا تو اضطرَرَ ہوگیا قاعدہ اگر دونوں ہم جنس حروف متحرک ہوں اور ان کا ماقبل حرف بھی متحرک یا مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو حذف کر کے ادغام کرنا واجب ہے پھر اس قاعدے کے تحت دونوں راء کا ادغام کیا تو اضطَرَّ ہو گیا

صرف1 جواب
20 دسمبر، 2024

یذر جو کہ اصل میں یوذر تھا میں کونسا قاعدہ لگا ہے؟

قاعدہ جو واو ، علامتِ مضارع مفتوحہ اور کسرہ کے در میان يا علامتِ مضارع مفتوحه اور فتحه کے درمیان ایسے کلمے میں ہو جس کا عین یا لام کلمہ حرف حلقی ہو تو اسے گرا دینا واجب ہے یوذَر اصل میں باب ضرب سے یوذِر تھا تو انتقال باب ہوگیا یعنی ضرب سے فتح کی طرف نقل ہوگیا تو اسی اصل باب کی وجہ سے واؤ کو حذف کر دیا ہے

صرف1 جواب
19 دسمبر، 2024

الدَّانِي کون سا صیغہ ہے

دانی صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں الدانِوُ تھا قاعدہ نمبر 4 وہ واؤ جو چوتھی جگہ یا اس سے آگے واقع ہو اور اس سے پہلے ضمہ یا واو ساکن نہ ہو تو اسے یاء سے بدلنا واجب ہے۔ اس صورت میں اگر اس کا ماقبل مفتوح ہو تو اسے الف سے بدل دیں گے اس قاعدے کے تحت واؤ کو یاء سے بدل دیا تو الدانِیُ ہو گیا پھر قاعدہ نمبر 2 واؤ مضموم ما قبل مضموم یاء مضموم ما قبل مکسور کو ساکن کر دینا واجب ہے بشرطیکہ اس کے بعد واؤ مدہ نا ہو اس قاعدہ کے تحت یاء کو ساکن کر دیا تو الدانِیْ ہوگیا

صرف1 جواب
18 دسمبر، 2024

قاعدہ ہے کہ بعض افعال میں عین یا لام کلمہ کے حروف حلقی سے تعلق رکھنے کی وجہ سے عین کلمہ کو فتحہ دیا جاتا ہے لیکن حقیقتا اور تقدیرا وہ مکسور ہی ہوتا ہے جیسے وضع یضع ۔۔۔۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر عین کلمہ حقیقتہ مکسور ہوتا ہے تو ہم اس کا باب فتح یفتح کیوں بیان کرتے ہیں

اصل میں مکسور العین تھے لیکن وہاں سے نقل کر دیا گیا باب فتح یفتح سے تو اب یہ باب فتح یفتح سے آتے ہیں

صرف1 جواب
17 دسمبر، 2024

قالین کی صرفی تحقیق فرما دیں

قَالِينَ صیغه جمع مذکر اسم فاعل ناقص از باب ضرب يضرب ( دشمن رکھنے والے) راعین والے قاعدے کے تحت تعلیل ہوئی قرآن پاک میں ہے: ﴿إِنِّي لِعَمَلِكُم مِّنَ الْقَالِينَ ﴾ ۔ قرآن پاک میں تو یہ اسم فاعل ہی استعمال ہوا کیونکہ اس پر الف لام داخل ہے لیکن قالین میں ایک احتمال یہ بھی ہے کہ یہ باب مفاعلة سے امر حاضر مونث کا صیغہ ہے: قالَى يُقَالِى مُقَالَاةً - امرقَالِ قَالِيَا قَالُوا قَالِي قَالِيَا قَالِينَ ۔ اس کا معنی | دشمنی رکھنا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ اس باب سے واحد مونث امر حاضر معروف ہو یعنی قالینی۔ آخر میں نون وقایہ اور یائے متکلم ہو۔ وقف کی حالت میں یائے متکلم کے گرنے اور نون وقایہ کے ساکن ہونے کی وجہ سے قالین پڑھیں گے۔

صرف1 جواب
16 دسمبر، 2024